Pinned Tweet
The Pakistan Army is playing PUBG with the Afghans every shot a perfect headshot. 🎯
#Afghanistan #Pakistan
Amna Aman retweeted
Why JUI is worried about notice on a property owned by some Amanulllah. What is link of mfr to this property‼️is it بے نامی property ‼️one of many of fazloo ???
Why a religious party worried on this ??
How Asjad saying it’s fazloo property ??
Amna Aman retweeted
فضلُو ہر حکومت سے سودا کرتا رہا۔
#دین_فروش_سیاستدان #تمہاری_سیاست_پر_تھو
عالیہ محبوب نے کامران مرتضی کی بیوی عالیہ کامران کے تمام کالے کرتوت بے نقاب کر دیے۔ عالیہ کامران قومی اسمبلی میں نشست کے بدلے فضلو اور اس کے بیٹوں کے کالے دھن کو صاف کرنے کے لیے واشنگ مشین کا کام ادا کر رہی ہے۔
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
فضل الرحمٰن کا انجام نوشتۂ دیوار ہے۔ اس نے جتنا زہر اگلنا تھا، اگل لیا۔ اب معافی تلافی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اسے اپنے کیے کا حساب دینا ہوگا اور اپنا کھایا پیا بھی اگلنا ہوگا۔ اگلے ایک دو روز میں اس کے خلاف کارروائی شروع ہونے کی توقع ہے۔
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
Amna Aman retweeted
🚨🚨خواجہ سرا پنکی کے مطابق اگر کامران جلیبی نے منہ بند نا رکھا تو وہ تمام راز افشاں کر دے گی !!!
Amna Aman retweeted
چنبیلی خواجہ سرا نے کامران جلیبی کو سخت تنبیہ کر دی ہے کہ وہ اپنا منہ بند رکھے، ورنہ اگر زیادہ بولتا رہا تو ایسے بڑے بڑے راز فاش ہو جائیں گے جو سب کو حیران کر دیں گے۔
Amna Aman retweeted
بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو کے تحت کیچ کے ہوشاب میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کی سولرائزیشن مکمل۔
فروری سے جون 2025 تک 50 لاکھ روپے لاگت سے سولر پینلز، بیٹریاں اور انورٹرز نصب کیے گئے۔ اب طلباء کو بلا تعطل بجلی اور بہتر تعلیمی ماحول میسر ہوگا۔
ویسے جس قسم کا فضلوں کا کردار سامنے آ رہا ہے اس پر ارٹیکل سکس کے تحت کاروائی ہونی چاہیے
#فضلو_تیرے_کردار_پہ_تھو
ایک سیاسی گدھ نے عوامی پیسے کو اپنا باپ کا مال سمجھ کر ہاتھ صاف کیا، غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے مدرسے بنائے اور پاکستان دشمن افغانوں کو غیر قانونی طور پر اپنے مدارس میں پناہ دی۔
#فضلو_تیرے_کردار_پہ_تھو
Amna Aman retweeted
ایک سیاسی گدھ نے عوامی پیسے کو اپنا باپ کا مال سمجھ کر ہاتھ صاف کیا، غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرکے مدرسے بنائے اور پاکستان دشمن افغانوں کو غیر قانونی طور پر اپنے مدارس میں پناہ دی۔
#فضلو_تیرے_کردار_پہ_تھو
تو کیا کر لو گے پاکستان کا؟
کسی مسجد میں پھٹو گے یا کسی بس سٹاپ پر پھٹنے کا ارادہ ہے؟
اس کے علاوہ تو کچھ کرنے کی تمہاری اوقات ہی نہیں ہے۔
40 سال تک تم احسان فراموشوں کو پاکستان نے پناہ دی، عزت دی، روزگار دیا اور ہمیں ہی سانپ کی طرح ڈس لیا؟
پانچ ہزار سال تاریخ میں تم لوگوں نے یہ ترقی کی ہے کہ یا منشیات بیچ کر کھاتے ہو یا بھارت اور اسرائیل سے پیسے لے کر دہشت گردی کرتے ہو یا پھر چھوٹی بچیوں کو شادی کے نام پر بیچ کر کمائی کرتے ہو ۔
اگلے پانچ ہزار سال بھی لگے رہو گے تو تم لوگ یہی کرو گے۔
کیونکہ حسد، بغض، نفرت اور جہالت تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ پاکستان کی تو تم دشمنی کے بھی قابل نہیں ہو
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
عالیہ محبوب نے کامران مرتضی کی بیوی عالیہ کامران کے تمام کالے کرتوت بے نقاب کر دیے۔ عالیہ کامران قومی اسمبلی میں نشست کے بدلے فضلو اور اس کے بیٹوں کے کالے دھن کو صاف کرنے کے لیے واشنگ مشین کا کام ادا کر رہی ہے۔
#دین_فروش_سیاستدان
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
