"پی ٹی آئی کے لوگوں کو بھی سچ اور حقیقت کا پتہ چلنا چاہیے۔ میں ایک مثال دیتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے ہمارے دوست جو ڈرافٹ لے کر آئے تھے، اس میں لکھا ہوا تھا کہ خان صاحب کے وکلاء اور فیملی وغیرہ کی ملاقاتیں شروع ہو جائیں گی۔ ہم نے کہا کہ اس میں 'نامزد وکلاء' لکھیں۔ ہر وکیل کا ملنا ممکن نہیں ہے؛ پہلے بھی ایسا ہوتا تھا کہ کوئی بھی وکیل کے نام پر مل لیتا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ جو وکلاء ہماری طرف سے نامزد ہوں، وہی خان صاحب سے جا کر ملیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ تبدیل نہیں کر سکتے، ہمیں پوچھنا پڑے گا۔ چنانچہ 'نامزد وکلاء' لکھنے کے لیے بھی اجازت لی گئی، جو کہ مل گئی۔
پھر ڈرافٹ کے بیچ میں ایک جملہ دو دفعہ لکھا گیا۔ یہ بات سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے؛ اس کا مضمون یہ تھا کہ ملاقات کے بعد اس سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا یا سیاسی بیان بازی نہیں ہوگی۔ ہم نے کہا کہ یہ جملہ آپ نے دو دفعہ لکھ دیا ہے، اسے کاٹ دیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہم پوچھ کر کاٹیں گے، وہ خود اسے کاٹ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سامنے جو لوگ بیٹھے تھے، وہ بااختیار نہیں تھے۔ اس کے برعکس ہم نے یہ نہیں کہا کہ ہم عمران خان سے پوچھ کر بتائیں گے، ہم تو وہاں بیٹھ کر خود فیصلے کر رہے تھے۔
اختلاف وہاں پیدا ہوا جب انہوں نے کہا کہ اب کے پی کے میں ایمرجنسی لگائی جائے گی اور وہاں آپریشن کیا جائے گا۔ صوبہ باقاعدہ وفاق کے ساتھ بیٹھ کر تحریری معاہدہ کرے گا اور بغیر کسی شرط کے پابند ہو کر ساتھ دے گا۔ ہم نے کہا کہ یہ بات تو صوبے کے ساتھ کرنے والی ہے۔ یہ وفاق اور صوبے کے معاملات ہیں، انہیں وہاں زیرِ بحث لائیں۔
جب ہم نے صوبے کو آن بورڈ لیا تو انہوں نے بتایا کہ ہماری صوبائی اسمبلی میں باقاعدہ تمام سٹیک ہولڈرز نے—جن میں اے این پی، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، جماعتِ اسلامی اور ہم شامل تھے، حتیٰ کہ چیمبر آف کامرس اور وکلاء بار کی بھی نمائندگی موجود تھی—سب نے متفقہ طور پر آپریشنز کے حوالے سے ایک قرارداد بھیجی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر کیسے عمل ہوگا۔ ہم نے کہا کہ ہم نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہیں لیکن ایک اتفاقِ رائے کے ساتھ کریں گے، تاکہ آپ کو پورے صوبے کی سیاسی جماعتوں کی سپورٹ حاصل ہو۔ عوام بھی پھر آپ کا ساتھ دیں گے، کیونکہ جب منتخب نمائندے آپ کا ساتھ دیں گے تو ہی یہ کامیاب ہوگا۔"
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
MHX retweeted
آجکل ناچنے گانے والوں ( مراثیوں) کا دور ہے زیشان روکھڑی بتاتا ہے کہ ایک اچھے پروگرام میں ایک رات کا میں پچاس لاکھ کما لیتا ہوں
مہک ملک کہتی ہے میں صرف ایک ہفتہ اسٹیج ڈرامہ کروں تو تیس پینتیس لاکھ کما لیتی ہوں اور شادی کے فنکشن الگ سے
مشہور ٹک ٹاکر اسد (Sid Mr Rapper) بتاتا ہے کہ میں ٹک ٹاک سمیت مختلف سوشل میڈیا ایپس سے ایک ماہ کا پچیس تیس لاکھ کما لیتا ہوں
سکول ٹیچر جس کی تعلیم ایم فل بائیو ٹیکنالوجی ہے وہ پرائیویٹ سکول میں ایک ماہ کا اٹھائیس ہزار کماتی ہے
مسجد کا امام ایک ماہ کا پندرہ بیس ہزار کماتا ہے آپ بھی اپنے ارد گرد دیکھیں لوگ سود خور حرام کی کمائی کرنے والوں کو عزت سے نوازتے ھیں اور یہاں سے ایک بد نما معاشرہ جنم لیتا ھے جو سب کی تباھی کا باعث بنے گا.
