
Executive Producer /HOD Programming Dept. @PublicNews_Com | Columnist | PHD research scholar | Communication Strategist | Business Development & Marketing
لاہور, پاکستان
Joined May 2012
- Tweets9.4K
- Following620
- Followers2.6K
- Likes1.4K
Pinned Tweet
Without journalists, there is no journalism.
Without journalism, there is no democracy.
#iDefendJournalism, and you?
Previous year column on world press freedom day
#WorldPressFreedomDay
US midterms delivered a historic Democratic sweep — both House and Senate flip in a clear voter rebuke of Trump. High prices from tariffs and the Iran war drove the result. Democrats now gain major leverage on spending, investigations, appointments, and legislation for the rest of Trump’s term. A sharp domestic check on the White House.
#USMidterms
Global markets are already reacting to the Democratic midterm sweep:
clean-energy stocks up, defense names down, dollar softer. Trading partners see more room to push back on tariffs, while energy markets are quietly betting on a possible Iran de-escalation. The political check in Washington is being felt far beyond US borders.
#USMidterms
1/ Democrats’ midterm sweep (House + Senate) is already rippling worldwide. Voters delivered a sharp rebuke to Trump over high prices driven by tariffs and the Iran war.
2/ On trade: Countries that pledged big investments to dodge US tariffs may now slow-walk them. Analysts see breathing room for India negotiations and “fragile stability” with China.
3/ On Iran & energy: Markets are pricing in a higher chance of diplomacy. Oil has eased on the news, but global fuel prices remain elevated after months of disruption.
4/ Other effects: European clean-energy stocks jumped
Defense names slipped on fears of tighter US military spending
Ukraine aid could face renewed Democratic pressure
#USMidterms #Trump #GlobalMarkets
لاہور کے دل میں واقع مونال کے خوبصورت روف ٹاپ پر میڈیا کے دیرینہ دوستوں کے ساتھ ایک یادگار 'ہائی ٹی'۔ اس پُرتکلف اور خوشگوار ماحول میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر سیر حاصل گفتگو اور فکری تبادلہ خیال ہوا۔بہترین میزبانی اور اس شام کو یادگار بنانے پر سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی محترم شکیل ترابی صاحب اور پیارے بھائی راشد منظور کا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں
جب آپ کا اپنے مقصد پر یقین اتنا اٹل ہو کہ شکست کا خیال بھی دل میں نہ آئے، تو فاصلے کتنے ہی طویل کیوں نہ ہوں، راستے خود بخود ہموار ہوتے چلے جاتے ہیں۔یاد رکھیے، کامیابی کے دروازے صرف ان پر کھلتے ہیں جو حالات کے رحم و کرم پر نہیں، اپنے عزم اور حوصلے کی شناخت رکھتے ہیں۔نگاہیں صرف اپنے ہدف پر رکھیے، مسلسل محنت کا دامن تھامے رہیے اور ذاتِ باری تعالی پر کامل بھروسہ رکھیے؛ کیونکہ خلوص اور استقامت سے کی گئی کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔آخری منزل اسی کا مقدر بنتی ہے جس کے خوابوں میں تپش اور ارادوں میں فولادی یقین ہو
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں چیف سیکریٹری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعینات کر دیا گیا
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں
ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان اس سے قبل وفاقی وزارتِ توانائی کے پاور ڈویژن میں سیکریٹری تعینات تھے
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کی بطور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا تعیناتی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی
صدر پاکستان کا خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی کا اعلان
دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، صدارتی اعلان
سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، اعلامیہ
صوبائی حکومت دہشت گردی اور لاقانونیت کے مؤثر تدارک کے لیے مطلوبہ عزم اور اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی، اعلامیہ
گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کے تعطل اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام نہ کر سکنے کی نشاندہی۔اعلامیہ
صدر مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سنگین ایمرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری قرار دیا
صدارتی اعلان آئین کے آرٹیکل 232(1) اور آرٹیکل 234(1) کے تحت جاری کیا گیا۔اعلامیہ
ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔اعلامیہ
وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی ۔ اعلامیہ
گورنر خیبر پختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے تفویض کردہ صوبائی حکومتی امور انجام دے سکیں گے ۔ اعلامیہ
صوبائی اسمبلی کے علاوہ صوبے کے دیگر اداروں اور حکام کے تمام یا بعض اختیارات وفاقی حکومت کی ہدایت پر گورنر استعمال کر سکیں گے ۔اعلامیہ
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے ۔اعلامیہ
وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل اپنے عہدے فوری طور پر چھوڑ دیں گے ۔اعلامیہ
صدارتی اعلان فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اعلامیہ
وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی منظوری دے دی
وزیراعظم ہاؤس سے صدر کو ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے ایڈوائس بھجوا دی گئی
معروف قوال اور ہمارے پیارے بھائی شیر میانداد خان کے کامیاب دورۂ امریکہ اور شاندار پروگرامز کے بعد وطن واپسی پر ایک خصوصی نشست!
