سمیر بلوچ (@JamotAzhar) header
سمیر بلوچ (@JamotAzhar) profile picture

team of patriotic volunteers working tirelessly for KAPTAAN & We are fighting & we will fight along with KHAN for real freedom.INSHALLAH

Balochistan, Pakistan
Joined July 2020
Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)Photo by سمیر بلوچ (@JamotAzhar)
سمیر بلوچ retweeted
No one has seen or heard from my father since August, when he explicitly said that he was being tortured and that the regime was trying to kill him like Egypt’s government did Morsi. The UN Special Rapporteur on torture has repeatedly stated that his treatment amounts to torture. Pakistan’s fascist regime, led by military dictator Asim Munir, continue to ignore the Supreme Court order from August for my father to be assessed and treated at the private Shifa International Hospital, as well as for regular access to family visits and access to his lawyers. It is clear that they are trying to kill him as he is by far the most popular political figure in the country, and they fear him. If the worst happens, no one should make any mistake who is responsible. It is Asim Munir with the approval of the illegitimate Pakistani government. Every government that continues to legitimise this regime will be complicit in this and the resulting chaos and destabilisation it causes in the region. No state that is engaging in friendly relations with this fascist Pakistani regime can truly claim to uphold the values of democracy or human rights.
1,000
13,837
230
29,700
996,378
سمیر بلوچ retweeted
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔ ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔ ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟ میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
341
7,769
72
18,032
150,186
One of my Favorite Batsman and a Phenomenal Player but Unlucky Captain 💔 Love From Pakistan 🇵🇰 @Harry_Brook_88
46
Uff Shah Saahab 💔 @SMQureshiPTI
وفا کا پیکر نائب کپتان شاہ محمود قریشی ۔۔۔ وفا کے رستے کا ہر مسافر گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے! #ReleaseSMQ
11
سمیر بلوچ retweeted
Pakistan’s foreign policy is heading towards disaster. We now live in a neighbourhood where none of our neighbours trust us. As Afghanistan and India deepen ties with an anti-Pakistan agenda, we have failed to safeguard Chinese investments while undermining relations with Iran at others’ behest. Soon, even the US and the GCC will see through our empty promises, photo ops and endless overcommitments.
94
582
22
2,487
417,699
سمیر بلوچ retweeted
Wow.. another thriller
186
1,010
33
17,162
296,384
سمیر بلوچ retweeted
کبھی کسی کو گالی دینے پر اس قدر تنقید نہ ہوئی ہو گی جتنی اس وضاحت پر۔ کوئی کہتا ہے لفافہ مل گیا کوئی کہتا ہے ڈنڈا۔ مینڈک کو اپنا جوہڑ ہی دنیا دکھائی دیتا ہے۔ میرے لاہور کے کرشن نگر، چوہان روڈ، اقبال ٹاؤن، سمیت دنیا بھر سے جانے کہاں کہاں سے پرانے محلے داروں، کالج فیلوز، رشتہ داروں تک نے ای میلز کر ڈالیں کہ ایسا کیوں کیا ؟ مختصر اتنا کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں مل کر، کتنا بھی چاہیں نہ میرا کچھ سنوار سکتے ہیں نہ کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نہ مجھے ان سے خوف ہے نہ ہی لالچ، نہ ہی ذاتی شکوہ۔ بھونکتے کتے کیا سمجھتے ہیں کہ مجھے انہوں نے نوکری نہیں دی اس لیے میں خلاف ہو گیا ؟ سچ یہ ہے کہ ان دونوں نے بہت کوشش کی تھی، نگران کابینہ میں میرا نام دیا، ان کا باس نہیں مانا۔ پھر مجھے مریم بی بی نے بلا کر پرویز رشید اور مریم اورنگزیب کے سامنے اپنا ترجمان مقرر کیا اور کابینہ اجلاس میں بٹھا دیا، وہ غریب اور کیا کرتی ؟ اسے اجازت نہیں ملی کیونکہ اس نظام کے مالکان کو پتہ تھا کہ میرے جیسا آدمی اگر ہو گا تو انکو بار بار یاد دلائے گا کہ لیڈر وہ ہیں، فوجی ٹرک سے اترو، جو ان کے باس کو قبول نہیں تھا۔ یہ دونوں بے بس تھے، اسی لیے ان کو صرف نوکر لگانے پڑے۔ یہ معذرت اس لیے کی تھی کہ مجھے نواز شریف سے کوئی ذاتی شکوہ نہیں اگر ہے تو صرف یہ کہ کیوں سب کچھ اتنا سستا بیچ دیا ؟ صرف اس لیے کہ گڑیا کو وزیر اعظم بنانا ہے ؟ عزت سے بھی تو بن سکتی تھی۔ اس کے پاس وقت ہے، زندگی ہے۔ نواز شریف اور عمران خان ہم عمر ہیں۔ مریم کے پاس ابھی وقت تھا۔ تھوڑا انتظار کر لیتے، خواجہ سعد والی بات کہ عصر کے وقت روزہ توڑ دیا ؟ ہم نے آب حیات تو نہیں پیا ہوا۔ نو فروری کو مان لیتے کہ شکست نہیں شکست فاش ہوئی ہے، اگر نہیں تو حکومت لے کر پہلا حکم جاری کرتے کہ تمام سیاسی قیدی رہا، ناجائز قبضہ گیروں کی ایسی تیسی پھر جاتی ۔ اب کیا ملا ہے ؟ فیصل واوڈا جیسے بندے سے ذلیل ہونا ، داؤد ایڈووکیٹ سے گالیاں کھانا ؟ اور وہ ادھیڑ عمر موٹی قبض کی مریض عورت جو بتاتی ہے کہ لال مفلر پیلی شرٹ پہن کر آپ عمران خان کا سحر توڑیں گے ؟ اس سے بہتر کسی عزت دار خاتون سے شادی نہ تھی ؟ کیا خدا نخواستہ ہم سب کے آخری رسول اور فطرت کا کہنا غلط ہے اور شیطانی رواج درست ؟ عمران خان مسکرا رہا ہے ، تاریخ میں، دلوں میں ، عوام کی آنکھوں میں صرف ایک نام ہے اور وہ عمران خان ہے۔ اپنا سب کچھ کھو کر بے عزت نوکری لے لی اور قوم کو خان لے اڑا۔ ایسی بے بس نوکری پر لعنت بھیج کر آج بھی قوم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ایک ہو سکتے ہیں تو اب یہ لیڈ مریم نواز لے۔ آج بھی ممکن ہے حوصلہ کرے ، ڈر خوف نکالے۔ رنگ بازیاں نہیں چل رہیں نہ چلیں گی۔ اور کتنا وقت برباد کرنا ہے ؟ اس ظالم نظام کے خلاف قوم کے ساتھ مریم کھڑی ہو جائے تو مستقبل ہے ورنہ قبر تیار ہے اور کتبہ ہو گا اس مرحوم پارٹی کی قاتل اس کی اپنی لیڈر تھی۔
چند دن ہوئے میاں نواز شریف کے حوالے سے ایک ذاتی پوسٹ لکھی جو کسی صورت مناسب نہ تھی۔ وہ بے جا اور بے ادبی تھی۔ چند گھنٹے بعد ہی اسے ڈیلیٹ کر دیا تھا، اور جہاں جہاں وہ تحریر پہنچ چکی ہے وہاں سے بھی اپنی بات واپس لیتا ہوں۔ تعلقات رہیں یا نہ رہیں، حیا اور شائستگی کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ میں اس تحریر پر کسی دلیل یا جواز کے بغیر شرمندہ ہوں اور میاں صاحب اور ان کے چاہنے والوں سے معذرت چاہتا ہوں۔ ایک بار پھر معذرت۔ یہ قصہ میری طرف سے تمام ہوا۔
395
107
1,624
205,139
سرکاری حاجن اب تمارا عورت کارڈ والا ڈرامہ نہیں چلے گا @asmashirazi
Hypocrisy at its best not " opinionated women" argument. Your words are mirror to your self in essence.
1
1
36
سب ٹاؤٹ کھل کر سامنے آ رہے ہیں 😂
Journalists express all sorts of opinions every day, but when @asmashirazi does, even in the most measured words, she becomes a target of vicious attacks. Some people follow her every word, not to understand her views, but to bully her. It’s a pattern. This mob mentality is exactly why journalists now avoid expressing views that challenge the popular narrative.