MHX retweeted
مڈنائٹ جیکال آپریشن کے میجر عامر جس کا بعد میں کورٹ مارشل ہوا تھا بریگیڈیر امتیاز بلا کے ساتھ جس نے ریکارڈنگز کی تھی اور پپلز پارٹی کی 1989 کی حکومت کے خلاف سازش کی تھی آج وہی میجر کے بھائی صاحب اس وقت گورنر کے ساتھ وہ بھی پپلز پارٹی کے کھڑے ہیں، فرق صرف یہ ہے اس وقت IJIبنائی اور آج یہ گورنر راج😂
MHX retweeted
ن لیگ IMFسے قرضہ لے تو وہ پاکستان کے لیے کتنی بڑی خوشخبری ہے سنیے عاصمہ شیرازی سے
عمران خان حکومت IMF سے قرضہ لے تو وہ کتنی بڑی تباہی ہے سنیے عاصمہ شیرازی سے
MHX retweeted
یہ پاکستان پر قابض ڈکٹیٹر عاصم منیر، فارم 47 کی جعلی وزیراعلیٰ مریم نواز اور جعلی حکومت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے، جنہوں نے 8 فروری کو عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈال کر اقتدار پر قبضہ کیا۔ طاقت کے نشے میں چور یہ حکمران سمجھتے ہیں کہ وردی، اقتدار اور اختیار انہیں قانون سے بالاتر کر دیتے ہیں۔ اسی گھمنڈ میں تحریک انصاف کے کارکنوں کو خوف زدہ ہراساں کیا گیا، انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں اپنے پیسے اور طاقت پر اتنا غرور ہے کہ وہ سمجھتے ہیں قانون اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ کسی بھی جواب دہی کے خوف کے بغیر لوگوں کا استحصال، انہیں ہراساں اور خوفزدہ کر سکتے ہیں ۔
میں ایک بات بالکل واضح کر دینا چاہتی ہوں: پاکستان کے عوام کے ووٹ، ان کے بنیادی حقوق اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے ان کے حقوق پامال کرنے والے کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ عہدہ، اختیار اور سیاسی تعلقات کسی کو بھی جواب دہی سے فرار کا راستہ نہیں دے سکتے۔ انصاف کسی حکمران یا طاقتور طبقے کی جاگیر نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں،کسی شہری کو محض اس لیے انصاف کی جنگ تنہا نہیں لڑنی چاہیے کہ اس کے مقابل کھڑی قوت کے پاس اقتدار، طاقت اور وسائل ہیں۔
MHX retweeted
پراڈو والے کو پولیس اہلکار نے پکڑ رکھا ہے اور پٹرول پمپ کا ملازم اسے تھپڑ مار رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں وحشیوں کے معاشرے میں داد سمیٹی جارہی ہے۔ اچھے بھلے لوگ کہہ رہے ہیں سکوٹی والی لڑکی کو مارنے والے وکیل کا اردگرد کھڑے لوگوں کو منہ توڑ دینا چاہیے تھا۔ نہیں بھائی یہ اکیسویں صدی ہے اور یہ بھی انصاف نہیں ہے۔ ایک بزرگ سکول ٹیچر کو ہتھکڑیاں لگا کر کھڑا رکھا گیا ہے اور فوجی جرنیل کی خواہش پر وزیراعلی بننے والی خاتون اسکے منہ پر جوتے مارنے کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔
یہ سب پولیس مقابلے ، یہ جوتے مارنے کی خواہش یہ تھپڑ کے جواب میں تھپڑ ؟ یہ “ فوری انصاف “ یہ سب کیا ہے؟ یہ آپ اور ہم جیسے ذہنی بیماروں سے داد سیمٹی جارہی ہے۔ یہ اس یتیم یہو معاشرے کی حالت زار ہے جہاں انصاف ، قانون ، سسٹم اور ٹرائل کے نام پر یہی سب کچھ بچا ہے۔المیہ در المیہ کہ ہم سب جذبات کی رو میں بہہ کر کبھی نا کبھی ایسی سوچ کی داد دے بیٹھتے ہیں۔ اور چونکہ ہماری جو پست حالت معاشی ، سیاسی اور معاشرتی ہے وہی ذہنی بھی ہے۔
دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسا “ فوری انصاف” نہیں ہوتا۔ لوگوں کو پولیس سے لیکر عدالت تک ہر چیز پر اعتماد ہے۔ کسی دوسرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ سزا الگ ہوگی چوٹ سے لیکر “ نفسیاتی ٹراما “ کا بھی ہرجانہ الگ دینا پڑے گا۔ یہ پولیس مقابلے ، یہ فوری انصاف یہ ذہنی مریضوں کے معاشرے میں ایسی واہ واہ صرف دنیا کے بدترین اور ناکام ترین معاشروں میں ہے۔
