Pinned Tweet
تیرے چہرے میں نہ جانے کیا جادو ہے
نظریں جمتی ہیں تو پھر وہ ہٹتی نہیں
دن تو کٹ جاتا ہے ترستے ہوئے
بیرن لمبی ہیں راتیں جو کٹتی نہیں
تم سے ملنے کی دل میں تمنا لیے
رکتی انکھوں سے اشکوں کی دھارا نہیں
دل دھڑکتا ہے یہ ہر پل تمہارے لیے
یوں لگے بن تیرے اب گزارا نہیں
*اے اللہ!*
*ہمیں مانگنے کا سلیقہ نہیں آتا، پھر بھی ہر روز ہاتھ پھیلائے اس یقین کے ساتھ تجھ سے مانگتے ہیں کہ تیرے سوا ہماری دعاؤں کو قبول کرنے والا کوئی نہیں۔ اے مالک، ہماری ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو نہ دیکھ، ہمارا تجھ پر جو یقینِ کامل ہے اُس کو دیکھ اور ہماری حاجتوں کو پورا کر دے۔*
*آمین، یا ربّ العالمین!* 🤲 💖
اسلام علیکم
صبح بخیر زندگی 🌹
🌹🌿🍂🍁🌱🌺
PakLove retweeted
"مفاد پرستی کا سلطان"
"فضل الرحمٰن"
تحریر ✒️ شیخ اعجاز انور
پاکستان کی بساطِ سیاست پر اگر ضمیر فروشی، نظریاتی غلاظت اور تقدس کے نام پر دنیا کمانے والے کسی کردار کا چہرہ پوری طرح بے نقاب کیا جائے، تو مولانا فضل الرحمٰن کا نام اس گھناؤنے کھیل کے سب سے بڑے کھلاڑی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ان کی سیاست کا اگر بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا خدا، دین اور ایمان صرف اور صرف "اقتدار کی ہوس" اور "ریاستی مالِ مفت" پر پلنا ہے حکومت کسی کی بھی ہو مولانا کی وزارتیں، مراعات اور حلوے کی دیگیں ہمیشہ پکی رہتی ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ایسے سدا بہار ٹاؤٹ اور مہرے رہے ہیں جو اقتدار کے ٹکڑوں کے بدلے اپنے ہر مالک کے تلوے چاٹنے کو تیار رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی ان کے منہ سے اقتدار کا نوالہ چھینا جاتا ہے، وہ پاگلوں کی طرح اپنے ہی پالنے والوں پر کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔ ان کا حالیہ غصیلا بیانیہ، افواجِ پاکستان کے شہدا کی توہین، اور ریاست کو "ماں" کہنے کے بجائے اس پر تھوکنے کی نجس کوششیں کسی اصول پسندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اقتدار کے حجروں سے دھتکارے جانے کی وہ تڑپ ہے جو ان کی مصلحت پسند اور مفاد پرست روح کو تڑپا رہی ہے۔ وہ صرف اس لیے مقتدر اداروں پر بھونک رہے ہیں تاکہ اپنی مردہ سیاسی اوقات کا دوبارہ سودا کر سکیں اور اقتدار کے بازار میں اپنی قیمت لگوا سکیں۔
اسلام کے اس خود ساختہ محافظ کے لبادے میں ایک ایسا مذہبی بھیڑیا چھپا ہے جس نے فلسفی ابن رشد کے اس قول کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا کہ "اگر جاہلوں پر حکمرانی کرنی ہو تو مذہب کا لبادہ اوڑھ لو"۔ مولانا نے عام، معصوم اور سادہ لوح مسلمانوں کے جذبات کو اپنے مفادات کے تندور میں جھونک کر جس تیز رفتاری سے اربوں/کھربوں کے کالے دھن سے جائیدادیں، محلات اور اثاثے بنائے کاغذات پر خود کو چند لاکھ روپے کا مالک ظاہر کرنے والے مولانا کے اسلام آباد کے پوش علاقے (F-8) میں عالی شان بنگلہ، چک شہزاد میں اربوں روپے مالیت کی اراضی کی مبینہ خریدو فروخت، اور شورکوٹ سے لے کر ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلے ہوئے سیکڑوں کنال زرعی اور تجارتی باغات ان کی مادی ہوس کی گواہی دیتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ روف ماما، دین محمد، عبداللہ وزیر اور گل ظریف جیسے مبینہ فرنٹ مینوں اور بے نامی داروں کے نام پر ڈی آئی خان/ٹانک روڈ، اور اسلام آباد میں جائیدادوں، قیمتی پلاٹس، پیٹرول پمپس اور پلازوں کا ایک پورا جال بچھایا گیا تاکہ احتساب کی آنکھ میں دھول جھونکی جا سکے۔ دبئی اور قطر جیسے خلیجی ممالک میں مبینہ خفیہ سرمایہ کاری اور اپارٹمنٹس کی شکل میں پھیلی یہ سلطنت اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی نیب نے ان سے ان جائیدادوں پر سوال کیا تو جواب دینے کے بجائے انہوں نے ہمیشہ ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے کے لیے مذہب اور اپنے مریدوں کا کارڈ کھیلا کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ کے نام پر دہائیوں تک ملکی خزانے کو دیمک کی طرح چاٹنے والے اس شخص نے ہمیشہ مدارس کی رجسٹریشن اور فنڈنگ کے آڈٹ کی اس لیے مخالفت کی تاکہ ان کی بلیک میلنگ اور مالی سلطنت کا کچا چٹھا سامنے نہ آ سکے تحریکِ طالبان افغانستان کے کم از کم تین امراء کا انہی کے مدارس سے فارغ التحصیل ہونا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ بیرونی فنڈنگ اور دہشت گردی کی نرسریوں کے اصل سرپرست ہیں۔ مشرف کے سائے میں MMA کا ڈھونگ رچا کر نائٹ واچ مین بننا ہو، زرداری کے دور میں وفاقی مراعات سمیٹنا ہو، یا نواز شریف کے دور میں کشمیر کے نام پر عیاشیاں کرنا—مولانا نے ہر دور میں صرف اپنے پیٹ کا دوزخ بھرا ہے۔
دوسری طرف، پاکستان تحریک انصاف کی حالت اس وقت ایک ایسی لاچار اور مجبوری کی ماری طوائف جیسی ہے جو اپنے وجود کو بچانے کے لیے بازار میں داخل ہونے والے ہر گاہک کے آگے اپنا سب کچھ ننگا کرنے پر تیار بیٹھی ہے۔ کل تک جو عمران خان برسرِ عام کہتے تھے کہ "مولانا کو مولانا کہنا اس مقدس لفظ کی توہین ہے" اور انہیں "ڈیزل" کہہ کر ان کی کرپشن کے کھرے نکالتے تھے، اور جو مولانا عمران خان کو "یہودی ایجنٹ" کہہ کر ان کے کفر کے فتوے صادر کرتے تھے، آج وہ دونوں اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کی گود میں جا بیٹھے ہیں PTI نے اپنی سیاسی تنہائی دور کرنے اور محمود اچکزئی جیسے مہروں سے بہتر اپوزیشن کا ٹائٹل پانے کے لیے اس مذہبی بھیڑیے کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ راجہ ناصر عباس اور اچکزئی کے علاوہ PTI کی پوری قیادت اب ان مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں یرغمال بن چکی ہے جن کا پارٹی کے نظریے سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ موجودہ مکروہ گٹھ جوڑ اور سیاسی قلابازیاں اس بات کا حتمی اعلان ہیں کہ ان لیڈروں کا نہ تو کوئی خدا ہے، نہ کوئی اصول اور نہ ہی کوئی حیا یہ اقتدار، طاقت اور اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں اور اپنے ہی تھوکے ہوئے کو چاٹ سکتے ہیں
PakLove retweeted
عوام کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
جب راہ چلتی ہوئی کسی سکوٹی ڈرائیور طالبہ پر تشدد ہوگا۔
جب سر عام کسی بچے پر گاڑی چڑھا کر قتل کر دیا جاۓ گا تو وزیراعلیٰ پنجاب @MaryamNSharif مظلوم کے ساتھ کھڑی ہیں۔
مریم نواز کا بیان کسی ادارے سے ٹکراؤ نہیں جرائم پیشہ افراد کو وارننگ ہے۔
شمائلـــہ رانا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان کے دفاع میں میدان میں آ گئیں۔
@Shamylaroy
کل تک میں مولانا فضل الرحمن صاحب کی بہت عزت کرتا دل میں ان کے لیے بڑا احترام تھا لیکن جب سے انہوں نے بیان دیا کہ میں ریاست کے منہ پر تھوکتا ہوں اس کے بعد سے اب دل میں مولانا فضلو کے احترام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی
محسن نقوی کا سخت بیان
افغانستان نے اپنی موت کو اپ دعوت دے دی
پاکستان نے افغانستان کی تمام چوکیاں تباہ کر ڈالی ہر طرف لاشوں کے انبار
اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
PakLove retweeted
