Sabookh Syed | Journalist retweeted
وڈیو دیکھیں۔ 2007 میں عبدل نے بطور طالبعلم صدر کلنٹن کے سامنے تقریر کی، جسکے بعد کلنٹن نے کہا "دعا ہے کہ تمہاری یہ تقریر پوری دنیا سنے"۔آج عبدل کو پوری دنیا سن رہی ہے۔
یہ امریکی نظام کی خوبصورتی ہے، جتنا نظر آتا ہے اسکی جڑیں اس سے کہیں مضبوط ہیں۔ کاش ہمارے حکمران کچھ سیکھیں!
تحصیل جتوئی: جائیداد کے تنازعے پر بھائی نے آٹھ ماہ کی حاملہ بہن کو گولی مار دی۔بھائی اپنی بہن کے گھر آیا تو بہن دکان سے اس کے لیے پیپسی لینے گئی۔ بوتل پینے کے بعد بھائی بہن کی پیٹھ میں پیچھے سے گولی مار دی۔مقتولہ اپنے حصے کی 4کنال 17 مرلے زمین بھائی کے نام کرنے سے انکاری تھی۔
Many congratulations @ahmadishtiaq
Pleased to share the good news that I have assumed office as Executive Director of COMSATS, an intergovernmental organisation headquartered in Islamabad. I look forward to advancing science diplomacy and international cooperation for sustainable development across the Global South.
comsats.org/profile-of-the-e…
comsats.org/message-from-the…
Obituary:
إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
With deep sorrow, we announce that Maj Gen Rashid Mahmood HI (M), (84 LC ex 29Cav/Comd Karachi Logistics Area), has passed away due to sudden cardiac arrest
May Allah grant him a high rank in Jannah!!
Sabookh Syed | Journalist retweeted
کیا پاکستانی مولوی منافق ہیں ؟
بھارت میں سیکولرازم کا مطالبہ اور پاکستان میں سیکولرازم کی مخالفت?
کیا سیکولر ازم اور اسلامی نظام اپنے مقصد میں ایک ہی کام کرتا ہے ؟
سبوخ سید اور خورشید ندیم کے درمیان ایک انتہائی اہم اور دلچسب بحث
youtube.com/watch?v=CIdzn3UK…
کیا پاکستانی مولوی منافق ہیں ؟
بھارت میں سیکولرازم کا مطالبہ اور پاکستان میں سیکولرازم کی مخالفت?
کیا سیکولر ازم اور اسلامی نظام اپنے مقصد میں ایک ہی کام کرتا ہے ؟
سبوخ سید اور خورشید ندیم کے درمیان ایک انتہائی اہم اور دلچسب بحث
youtube.com/watch?v=CIdzn3UK…
Sabookh Syed | Journalist retweeted
یہ ایک بھارتی ہندو تاریخ دان ہے اور یہ ایک انڈین پاڈکاسٹ ہے ۔
ذرا سنیں یہ شیخ مجیب اور مشرقی پاکستان کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔
اب یہ تکبر میں کھل کر بتا رہے ہیں کہ شیخ مجیب بھارتی انٹیلیجنس کے لیے کام کرتا تھا اور بھارتی انٹیلیجنس نے زبردستی فراڈ کر کے اس کو 70 کا الیکشن جتوایا تھا۔
یہ سارا بیانیہ کہ شیخ مجیب حقدار تھا حکومت کا اور اس کو حق نہیں دیا گیا، یہ سب جھوٹ اور فراڈ کے سوا کچھ نہیں۔۔ 70 کا الیکشن بھارتی انٹیلیجنس نے پوری طرح ہائیجیک کر لیا تھا اور اپنی مرضی سے اپنے ایجنٹس اور پاکستان کے غداروں کو جتوایا گیا تھا۔۔
یہ بات اب خود بھارتی کھل کر بتا رہے ہیں ۔۔
Sabookh Syed | Journalist retweeted
جناب اوریا مقبول جان صاحب، @OryaMaqboolJan
آپ ہمیشہ بغضِ ملالہ میں خیانت اور تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آپ ملالہ اور ہمارے متعلق کسی بھی پروپیگنڈے کو تحقیق اور سچائی کی کسوٹی پر پرکھے بغیر بڑے شوق اور محنت سے آگے بڑھاتے ہیں۔ آپ کے اس طرزِ عمل سے ہم سے زیادہ آپ کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ یہ رویہ آپ کے ایمان اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
سورۃ الحجرات کی یہ آیتِ مبارکہ آپ نے اپنے مقتدیوں اور معتقدین کو ضرور سمجھائی ہوگی:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
ترجمہ: “اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق (بدکردار شخص) تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔”
آپ نے اپنے اس ٹویٹ میں بغیر کسی تحقیق کے نینسی سیڈلی کو ملالہ فنڈ کی انچارج کے طور پر متعارف کرایا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ موصوفہ کا ملالہ فنڈ سے دور دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ وہ محض ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہیں۔ اگر آپ ذرا سی محنت کرکے ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر جاتے تو آپ کو آسانی سے اندازہ ہو جاتا کہ ان کی ٹویٹس میں میگن مرکل اور پرنس ہیری کے خلاف نفرت انگیزی اور ٹرولنگ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ملالہ اور ملالہ فنڈ کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی اسی نفرت کا شاخسانہ ہے کہ ملالہ میگن مرکل سے کیوں ملی؟