MHX retweeted
علامہ اقبال کے اس خط کے منظر پر آنے کے بعد مطالعہ پاکستان دوبارہ لکھنا پڑے گا۔
علامہ اقبال 1934 کے اس خط میں کہہ رہے ہیں کہ یار پروفیسر ٹامسن میں نے پاکستان کا خواب نہيں دیکھا۔ مجھ پر یہ خواب نہ ڈالیں۔ میں نے تو تجویز دی تھی کہ انڈین فیڈریشن کے اندر شمال مغرب میں ایک صوبہ مسلمانوں کا بنایا جائے۔ یہ صوبہ انڈین فیڈریشن کا حصہ ہوگا۔
علیحدہ ملک پاکستان کا تصور کیمرج والوں نے پیش کیا تھا۔ میرا اس سے کچھ لینا دینا نہيں ہے۔
آپ کا مخلص،
محمد اقبال
MHX retweeted
امریکہ کو اب سمجھ نہيں آ رہی کہ ایران 7 انٹرنیٹ ڈیٹا کیبلز کاٹنے کی بات کہاں سے لے آیا ہے۔ اس سے تو سارا مڈل ایسٹ یورپین ڈارک ایجز میں چلا جائے گا۔ امریکہ کا سارا عرب پراجیکٹ خلیج فارس میں دفن ہوجائے گا۔
مورکھو جس ایران کو تم ملاؤں کا ایران سمجھ کر لڑنے آگئے ہو اس کی ایک تاریخ ہے جو تمہاری تاریخ سے دس گنا لمبی ہی۔ اڑھائی ہزار سال کی تاریخ۔ کورش اعظم، خشایار شاہ، اردشیر، داریوش کی سلطنت کی تاریخ۔
MHX retweeted
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
MHX retweeted
حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں افسران کیا کرتے رہے یہ واقعی اکرام یوسفزئی کے بہت منفرد کلپس ہیں جن میں صاف نظر آرہا ہے کہ کیسے جرنیلی مافیا شراب و شباب کی محفلیں تھیں اور پاکستان 197 میں اجاڑا جا رہا تھا
MHX retweeted
لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان کی رہائی اور علاج کا موضوع ترجیحات سے ہٹ سا گیا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا اختلافی موضوعات پر پروگرام کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش میں ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر کسی حد تک تھکن اور سست روی پیدا ہوئی ہے۔
یوں عوامی و سیاسی دباؤ کم ہونے سے نہ صرف عمران خان کی رہائی کے لیے اخلاقی اور سیاسی دباؤ کم ہوا ہے، بلکہ جیل میں ان کی صحت کے متعلق شفاف معلومات اور آزادانہ علاج کے مطالبے کی شدت بھی کمزور ہوئی ہے، جس کا اثر عام عوام پر ان کہی مایوسی کی شکل میں نظر آتا ہے۔
عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی مقامی میڈیا کی رپورٹس سے اشارے لیتی ہیں۔ مقامی سطح پر خاموشی سے بین الاقوامی آوازیں بھی مدہم پڑ جاتی ہیں۔
اس لیے اسے دوبارہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی ترجیح بنانے کے لیے سیاسی، قانونی اور ابلاغی سطح پر نئی حکمتِ عملی کے تحت ضروری ہے کہ:
عمران خان کی صحت اور طبی سہولیات کے معاملے کو صرف سیاسی نعرہ بنانے کے بجائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی طبی تنظیموں کے سامنے قانونی و اخلاقی بنیادوں پر اٹھایا جائے۔
جذباتی بیانیے کے بجائے حقائق کا سہارا لیا جائے۔ "رہائی" کے عمومی مطالبات کے بجائے ان کی صحت کے مصدقہ میڈیکل چارٹس، ڈاکٹروں کی سفارشات اور جیل کے اندر میسر سہولیات کے حوالے سے حقائق پر مبنی رپورٹنگ جاری رکھی جائے۔
پریس کانفرنسوں پر انحصار کم کر کے پوڈکاسٹس، ڈیجیٹل اسپیسز، ریسرچ آرٹیکلز اور معلوماتی اینیمیشنز یا انفوگرافکس کے ذریعے نئے انداز میں بات میڈیا کے سامنے لائی جائے۔
اعلیٰ عدالتوں میں خان کے ذاتی معالجین اور آزادانہ میڈیکل بورڈز کی تشکیل کے لیے متواتر درخواستیں دائر کی جائیں تاکہ ہر سماعت میڈیا کے لیے ایک تازہ خبر بنے، جسے میڈیا کے ٹاک شوز میں اور سوشل میڈیا فورمز پر ساتھ ساتھ ہائی لائٹ کیا جائے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ میں عمران خان کی صحت اور علاج کو ایجنڈے کا مستقل حصہ بنایا جائے اور ہر موقع پر اسے بنیادی شرط کے طور پر سامنے رکھا جائے۔
