Pinned Tweet
تعجب یہ نہیں کہ ہم لوگ بھٹکے ہوئے ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر بھٹکا ہوا شخص دوسرے کو راہِ راست پر لانا چاہتا ہے ..! 😭
ایک پرانی کہاوت ہے کہ میرے راستے میں کانٹے نہ بچھاؤ
کیا پتہ کل تمہیں مجھ سے ملنے آنا پڑ جائے؟
مکافات عمل برحق ہے۔ دوسروں کے لیے راستے آسان کریں تاکہ کل آپ کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں
لوگ ڈپریشن کا ڈرامہ نہیں کرتے،
وہ ٹھیک ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔
وہ مسکراتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، روزمرہ کے کام بھی نبھاتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ اندر سے بھی اتنے ہی ٹھیک ہوں جتنے باہر سے دکھائی دیتے ہیں۔
اس لیے اپنے اردگرد موجود لوگوں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مہربانی سے پیش آئیں۔ کسی کے خاموش ہونے، بدل جانے یا خود کو الگ کر لینے پر فوراً فیصلہ نہ سنائیں۔
کیونکہ ہر چہرہ اپنی پوری کہانی نہیں بتاتا، اور ہر شخص کسی نہ کسی ایسی مشکل سے گزر رہا ہو سکتا ہے جس کا آپ کو اندازہ بھی نہ ہو۔
کبھی کبھی آپ کے چند نرم الفاظ، تھوڑی سی توجہ اور بغیر فیصلہ کیے کسی کی بات سن لینا، اس شخص کے لیے بہت بڑی مدد بن سکتا ہے۔
قرآن پاک نے ہمیں خبر دی کہ بانجھ بڑھیا حاملہ ہو گئی، کنواری عورت نے بچہ جنا، چھری نے ذبح نہیں کیا، آگ نے جلایا نہیں، مچھلی نے نگل لیا مگر ہضم نہیں کیا، پتھر سے اونٹنی نکلی، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، شیر خوار بچے نے بات کی، سمندر پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اُس ناممکنات کے رب سے تم کیسے یہ گمان کر سکتے ہو کہ وہ تمہاری ممکن حاجات پوری نہیں کرے گا❤️❤️
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگ سچائی کو کڑوا کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، جبکہ خوشامد اور چاپلوسی کرنے والوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ حقیقت پسند بنیں، کیونکہ عارضی تعریف سے بہتر وہ سچ ہے جو آپ کی اصلاح کر سکے۔ 💯✨
رَبِّ إِلَيَّ لِمَا أَنزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ
"اے میرے اللہ ! تو جو بھی بھلائی میری طرف اُتارے میں اس کامحتاج ہوں۔۔"
امام معروف کرخی (رحمہ اللہ)
ابراہیم البکاء نے معروف کرخی سے عرض کی: "مجھے کوئی وصیت کیجیے؟"
آپ نے فرمایا:
"اللہ پر ایسا توکل (بھروسہ) کرو کہ تمہاری ہر شکایت کا مرکز صرف وہی ایک ذات ہو، کیونکہ لوگ نہ تمہیں کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان دے سکتے ہیں۔"
شعب الایمان (1260)
جو لوگ آپکا مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ گروہ بنا کر دوسروں کے دلوں میں آپ کے لیے نفرت پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں .......!!!
اگر زندگی میں خوش رہنا چاہتے ہو تو کسی بھی جملے کو اپنی ذاتی توہین نا سمجھیں بلکہ بولنے والے کی کم ظرفی سمجھ کر آگے بڑھ جائیں۔۔!!
نہ طاق راتیں، نہ ماتھے کا تلک،
نہ پانچ وقت کی دوڑ، نہ ایک ماہ کی بھوک،
حقوق العباد کا معاملہ بڑا کٹھن ہے۔
پھر اچانک ہم ایک ایسے شخص میں بدل جاتے ہیں جو کسی کو ملامت نہیں کرتا، جو بے فائدہ بحث سے گریز کرتا ہے۔ جانے والوں کو خاموشی سے دیکھتا ہے اور صدموں کو پراسرار سکوت کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔
✍🏻"خود احتسابی مومن کی زندگی کا آئینہ ہوتی ہے وہ دوسروں کو نہیں پہلے خود کو دیکھتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو مان لینا کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہے۔ جو روز اپنا محاسبہ کرتا ہے وہ سنورنے لگتا ہے".......!