آپ نے ہم پر بے ایمانی اور وطن کی عزت و ناموس کا سودا کرنے کا الزام لگایا ہے۔ آپ بغیر کسی ثبوت کے اتنے سخت اور بھاری الزامات کیسے لگا سکتے ہیں؟ ایک ادیب ہوتے ہوئے بھی آپ لفظوں کے معانی اور ان کی حرمت کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں؟ کیا کسی کے خلاف ذاتی تعصب آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ اس کی عزت اور کردار پر بغیر ثبوت کے حملہ کریں؟
اور آخر میں، آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ نوبل انعام کے منتظمین اپنی تاریخ میں جن نوبل انعام یافتگان پر فخر کرتے ہیں، ملالہ ان عظیم شخصیات کی فہرست میں شامل ہے۔ ملالہ یوسفزئی کی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کی کہانی دنیا بھر کے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ ایک ہم وطن کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے بھی باعثِ فخر ہونا چاہیے۔
ہم نے ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۲ تک طالبان کی دہشت گردی اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے خلاف آواز اٹھائی۔ گزشتہ ۱۳ سالوں سے ہم پوری شفافیت، دیانت داری اور خلوصِ نیت کے ساتھ دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں نہ اپنے کردار اور جدوجہد پر کوئی ندامت ہے اور نہ ہی کسی رسوائی کا ڈر۔
فارسی کا ایک خوبصورت مقولہ ہے:
زرِ پاک را از آتش چہ باک؟
یعنی خالص سونے کو آگ سے کیا ڈر؟
ہاں، اتنا ضرور ہے کہ:
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوکِ دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرزِ ملامت
اس عشق، نہ اس عشق پہ نادم ہے مگر دل
ہر داغ ہے اس دل میں بجز داغِ ندامت
خیر اندیش،
ضیاءالدین یوسفزئی
نوٹ: دوستوں سے گزارش ہے کہ کمنٹس میں ادب اور احترام کو ملحوظِ خاطر رکھیں
ایک 13 سالہ بچے کی زندگی بچانے کے لیے مدد کی اپیل
13 سالہ حافظ شہزاد احمد برین ٹیومر (دماغ کے سرطان) میں مبتلا ہیں اور شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں زیرِ علاج ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ان کا علاج جاری ہے، لیکن اب ان کی زندگی بچانے کے لیے کیموتھراپی اور آپریشن درکار ہے۔
دو ہفتے قبل شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں زیرِ علاج اس بچے کے عزیزوں نے مجھ سے فون پر رابطہ کیا۔ مجھے معلوم نہیں کہ انہیں میرا رابطہ نمبر کس ذریعے سے ملا، تاہم انہوں نے بچے کے علاج کے لیے مدد کی درخواست کی۔
میں ذاتی طور پر اس خاندان کو نہیں جانتا اور نہ ہی ان سے میری کوئی سابقہ شناسائی ہے۔ تاہم مجھے فراہم کردہ معلومات اور دستاویزات کے مطابق یہ ایک سنجیدہ اور قابلِ توجہ معاملہ ہے۔ اس لیے میں یہ اپیل عام شہریوں اور مخیر حضرات تک پہنچا رہا ہوں تاکہ ممکن ہو تو اس بچے کے علاج میں مدد کی جا سکے۔
علاج کے لیے درکار رقم کی تفصیلات:
* کیموتھراپی کے اخراجات: 12 لاکھ روپے
* آپریشن کے اخراجات: 20 لاکھ روپے
* مجموعی تخمینہ: 32 لاکھ روپے
بچے کے بھائی محمد نبیل کے مطابق ان کا خاندان گزشتہ ڈیڑھ سال سے علاج کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مالی مشکلات کے باعث اب مزید اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
میری تمام صاحبِ استطاعت افراد سے درخواست ہے کہ اس بچے کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔
ایک ضروری وضاحت اور گزارش:
میں اس خاندان کو ذاتی طور پر نہیں جانتا۔ اس لیے جو احباب اس اپیل کے ذریعے تعاون کرنا چاہیں، وہ اپنی مکمل تسلی اور اطمینان کے لیے ہسپتال، مریض کے اہلِ خانہ اور فراہم کردہ میڈیکل دستاویزات کی خود بھی تصدیق کر سکتے ہیں۔ مقصد صرف ایک بیمار بچے کے علاج کے لیے مدد کی کوشش کرنا ہے۔
عطیہ بھیجنے والے احباب سے خصوصی گزارش:
اگر آپ اس بچے کے علاج کے لیے دی گئی بینک تفصیلات پر رقم بھیجیں تو براہِ کرم مجھے بھی ان باکس میں ضرور مطلع کر دیں کہ آپ نے کتنی رقم بھیجی ہے۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ مجموعی طور پر جمع ہونے والی رقم کا حساب رکھا جا سکے، معلوم ہو کہ اب تک کتنی رقم جمع ہو چکی ہے اور کتنی رقم مزید درکار ہے۔ اس طرح یہ بھی یقینی بنایا جا سکے گا کہ ضرورت سے زیادہ رقم جمع ہونے یا حساب کتاب میں کسی ابہام کی صورت پیدا نہ ہو۔
عطیات اور رابطے کی تفصیلات:
رابطہ نمبر: 03008558447
بینک: UBL
اکاؤنٹ ٹائٹل: Alia Mazhar
IBAN:
PK32UNIL0109000312870124
آئیے، انسانیت کے جذبے کے تحت ایک 13 سالہ بچے کی زندگی بچانے کی اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالیں۔
اللہ تعالیٰ حافظ شہزاد احمد کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے اور تعاون کرنے والے تمام افراد کے رزق اور زندگی میں برکت عطا فرمائے۔ آمین۔