عمران خان کے مسئلے کو صرف ایک جماعت کا مسئلہ بنانے کے بجائے "آئین، بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے حقوق" کے وسیع تر فریم ورک میں پیش کیا جائے تاکہ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین بھی اس کا حصہ بن سکیں۔
دراصل پی ٹی آئی لیگل ٹیم اور ڈیجیٹل میڈیا سیل کو مربوط، منظم اور جدید حکمتِ عملی کے تحت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
قانونی محاذ کا بنیادی مقصد صرف سماعتوں تک محدود رہنا نہیں، بلکہ ایسے قانونی اقدامات اٹھانا ہے جو میڈیا اور عالمی اداروں کے لیے مسلسل خبرساز واقعات پیش کر سکیں۔
لیگل ٹیم میڈیا سیل کو ہر پٹیشن کی قانونی باریکیاں اور میڈیکل رپورٹس فراہم کرے تاکہ وہ اسے عام فہم اردو اور انگریزی انفوگرافکس اور پریس ریلیز میں تبدیل کریں۔ ہر اہم سماعت سے ایک دن قبل میڈیا کو بریف کیا جائے، اور سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی ٹرینڈز اور شارٹ ویڈیوز کے ذریعے عوامی بیداری پیدا کی جائے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے وکلا سے رابطہ کیا جائے اور بین الاقوامی صحافیوں اور اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ ڈوزیئر شیئر کیا جائے۔
عدالتی احکامات پر عمل نہ ہو رہا ہو تو توہینِ عدالت اور تعمیلِ حکم کی متواتر اور نئی درخواستیں دائر کر کے اس پر میڈیا سیل سے مہم چلائی جائے۔ خان صاحب کی غیر قانونی حراست اور طبی سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں کو تمام نئی دستاویزات اور میڈیکل رپورٹس کا باقاعدہ ڈوزیئر بھیجا جائے۔
انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن اور کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کو پاکستان میں قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی خطوط ارسال کیے جائیں۔ خان صاحب کو جیل سہولیات، صحت کی حقیقی صورتِ حال اور قانونی کیسز کی کمزوریوں پر اردو اور انگریزی میں مختصر اور مستند فیکٹ شیٹس تیار کی جائیں۔
اوورسیز میڈیا سیلز کے ذریعے عالمی نشریاتی اداروں اور صحافیوں کو بریفنگز دی جائیں۔ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ میں مقیم پاکستانی اپنے مقامی ارکانِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے نمائندوں کو انسانی بنیادوں پر خطوط بھیجنے کی مہم شروع کریں۔
صرف مقامی ٹرینڈز پر انحصار کرنے کے بجائے ایکس (X) پر بین الاقوامی اہمیت کے ہیش ٹیگز کے تحت ہفتہ وار عالمی اسپیسز اور ویبینار منعقد کیے جائیں جن میں عالمی صحافیوں کو دعوت دی جائے۔ ساٹھ سیکنڈ کی شارٹ ویڈیوز اور ریز سے یہ مواد انگریزی، اردو اور عربی میں مسلسل بنایا جائے اور اسے آفیشل پلیٹ فارمز سے بھی لانچ کیا جائے۔
مطلب یہ کہ جب سب جانتے ہیں کہ یہ جنگ طول کھینچ سکتی ہے تو محاذ کو ٹھنڈا ہونے کا موقع دے کر مخالفین کو آرام کرنے کا موقع کیوں دیا جائے؟
MHX retweeted
کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں، بس علاقے کو کلیئر کرنا ہے" پختونوں کو جواب دیتے ہوئے دیسی فرنگی فوج کے افسر کا کہنا ہے کہ آپ لوگوں کا بھائی ہوں، ریاست سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔
یہ حرامی میٹرک پاس خود کو ریاست سمجھ بیٹھے ھیں۔ گن کے ساتھ ایک غنڈہ بھی خود کو خدا سمجھنا شروع کر دیتا ھے😁😁😁
MHX retweeted
بیرسٹر شہزاد اکبر کی بڑی خبر !