سیکورٹی حصار توڑنےکی واردات بےنقاب ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی انسانی حقوق والی منطق بھی نرالی ہے۔پہلے سیکیورٹی میں خلل ڈالو،کارِ سرکار میں مداخلت کرو،پھر انسانی حقوق کا ماتم شروع۔جن جوانوں نے قربانیاں دےکر کرکٹ بحال کروائی،اُنکی محنت پر پانی پھیر کر مظلوم بننےکا ڈھونگ آخرکب تک؟
PakLove retweeted
ضیاء الرحمن صاحب! معافی مانگ لینےسے نہ ماضی کےبیانات مٹتے ہیں،نہ سوال اٹھانےوالوں کی زبان بند ہوتی ہے۔قومی اسمبلی کوئی خاندانی جاگیر نہیں کہ وہاں جواب دہی پر چیخیں نکالی جائیں۔معافی کےبعد بھی حساب سےڈر لگتاہےتو سیاست میں آئےہی کیوں؟عوام کو خاندانی اثرورسوخ نہیں،دلیل اورجواب چاہیے
PakLove retweeted
علی امین گنڈاپور کا ڈی آئی خان بار کونسل سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے سے بڑا دعویٰ سامنے آگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا کی ناراضی کی اصل وجہ ان کے بیٹے کو گورنر نہ بنایا جانا ہے۔
PakLove retweeted
خواجہ آصف کی تقریر پر ضیا الرحمٰن کا ردعمل سامنے آ گیا۔
ضیا الرحمٰن کا کہنا ہے کہ مولانا اپنے بیان پر پہلے ہی معذرت کر چکے ہیں، اس لیے معافی کے بعد بھی قومی اسمبلی کے فلور پر ہمارے خلاف اس طرح کی سخت اور نامناسب زبان استعمال کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
@ziaurrehman76
PakLove retweeted
"تنقید کرتے ہو تو تنقید سننے کی ہمت بھی کریں!
محسن نقوی نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا کہ
" اب ریاست سے نہ نوکری ملے گی، نہ پیسے اور نہ ہی ٹکٹیں"
مولانا امید ہے آج فاقہ ہو گیا ہو گا اب نہ حکومت میں حصہ اور نہ حلوہ
@MohsinnaqviC42
PakLove retweeted
ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی ہمدردی میں آنسو بہانے والوں سے ایک سوال ہے: مہمان سری لنکن ٹیم کی سیکیورٹی میں خلل ڈالنا اور کارِ سرکار میں مداخلت کرنا کس قانون میں ’’انسانی حقوق‘‘ قرار دیا گیا ہے؟
عالمی کرکٹ کی پاکستان واپسی کے لیے ہمارے سیکیورٹی جوانوں نے خون دیا، قربانیاں دیں۔ مگر کچھ لوگوں کو ہر قانون شکنی کے بعد صرف ’’انسانی حقوق‘‘ یاد آ جاتے ہیں۔
قومی سلامتی کوئی مذاق نہیں!
PakLove retweeted
ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی حمایت میں جذباتی ہونے والوں سے ایک سوال ہے: کیا مہمان سری لنکن کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی میں خلل ڈالنا اور سرکاری امور میں مداخلت کرنا بھی انسانی حقوق کی جدوجہد کہلاتا ہے؟
یہ مت بھولیں کہ ہماری سیکیورٹی فورسز نے بے شمار قربانیاں دے کر پاکستان میں عالمی کرکٹ کی واپسی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا۔ ایسے میں اگر کوئی اپنے طرزِ عمل سے سیکیورٹی انتظامات کو متاثر کرتا ہے تو اس پر سوال اٹھانا ہر پاکستانی کا حق ہے۔ انسانی حقوق اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن قانون کی پاسداری، مہمانوں کی حفاظت اور قومی مفاد کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔
اصولوں کی بات کیجیے مگر یہ بھی بتائیے کہ انسانی حقوق کے نام پر سیکیورٹی اور قانون سے متعلق ذمہ داریوں کو نظرانداز کرنا کہاں تک درست ہے؟
PakLove retweeted
اسلام وعلیکم
گزشتہ رات مجھے معلوم ہوا کہ میرے ایک دُور کے انکل گرکر زخمی ہوگئےتھے جس کا نقصان یہ ہؤا کہ انکی یاداشت چلی گئی ہے انہیں کچھ بھی یاد نہیں اوراس وقت ان پر انکی بیٹیوں کی ذمداری بھی ہے آپ سب سے گزارش ہے میرے انکل کی بیٹیوں کے خاطر جلدی صحت یابی کیلئے دعا کریئگا🤲🏻