ہمارے آنے والے 'صوفی نائٹ' پروگرام کی منصوبہ بندی اور دیگر اہم تفصیلات پر گفتگو کے بعد ایک یادگار تصویر۔شیر میانداد صاحب ہمیشہ کی طرح ایک بہترین میزبان ثابت ہوئے۔ پُرتکلف کھانے اور شاندار مہمان نوازی کا تہہ دل سے شکریہ! اللہ پاک سلامت رکھے اور آپ یونہی محبتیں بانٹتے رہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع ،اب انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر ہوگی
موٹروے کو چھ مختلف مقامات سے صورتحال کی پیش نظر بند کر دیا گیا
پشاور موٹر وے ہارون انٹرچینج سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا
ہزارہ موٹروے کو برہان انٹرچینج سے بند کر دیا گیا
راولپنڈی کوہاٹ روڈ کو خوشحال گڑھ سے بند کر دیا گیا
سی پیک کو کانی بریج سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا
جی ٹی روڈ کو اٹک خرد کے مقام سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا
ایبٹ آباد،حسن ابدال کو جھاری کس چیک پوسٹ سے مکمل طور پر بند کر دیا گیا
پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 12 روپے 90 پیسے اضافہ
پٹرول کی نئی قیمت 358 روپے 77 پیسے مقرر ، نوٹیفیکیشن
ڈیزل کی نئی قیمت 381 روپے 77 پیسے مقرر
#Petrolprices
2 کروڑ روپے میں گھر خریدنا بہتر ہے یا 2 کروڑ بزنس میں انویسٹ کر کے 1 لاکھ روپیہ رینٹ دے کے اسی گھر میں رہنا بہتر ہے ؟ مشورہ دیں پلیز
نظام کی تبدیلی یا ری سیٹ؟
کالم : عتیق چوہدری
پاکستان شدید سیاسی بے یقینی، انتظامی تنزلی اور گہرے معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔آئی ایم ایف نے گورننس اور کرپشن رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و معاشی اشرافیہ نے ریاستی پالیسی سازی پر عملاً قبضہ جما رکھا ہے۔ یہی وہ سنگین المیہ ہے جس کے باعث ملک کی حقیقی، پائیدار اور ہمہ گیر ترقی کے تمام راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی بینک نے بھی پاکستان کے موجودہ معاشی اور انتظامی ماڈل کو ناکام قراردیا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ سوال ہر ذی شعور شہری کے ذہن میں شدت سے ابھر رہا ہے کہ عوام کو سستی، آسان اور بروقت سہولیات کی فراہمی، قانون کی حکمرانی اور معاشی انصاف کے لیے کن انقلابی اقدامات اور بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے؟عدلیہ سے متعلق 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد، اب ملکی انتظامی اور حکمرانی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کی آوازیں پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو رہی ہیں۔ اس بحث نے اس وقت باقاعدہ ایک قومی ڈیبیٹ کی شکل اختیار کی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں ملکی گورننس کی بہتری کے لیے 'سسٹم ری سیٹ' اور نئے انتظامی یونٹس کی واضح تجویز پیش کی۔ اس کے فوراً بعد ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی ایک پریس بریفنگ میں اس کی تائید کرتے ہوئے یہ اہم اعداد و شمار سامنے رکھے کہ 1971ء میں پاکستان کی آبادی 7 کروڑ تھی اور صوبے 4 تھے؛ جبکہ آج آبادی بڑھ کر 25 کروڑ ہو چکی ہے مگر انتظامی صوبے وہی 4 ہیں۔ اس سنگین مسئلے کا انتظامی نقطہ نظر سے جائزہ لینا ازحد ضروری ہے۔ موجودہ تناظر میں اس تجویز کے سامنے آتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کا ردِعمل روایتی تقسیم کا عکاس نظر آتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ میں کسی بھی نئے صوبے کے قیام کو سادہ الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک موقف اپنایا ہے کہ سندھ کے عوام کسی صورت تقسیم قبول نہیں کریں گے۔ دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر سندھ میں تجاویز کے مطابق کراچی کو وفاق کے سپرد اور گوادر کی طرح آزاد انتظامی حیثیت دی جائے تو حیدرآباد اور سکھر کے بعد باقی دیہی سندھ کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے جہاں پیپلز پارٹی کا اصل ووٹ بینک موجود ہے۔پنجاب کو دیکھا جائے تو وہاں نئے صوبوں کی تشکیل پر کوئی شدید سیاسی یا عوامی اختلاف پایا نہیں جاتا۔ پنجاب اسمبلی ماضی میں بھی جنوبی پنجاب صوبے کی باقاعدہ منظوری دے چکی ہے، اور شمال و وسطی پنجاب میں نئے یونٹس پر بھی زیادہ اعتراضات موجود نہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہزارہ کو علیحدہ صوبہ بنانے کی تحریک ایک طویل عرصے سے چلی آ رہی ہے، جبکہ بلوچستان میں گوادر کو وفاقی انتظام میں دینے یا صوبائی اختیارات کے حوالے سے پرانے خدشات اور سوئی گیس رائلٹی جیسے حساس مسائل ماضی کی طرح آج بھی موجود ہیں۔نئے صوبوں کی تشکیل پر اعتراض اٹھانے والے عموماً دو اہم سوالات سامنے لاتے ہیں: اول یہ کہ نئے بننے والے صوبے اپنے انتظامی اور ترقیاتی اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ اور دوم یہ کہ زیادہ صوبے بنانے سے مرکز یعنی وفاق کا غلبہ بڑھ جائے گا جس سے 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والی صوبائی خودمختاری متاثر ہوگی۔ ان سوالات کا جواب نہایت منطقی اور سادہ ہے۔ دنیا بھر کا مسلمہ اصول ہے کہ جب نئے انتظامی صوبے تشکیل پاتے ہیں تو ان کے اندر مقامی سطح پر محصولات اور ٹیکس جمع کرنے کا نیا اور مؤثر نظام خود بخود وجود میں آتا ہے، جس سے وقت کے ساتھ ان کی آمدنی اور خودانحصار میں بالترتیب اضافہ ہوتا ہے۔اگر عالمی مثالوں کو دیکھا جائے تو امریکہ میں 50 سے زائد ریاستیں اور ہمارے ہمسائے بھارت میں 28 ریاستیں اور 8 یونین ٹیریٹریز (مجموعی طور پر 30 سے زائد انتظامی یونٹس) موجود ہیں، اور وہ سب اپنے آئینی دائرے میں مکمل خودمختار ہیں۔ وہاں وفاق اور ریاستوں کے اختیارات کی سرحدیں واضح اور متعین ہیں۔ محض مفروضوں اور خدشات پر تکیہ کر کے خاموش بیٹھ جانا یا اصلاحات سے خوفزدہ ہونا مسائل کا حل نہیں ہو سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم نے اختیارات اور مالیاتی وسائل کو وفاق سے صوبائی دارالحکومتوں (یعنی وزرائے اعلیٰ اور صوبائی کابینہ) تک تو منتقل کر دیا، لیکن صوبوں نے آگے اضلاع، شہروں اور عام عوام تک ان اختیارات اور این ایف سی ایوارڈ کے ثمرات نہیں پہنچنے دیے۔ اختیارات کا مرکز محض صوبائی دارالحکومت بن کر رہ گیا، جس کی وجہ سے نچلی سطح پر عوام بنیادی سہولیات سے مسلسل محروم رہے۔ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال آئین کے آرٹیکل 239 میں ایسی ترمیمی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ صوبائی اسمبلیوں کی دو تہائی اکثریت کی شرط نئے صوبوں اور انتظامی بہتری کی راہ میں سیاسی رکاوٹ نہ بن سکے۔