فیلڈ مارشل بہت انڈر پریشر ہے، عاصم منیر نے امریکہ کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر یقین دہانیاں کراوئی تھی کہ وہ ایران سے سب کچھ منوا لیں گے،صدر ٹرمپ کو ڈیلیور کریں گے۔ لیکن عاصم منیر کا دورہ ایران بمعہ محسن نقوی کے بری طرح ناکام ہوا ہے ۔
لیکن اب امریکہ اور صدر ٹرمپ ایک جیسے نہیں رہے ۔
فلیڈ مارشل نے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے نوبل پیس پرائز کے لیے بھی نامزد کر دیا ، مائن اینڈ منرلز، کرپٹو جو چاہیے دینے کے لیے تیار ہیں، اسی تناظر میں وہ ایران کے تنازع میں ڈیلیور کرنے کا وعدہ کر بیٹھے تھے ۔ ڈیلیور کرنا تو دور کی بات ہے امریکہ اس پورے تنازع میں بری طرح پھس گیا ہے ۔
ایرانیوں نے فیلڈ مارشل کی ملاقات کافی انتظار کے بعد کروائی۔ اور خبر بھی خود نکلوائی تاکہ دنیا کو پتہ لگے ہمارے نزدیک انکی اوقات کیا ہے ۔
فیلڈ مارشل جو مطالبات لیکر گئے ایران نے صاف انکار کر دیا ہے کہا ہے کہ اب آپ سے بات مڈ ٹرم الیکشن کے بعد ہو گی اور ہم اپنے نیوکلئیر سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے ایران بہت مضبوط اور اونچی پوزیشن پر کھڑا ہے ۔
MHX retweeted
مدارس میں کیا پڑھایا جاتا ہے ؟؟
یہ جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ پاکستان میں مدراس کی کتنی قسمیں پائی جاتی ہیں ؟؟
آج کے پاکستان میں مدراس کی پندرہ مشہور قسمیں موجود ہیں :
1 : بریلوی مدارس 2 : دیوبندی مدارس 3 : وہابی مدارس 4 : شیعہ مدارس 5 : عطاری مدارس 6 : لبیکی مدارس 7 : سیلفی مدارس 8 : خانقاہوں اور درگاہوں کے مدارس 9 : جماعت اسلامی کے مدارس
10 : جدید اور آزاد مدارس 11 : تحریک منہاج القرآن کے مدارس 12 : تنظیم اسلامی کے مدارس 13 : جماعت الدعوہ کے مدارس 14 : سنی مدارس ( ریاض شاہ گروپ) 15 : خطائی مدارس ( اشرف خطائی گروپ)
ان تمام اقسام کے مدارس میں ایک دو قسم کے مدارس کو چھوڑ کر باقی سب مدارس میں فرقہ ورانہ تعلیم دی جاتی ہے اور فرقہ پرست سکھائی جاتی ہے ، ریاست پاکستان نے مجرمانہ فعل کا ارتکاب کرتے ہوئے ان فرقہ ورانہ مدارس کی تنظیمات کو نہ صرف یہ کہ معاشرے میں انتشار و افتراق پھیلانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے بلکہ انہیں درپردہ مخصوص قوتوں کی طرف سے فنڈنگ بھی ملتی ہے
بعض مدارس کو بیرون ملکوں سے فنڈنگ بھی ہوتی ہے اور کچھ مدارس بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتے ہیں
ان مدراس نے آج تک پاکستان کو کوئی ایک قابل ذکر یا قابل شخص نہیں دیا ہے
ان مدارس کا قومی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے
البتہ تخریبی کارروائیوں میں یہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں
یہ مدارس دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق دنیا کا مقابلہ کرنے والے اسکالر پیدا کرنے کی صلاحیت سے کلی طور پر محروم ہیں
ان مدارس کے نصاب میں آج بھی کوا حلال ہے یا حرام ہے کی بحث چلتی رہتی ہے
ان مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو دوسرے فرقوں سے نفرت ، تعصب اور شدت پسندی سکھائی جاتی ہے
ان مدارس کے پڑھے بچے کبھی نارمل انسان نہیں بن پاتے، اور پلے باندھ لیں کہ چند ایک کو چھوڑ کر اکثریتی مدارس کا دین اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے
بریلوی مدارس، احمد رضا خان بریلوی کو پیغمبر بنا کر اس کی تعلیمات و نظریات پڑھاتے ہیں ، ان مدارس میں پڑھنے والے طلبا کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی حدیث ضعیف ہو سکتی ہے مگر احمد رضا خان بریلوی کی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی،
ایسے ہی دیوبندی مدارس میں علمائے دیوبند کا منشور عبادت سمجھ کر پڑھایا جاتا ہے اور علمائے دیوبند کو ہر خطا و لغزش سے پاک برگزیدہ ترین ہستیاں بنا کر طلبا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے
یہی طریقہ واردات وہابیوں کا بھی ہے ، ان کے مدارس میں توحید کے نام پر ابن تیمیہ اور عبد الوہاب نجدی کی پوجا سکھائی جاتی ہے ، اہل تشیع کے مدارس میں اب آئمہ اہل بیت رسول ﷺ سے زیادہ رائج شیعہ مذہب کی تعلیمات دی جاتی ہیں اور شیعہ علماء کو کہیں کہیں آئمہ کے برابر درجہ دیا جاتا ہے
اسی طرح عطاری مدارس میں مولوی الیاس کو نبی سے بڑا درجہ دے کر ہمہ وقت مرشدی عطار پر نور کی برسات ہو کہ نعرے لگائے جاتے ہیں
جبکہ لبیکی مدارس میں بابا خادم رضوی کی جے ہو کہ علاؤہ کچھ نہیں ہوتا
خطائی مدارس میں اشرف خطائی کو امام تسلیم کر کے امام مہدی سے بڑا درجہ دے دیا گیا ہے
جہاں مگر یہ شدید ترین فرقہ پرستی اور جہالت کا کھیل جاری ہے، وہیں پہ کچھ اچھے اور جدید مدارس بھی ہیں کہ جن میں سکولوں کی طرز پر جدید طرز تعلیم رائج ہے
ایسے مدارس کی تعداد مگر آٹے میں نمک سے بھی کم ہے ، زیادہ تر روایتی مدارس ہی ہیں کہ جن میں پڑھانے والے اکثر ایسے ہیں کہ جنہوں نے کبھی سکول و کالج کی شکل تک نہیں دیکھی
انہی مدارس کو ایک بار پرویز رشید نے جہالت کی فیکٹریاں کہا تھا ، اس پہ بہت لے دے ہوئی مگر یہ بات سو فیصد درست تھی
میرے نزدیک پاکستان میں تعلیم کا یکساں نظام ہونا چاہیے اور ریاست کے زیر انتظام ہونا چاہیے
فرقہ ورانہ بنیادوں پر قائم تمام مدارس پر فی الفور پابندی لگا کر انہیں قومی دھارے میں شامل کرنا چاہیے ورنہ یہ ہجوم کبھی قوم نہ بنے گا
#دین_اسلام
MHX retweeted
قبائلی علاقوں کو 70 سال تک FCR جیسے کالےقوانین کےتحت “FATA Secretariat” سے چلایا گیا- 2018 سے FATA کو KP میں ضم کر کے کئی سال کی محنت سے وہاں ادارے قائم کیےگئے
اب ایمرجنسی کےنام پر فاٹا سیکرٹریٹ کی طرز پر ARDC نامی بلا کو مسلط کر دیاگیاہے
پہلی میٹنگ بھی فوجی جرنل چئیر کر رہاہے
فاٹا اور KP کے انضمام کے سب سے بڑے مخالف TTP والے تھے- وہ یہ دیکھ کر سب سے ذیادہ خوش ہوں گے- کیونکہ وہ تو ایسی ہی روز بروز بدلتی ہوئی ناکام فوجی پالیسیوں، فوجی تجربوں، اور معاشرے میں پھیلی ناانصافی اور سسٹم کی تباہ حالی کی پیداوار ہیں- اور انہیں ایسے ماحول میں ہی مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بار پھر صرف ایک عقل کل شخص اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے قبائلی علاقوں کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور پورے صوبے کی اکثریتی سیاسی جماعتوں اور عوام کے منتخب نمائندوں کی 8 سالہ محنت پر پانی پھیر رہا ہے-
MHX retweeted
عاصم منیر کی ڈگری کہاں ہے :
تمام قابل جرنیل ، چاہے وہ بعد میں ڈکٹیٹر ہی بنے ، کسی نہ کسی مشہور امریکی یا برطانوی فوجی کالج گئے اور وہاں کامیاب کورس کرنے کے بعد پھر جرنل بنے - گروک کی لسٹ کے مطابق :