Amna Aman retweeted
نوشکی میں BLA کی بز دلانہ کارروائی نے اگرچہ معصوم طالبات کو نشانہ بنایا، لیکن وہ ان بچیوں کے والدین کے حوصلوں کو متزلزل نہ کر سکی۔ خون سے لِپٹی کتابیں اور غمزدہ چہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ علم کی شمع کو دہشت گردی کے تاریک ترین اندھیرے بھی نہیں بجھا سکتے۔
Amna Aman retweeted
یہ کامران مرتضی، طلحہ محمود اور اعظم سواتی تو ماہانہ 40/50 لاکھ خرچہ کرنے والے ہیں. فضل الرحمن کا اصل خرچہ پانی سعودیہ عرب سے آتا ہے
وہاں کام کرنے والے کئی ٹھیکیدار انکا ذاتی اور کُچھ مخیر خاندان انکی تنظیم و مدارس کا خرچہ بھیجتے ہیں. جس دن سعودیہ سے فون آیا فضل الرحمن اور پارٹی کے باقی #دین_فروش_سیاستدان خاموش ہوجائینگے
#تمہاری_سیاست_پر_تھو
چلو کن کترو اب برمنگھم کو بند کرو ۔
اب وہاں بھی ’بند مطلب بند ‘ کی تحریک چلاؤ۔ کیونکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما اور پی ٹی آئی کارکن خواجہ انعام مانی کو پاکستانی قونصل خانے کے باہر ہنگامہ آرائی پر برمنگھم پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ چند روز قبل بھی اس کی وجہ سے وہاں دھینگا مشتی اور لڑائی ہوئی تھی جس دوران اس نے ایک شخص کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا تھا۔ خواجہ انعام مانی کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ہر جگہ کو آزاد کشمیر سمجھ رکھا تھا کہ جہاں چاہیں اہلکاروں پر گولیاں برسائیں، لوگوں کو ماریں، ڈرائیں اور دھمکائیں
#دین_فروش_سیاستدان
فضل الرحمٰن کے مالی معاملات پر اعتراضات کی فہرست خاصی طویل ہے۔
پاکستان کے تقریباً 40 ہزار مدارس میں سے 20 ہزار غیر رجسٹرڈ فضل الرحمان اور JUI کے زیرِ اثر ہیں۔ مدارس کی رجسٹریشن اور آڈٹ کی مخالفت بھی یہی کرتے ہیں کیوں؟
2004ء میں کارگل شہداء کے اہلِ خانہ اور فوجی اہلکاروں کے لیے مختص 600 کنال اراضی اپنھ فرنٹ مینوں کے نام منتقل کراٸ۔
ایم ایم اے دورِ حکومت 2006ء میں فرنٹ مینوں کے ذریعے 3,640 کنال اراضی حاصل کرنے کا معاملہ بھی حل طلب ہے۔
دسمبر 2020ء میں جنرل ٹرانسپورٹ سروس کے خاتمے کے بعد اس کی 64 کنال قیمتی اراضی کروڑوں روپے کی مالیت کے باوجود صرف 40 لاکھ روپے میں جمعیت کو منتقل کرنے کا کیس بھی حل طلب ہے۔
گومل خان اور دیگر قریبی افراد کے نام بے نامی جائیدادوں اور بیرونِ ملک اثاثوں کا معاملہ بھی سامنے آچکے۔
چک شہزاد اسلام آباد میں تین ارب روپے کی اراضی، دبئی میں فلیٹ، اسلام آباد، پشاور، کراچی، کوئٹہ، شورکوٹ اور ڈی آئی خان میں مکانات، دکانیں اور دیگر جائیدادیں کس ذرائع آمدن سے حاصل کی گئیں؟
نیب نے 2020ء میں آمدن سے زائد اثاثوں کے معاملے پر 26 سوالات پر مشتمل سوالنامہ بھی بھیجا تھا۔
جس کا جواب چھ سال سے نہیں ملا۔
بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ڈیزل پرمٹ حاصل کرنے اور اسے آگے فروخت کرنے کے کے باعث ہی ا سے ’’مولانا ڈیزل‘‘ کہا جانے لگا۔
حج کوٹے کی غیر قانونی فروخت اور فرنٹ مینوں کے ذریعے کمپنیوں کو کوٹہ دلوانے کے الزامات بھی وفاقی وزرا کی پریس کانفرنسوں میں سامنے آئے۔
2003ء میں 17ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں ان کا کردار اور پرویز مشرف کے دورِ حکومت کو آئینی جواز دینے کا معاملہ بھی ان کے سیاسی ریکارڈ کا حصہ ہے۔
26ویں آئینی ترمیم میں اس کے مالی مفادات کے حوالے سے بھی انکشافات ہوئے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ فضل الرحمٰن۔ کے بھائیوں، بیٹوں، دامادوں اور قریبی ساتھیوں کے پاس اربوں روپے کے اثاثے کہاں سے آئے؟ بیٹے اسد محمود کے سرکاری ٹھیکوں، بھائی ضیاء الرحمٰن کے اثاثوں اور سرکاری ترقیاتی منصوبوں، داماد فیاض علی اور سمدھی حاجی غلام علی کی بنا کسی کاروبار کے بننے والی اربوں روپوں کی جائیدادوں اور بینک بیلنس کا جواب کون دے گا؟