16
سمیر بلوچ retweeted
🇵🇰 EXCLUSIVE: IMRAN KHAN'S SONS SAY THE PAKISTANI GOVERNMENT IS TRYING TO KILL THEIR FATHER! I spoke again with Qasim and Sulaiman Khan, and this conversation was the most heartbreaking. Not only is their father, the former Prime Minister of Pakistan, still in solitary confinement, but his three courageous sisters, Aleema, Uzma and Noreen, have now also been arrested And when @PTIofficial supporters hit the streets, many were arrested, beaten, and even killed! Imran Khan’s sons say they haven't spoken to their father in over 6 months, nobody has seen him for 2 months, and they're increasingly worried about his deteriorating health. I asked them the hardest question of all: Do they still believe they’ll ever see their father again? Qasim admitted, he has very little hope, but they will never stop fighting I told them both I wouldn't give up hope. And I meant it. @Kasim_Khan_1999
126
3,820
59
7,872
498,725
Proud of you @MKAchakzaiPKMAP Please Save Imran Khan and get him out of jail ASAP🙏🙏 his life is in danger
اللہ گواہ رہے، میں اور علامه راجہ ناصر عباس کسی قیمت پر عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑے گیں، محمود خان اچکزئی
13
سمیر بلوچ retweeted
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔ جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔ آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
709
8,499
212
21,515
652,058
سمیر بلوچ retweeted
امیر لوگوں کے بھی عجیب ہی شوق ہیں 14 کروڑ کا صوبہ ایک ذہنی مریضہ کو اس لیے دے دیا گیا ہے کہ وہ ٹریننگ کر لیں
20
297
9
703
7,507
ملک کو تباہ کر دیا اور ملال بھی نہیں 🖐 @MaryamNSharif
29
Because you have a Very Strong "BOOT" That's why you are a Selected CM @MaryamNSharif
میری آن جاب ٹرینگ ہو رہی ہے کیونکہ میں نے زندگی میں کبھی بھی کوئی بھی نوکری نہیں کی ، میں اس سے پہلے زندگی میں کبھی کونسلر تک نہیں بنی ۔ وزارت اعلی میرا پہلا عہدہ ہے۔ مریم نواز ۔ یہ پاؤں پر کلہاڑا تھا ؟ یہ کلہاڑے پر پاؤں تھا؟
17
سمیر بلوچ retweeted
In these challenging times for our nation, my prayers go out to Imran Khan for his health and safety. Pakistan needs unity and stability above all else right now. I have immense faith in our institutions and the Pakistan Army to guide our homeland toward a peaceful, strong, and united future. 🇵🇰 Always praying for progress.
529
3,611
88
13,339
165,475
معذرت کے ساتھ اگر آپ حق پر ہوتے تو مجھ جیسے عمران خان کے ایک عام کارکن کو کبھی بلاک نہ کرتے جب آپ مجھ جیسے ایک عام کارکن کو جواب نہیں دے سکتے تو عمران خان کا سامنا کیا خاک کریں گے @AliAminKhanPTI @KaKaR_101
13
عمران خان اگست 2023 سے پاکستان میں قید ہیں اور گرتی صحت اور اپنی جماعت کی اجتماعی گرفتاریوں کے دوران 100 سے زائد مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ IHRF اسے سیاسی محرکات پر مبنی عدالتی انتقام سمجھتی ہے اور بلا الزام فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ #انسانی_حقوق bbc.com/news/articles/cmkg79…
40
1,504
18
3,369
29,428
Imran Khan has been jailed in Pakistan since August 2023, facing over 100 cases amid failing health and mass arrests of his party. IHRF sees politically motivated judicial persecution and calls for his immediate release without charges. #HumanRights bbc.com/news/articles/cmkg79…
258
2,955
39
6,087
60,499
سر وہ سب ٹھیک ہے ہم دل سے تسلیم کرتا ہوں سہیل آفریدی صاحب آخر تک لڑا ہے لیکن سب سے اہم سوال جب آپ لوگوں کو پتہ تھا سب کی طرح کہ یہ گھٹیا لوگ گورنر راج لگائیں گے تو جو پلان ب یا سی تھا اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا براہ مہربانی یہ تو بتاؤ کہ غداری آخر کس نے کی؟؟؟ @ShahidkhattakSk
مطالبات تسلیم کرنے کا مطلب عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانا تھا، اور انکار کی صورت میں گورنر راج کا بیانیہ پہلے ہی سے تیار تھا۔ فیصلہ جو بھی ہوتا، نشانہ صرف تحریک انصاف تھی۔ حکومت ختم ہوتے ہی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی تیزی بتاتی ہے کہ یہ انتقامی فہرستیں بہت پہلے تیار کی جا چکی تھیں تاکہ قیادت اور حامیوں کو خوف زدہ کیا جا سکے۔
20