-جنرل اسکندر مرزا پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے برطانیہ کے رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ سے کامیابی سے گریجویشن کیا اور کنگز کمیشن حاصل کیا۔
- فیلڈ مارشل محمد ایوب خان بھی رائل ملٹری کالج سینڈہرسٹ گئے تھے۔
- جنرل یحییٰ خان نے بھارت کے ڈہرہ دون میں کرنل براؤن کیمبرج اسکول میں تعلیم حاصل کی ۔
- جنرل ضیاء الحق، جنرل رحیم الدین خان، جنرل جہانگیر کرامت اور جنرل اشفاق کیانی امریکہ کے سی جی ایس سی فورٹ لیون ورتھ کالج کے گریجویٹ تھے۔
- جنرل راحیل شریف رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز (آر سی ڈی ایس)، برطانیہ؛ کمپنی کمانڈرز کورس، جرمنی؛ اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کینیڈا (امتيازی نمبروں کے ساتھ) گئے۔
- جنرل پرویز مشرف رائل کالج آف ڈیفنس سٹڈیز (آر سی ڈی ایس)، برطانیہ گئے۔
- جنرل قمر باجوہ، اگرچہ فرسٹ کلاس ڈفر تھے، کینیڈین فورسز کمانڈ اینڈ سٹاف کالج، کینیڈا اور نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، کیلیفورنیا، امریکہ گئے۔
ان سب کے مقابلے میں سپر گروک کہتا ہے کہ جنرل عاصم منیر گزشتہ 40 سال سے زیادہ عرصے میں پہلے ایسے چیف آف آرمی سٹاف ہیں جنہوں نے مغربی (برطانیہ/امریکہ/کینیڈا) ملٹری اکیڈمی یا سٹاف کالج کی تربیت حاصل نہیں کی۔ ان کی غیر ملکی تربیت فوجی اسکول/جے جی ایس ڈی ایف کیمپ تاکیگاہارا، جاپان، اور ملائیشین آرمڈ فورسز کالج، ملائیشیا میں ہوئی ۔
تو یحییٰ خان اور عاصم منیر میں ایک بات تو مشترک ہے؛ دونوں نے کوئی معیاری غیر ملکی کورس نہیں کیا اور توقع کے مطابق احمقانہ حرکتیں کیں۔ ایک نے ملک ہی توڑ دیا اور دوسرے نے بیڑا ہی غرق کر دیا -
ان سب جرنیلوں نے گریجویشن کے لیے جو پیپرز اور تھیسز لکھے ہیں وہ آن لائن دستیاب ہیں لیکن جنرل عاصم منیر کے پاس ایسا کچھ نہیں ہے جو وہ دکھا سکیں۔
کیا ڈی جی آئی ایس پی آر @OfficialDGISPR براہ کرم ملائیشیا میں ان کے پیپر کا ٹرانسکرپٹ جاری کریں گے تاکے ہم سب انکی قابلیت دیکھ سکیں ؟
گروک نے سوچ کے بتایا کے عاصم منیر کن ڈگریوں کے ماسٹر ہو سکتے ہیں ، تصویر میں ظاہر ہے -
MHX retweeted
کانگو کے بعد اگلا افریقی ملک مالی جس میں معدنیات لوٹنے کے لیے مغربی طاقتوں نے کیسے مل برباد کیا آپ کو بتاتے ہیں
مالی کے نام سے کون واقف نہیں ہوگا ہاں 13 صدی سے پہلے مالی کو شاید کوئ نہیں جانتا تھا پھر مالی سلطنت سے ساری دنیا واقف ہوگی تھی مشہور زمانہ بادشاہ منسا موسیٰ سے تو سب واقف ہیں جو سفر حج پر نکلا تھا تو ٹنوں کے حساب سے سونا ساتھ لے گیا آج بھی دنیا کا امیر ترین شخص وہی ہے خیر اب آتے ہیں اصل بات کی طرف مالی سلطنت کمزور ہوگی ٹمبکٹو کا عظیم شہر اب ویران ہونے لگا تھا ایسے میں فرانس نے 1890 میں مالی پر قبضہ کر لیا اور یہ خالص قبضہ اسی وجہ سے تھا کے ان کو علم ہوگیا تھا مالی کے پاس دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر ہیں یہ قبضہ جاری رہا مالی کے وسائل بے دردی سے لوٹے گے اور آخر کار 1960 میں مالی آزاد ہوگیا اور موديبو کیتا مالی کے پہلے صدر بنے مگر جن کے منہ کو خون لگ چکا ہو وہ چپ تھوڑا رہنا تھا
کیتا نے وہی غلطی کی جو ہر اس جیسے پاگل کرتے ہیں اپنے قوم کے وسائل کا تحفظ استعمار کی باقیات کا خاتمہ اور آزاد خارجہ پالیسی پھر کیا ہوا وہی ہونا تھا جو اس جیسے اور کے ساتھ ہوتا حکومت چھین لی گی یہ سارا کام ایک فوجی افسر موسی تروے نے فرانس کی مدد سے کیا فوجی بغاوت کی کیتا کو جیل میں ڈالا اور قتل کر دیا