فضل الرحمٰن خود بتائیں کہ ان کے اور ان کے خاندان کے مستقل ذرائع آمدن کیا ہیں؟
ان جائیدادوں کی خریداری کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور ان کے پُرتعیش طرزِ زندگی کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں؟
مذہب اور سیاست کے نام پر عوام سے ووٹ لینے والے رہنما کو اپنے مالی معاملات میں شفافیت اور جواب دہی سے استثنا کیوں ملنا چاہیے؟
#دین_فروش_سیاستدان #تمہاری_سیاست_پر_تھو
پشاور کی فضا پاکستانی پرچموں کے رنگ میں رنگ گئی۔
ڈی جی آٸ ایس پی آر کے ہمراہ حب الوطنی سے سرشار، شاداں وفرحاں کھڑے طلبا و طالبات کی آواز میں قومی ترانہ گونجا تو وطن سے محبت کا جذبہ ہر دل میں اتر گیا۔ 🇵🇰
یہ ہے بدلتا، نکھرتا اور مضبوط خیبرپختونخوا جہاں نئی نسل کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد🇵🇰
#Pakistan
فضل الرحمٰن کے بیانات آجکل بھارتی میڈیا کو پاکستان کی معیشت اور اندرونی سیاسی اختلافات کے خلاف پروپیگنڈے کا مواد فراہم کرنے لگے ہیں
سوال یہ ہے کہ آخر ملکی مسائل پر بات کرنے کے لیے بار بار بھارت کی مثالیں دینے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ حکومت پر تنقید ہر سیاست دان کا حق ہے مگر تنقید اور ایسی گفتگو میں فرق ہوتا ہے جسے پاکستان مخالف میڈیا اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرے۔
یہ تو لگتا ہے کہ جان بوجھ کر بھارت کو موقع دیا جارہا ہے۔
افسوس کہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے ملک کی کمزوریوں کو اچھالنے والے یہ نام نہاد سیاسی لیڈرز نہیں سوچتے کہ ان کے الفاظ سرحد پار کس طرح پیش کیے جا رہے ہیں۔
اختلاف ضرور کریں مگر اتنا تو خیال رکھیں کہ سیاسی مخالفت میں پاکستان کا مقدمہ کمزور نہ ہو اور دشمن کے پروپیگنڈے کو خود اپنے ہاتھوں سے تقویت نہ دیتے رہیں
ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر 2 نے 29 اکتوبر 2026 کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی۔
تھانہ آبپارہ میں اکتوبر 2024 میں درج مقدمے کا تعلق انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے موقع پر سیکیورٹی روٹ سے رکاوٹیں ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے الزامات سے ہے۔ جج طاہر عباس سپرا کی جانب سے سنائے گئے فیصلے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 186 اور 353 کے تحت ایک اور دو سال قید، جبکہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(h) کے تحت دس سال قید اور جرمانے کی سزا درج ہے۔
عدالت نے تمام سزائیں بیک وقت چلانے اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ دینے کا حکم دیا، جس کے باعث دونوں کو مجموعی طور پر دس، دس سال قید کی سزا کا سامنا ہے۔
اس مقدمے کو محض آزادیِ اظہار کے عنوان سے بیان کرنے کے بجائے اس کے اصل قانونی نکات کو سمجھنا ضروری ہے۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ سیکیورٹی روٹ سے رکاوٹیں ہٹانے اور سرکاری اہلکاروں کے کام میں مداخلت سے امن و امان اور سیکیورٹی انتظامات متاثر ہوئے، جبکہ دفاع کی جانب سے کارروائی اور دہشت گردی کی دفعات پر اعتراضات بھی سامنے آئے تھے۔
اب عدالت کے فیصلے کے بعد دونوں مجرمان کے پاس اپیل کا حق محفوظ ہے ۔
قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی ہے کہ نہ کسی کو محض شہرت یا سیاسی شناخت کی بنیاد پر استثنا ملے اور نہ کسی ملزم کے قانونی حقوق نظرانداز ہوں
فیصلہ عدالت کا ہے اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق بھی قانون ہی کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے۔
#UmmahTrustsAsimMunir
2019 میں بھی مفتی محمود مرکز پشاور کو غیر قانونی تجاوزات کا نوٹس مل چکا ہے
لو فضلو پھر جھوٹا ثابت ہو گیا
#UmmahTrustsAsimMunir
