موسی تروے 23 سال تک ملک پر قابض رہا بدترین آمریت مسلط رکھی مگر مغربی دنیا کی حمایت حاصل رہی جانتے ہیں کیوں کیونکہ وہ مالی کا سونا اور معدنی ذخائر کوڑیوں کے دام مغربی کمپنوں کے حوالے کر رہا تھا ملک تباہ وہ برباد معشیت ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے حوالے 23 سال بعد عوام کی بغاوت احتجاج نے موسی تروے کو عہدے سے ہٹنے پر مجبور کیا نام نہاد جمہوریت 1992 میں مالی میں آ گی
اگرچہ اس دوران دو صدر آئے نظام چل رہا تھا مگر پیچھے اصل کنٹرول فرانس کا تھا کیونکہ جس کھائ میں موسی ملک کو ڈال گیا تھا اس سے نکلنا آسان نہیں تھا مگر پھر بھی مغربی طاقتیں خوش نہیں تھی نظام چل رھا تھا
اس دوران 2012 میں لیبیا کے قدافی کو ہٹانے کے لیے جب مغربی دنیا آئ اسے ہٹایا گیا تو قدافی کے حامی قبائل خاص کر تواریق مالی لوٹے اور آزادی کی تحریک شروع کر دی
مغربی طاقتیں جان بوجھ کر لبیبا میں جدید اسلحہ چھوڑ کر گی جو ان گروہوں نے ہاتھ لگا کچھ نے اسے مالی میں استعمال کیا اور کچھ نے لیبیا میں اور دہشتگردی مچا دی جب مالی حکومت دہشتگردی روکنے میں ناکام ہوئ کامیاب بھی کیسے ہوتی فوج جو ساتھ نہیں تھی تو فوجی کپٹن امادو نے دہشتگردی کا بہانہ بنا کر منتخب حکومت گرا دی اور خود قبضہ کر لیا لگ رہا نہ یہ افغانستان اور پاکستان کی بات ہو رہی نہیں یہ سچ میں مالی کی بات ہو رہی ہے
اب فوج نے فرانس کے کہنے پر حکومت گرای تھی تو فرانس نے جس مقصد کے لیے یہ سب کروایا تھا وہ بھی تو پورا کرنا تھا دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں مالی کی فوج کی مدد کے لیے آپریشن سروال شروع کیا جو دہشتگردی لے کر آئے وہی ختم کریں گے کمال ہوگیا خیر دہشتگردی کی آڑ لے کر اور درالحکومت بماکو کو بچانے کے بیانے فرانس نے مالی فوجی اڈے قائم کر لیے آہستہ آہستہ مالی کی فوج اور عوام کو سمجھ آیا کے یہ فرانسی ماضی کی طرح معدنیات لوٹنے آئے ہیں دہشتگردی بہانہ ہے یہ یورینیم اور سونا نکال رہے ہیں 2020 میں فوج کے اندر ہی بغاوت ہوئ کرنل عسیمی گوایتا نے اس بغاوت کو لیڈ کیا بھرپور عوامی حمایت سے فرانسیسی نواز حکومت کا خاتمہ کیا نئ فوجی حکومت ابھی آ چکی ہے اور فرانس کو مالی سے نکالنے کا الٹی میٹم دے دیا گیا ہے مگر ابھی بھی فرانس ہل چل کر دہا ابھی چند ماہ پہلے جمیعت نصرۃ الإسلام والمسلمین نے مالی کے اہم شہروں پر حملے کیے بجلی اور پانی کا نظام متاثر ہوا مگر فوجی حکومت اور اس کی اتحادی روسی فوج نے فضائ حملے کیے تھے تازہ صورتحال کیا ہے ابھی علم نہیں
فرانس 1960 میں دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت جانتے ہیں کیوں بنا تھا کیونکہ فرانس کے پاس یورنیم جو تھا وہ مالی ، نائجر ، گیبون کا تھا فرانس نے اپنے ملک میں یورینیم نکالنا ہی بند کر دی تھی کیونکہ اس سے انسانوں کو نقصان ہوتا ہے ایٹمی دھماکے جانتے ہیں کہاں کیے الجزائر کے صحرا میں کیوں فرانس میں کرتے تو ماحول اور انسانوں پر اثرات پڑتے افریقہ میں کونسے انسان بستے ہیں ان کا کونسا ماحول ہے آج دنیا میں فرانس انسانی حقوق کا چمپین بنا ہوا ہے
پورا افریقہ تباہ و برباد کر دیا