اسلام آباد ٹریفک پولیس سے گزارش ہے کہ جی ٹین مکینک مارکیٹ میں کھڑی اس گاڑی کے خلاف کارروائی کی جائے، جس کا نمبر تصویر میں واضح ہے۔
گاڑی کے مالک نے اپنی گاڑی سڑک کے بالکل درمیان میں کھڑی کر دی اور خود وہاں سے چلے گئے۔ اس وجہ سے سڑک پر ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور لوگوں کو گزرنے میں انتہائی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیں بھی محض اس گاڑی کی وجہ سے وہاں سے نکلنے میں تقریباً 15 سے 20 منٹ لگے۔
ٹریفک پولیس سے درخواست ہے کہ گاڑی کے مالک سے رابطہ کرکے انہیں تنبیہ کی جائے اور بتایا جائے کہ عوامی سڑک کو اس طرح بند کرنا دوسروں کے لیے کتنی بڑی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔
شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے۔ براہِ کرم اس معاملے کا نوٹس لیا جائے۔ شکریہ۔
@ICT_Police @dcislamabad
اہل سنت وجماعت بریلوی مسلک کی تنظیموں نے اپنے مکتب فکر کی اصلاحی عوامی تنظیم بنائی ہے جس کا نام تحریک اتباع رسول ہے۔ مسلک کے بڑے علماء اور مشائخ تنظیم میں شامل ہیں۔ ملک گیر اجتماعات کیے جائیں گے ۔
It is indeed surprising and rather unfortunate news that Muhammad Amir Rana, the founding director of the Pakistan Institute for Peace Studies (PIPS), is stepping down from the very institution he founded.
The circumstances appear to have become increasingly complex and challenging. Perhaps he has made this decision to ensure that his personal views and positions do not become a burden for the institution or affect its ability to continue its work. Whatever the reasons behind this decision, it is certainly a significant development.
Amir Rana and PIPS both deserve our best wishes and sincere appreciation. PIPS has made remarkable contributions to countering extremism and promoting peace in Pakistan. Its work in engaging young people, addressing extremist tendencies, and creating spaces for dialogue and critical thinking has been particularly valuable.
We sincerely hope that PIPS will continue its important work and that Amir Rana will remain engaged in advancing the cause of peace, research, and counter-extremism in Pakistan.
My best wishes and warm regards to both Muhammad Amir Rana and the PIPS team. Their contributions matter, and I wish them both continued success in their respective journeys. @AmirRana
اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اور جے یو آئی سے منسلک مدارس کو سی ڈی اے کے نوٹسز
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اور ان سے منسلک متعدد مدارس کے خلاف سی ڈی اے نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر اور اندر مبینہ تجاوزات ہٹانے کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا ہے، جبکہ مختلف مدارس کو بھی بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
سی ڈی اے کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ، واقع مکان نمبر 7، گلی نمبر 83، سیکٹر G-6/4، پر امان اللہ ولد محمد یونس کے نام نوٹیفکیشن چسپاں کیا گیا ہے۔ نوٹس میں گھر کے باہر قائم سیکیورٹی گارڈز کے کیبن اور جنریٹر، جبکہ گھر کے اندر تعمیر کیے گئے اضافی کچن کو قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
سی ڈی اے نے متعلقہ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ 15 روز کے اندر مذکورہ تجاوزات ختم کی جائیں، بصورت دیگر ادارہ خود کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات ہٹا دے گا۔
نوٹس کے مطابق سی ڈی اے نے اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو بھی امان اللہ کو یہی تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب مولانا فضل الرحمان سے منسلک متعدد مدارس میں بھی بلڈنگ کنٹرول قوانین کی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کے نوٹسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر تعمیرات، غیر مجاز تعمیرات اور عمارتوں کے استعمال سے متعلق خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے نے مدرسہ اختر العلوم، بلال ٹاؤن، کورنگ نالہ، کھنہ ڈاک کو منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر تعمیرات کرنے پر نوٹس جاری کیا ہے۔ مدرسے کی انتظامیہ کو 15 روز کے اندر تعمیراتی نقشے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، بصورت دیگر عمارت سیل کرنے کی کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔
اسی طرح ادارہ معارف اسلامیہ، شریعہ ربانیہ، تفی القرآن، مکان نمبر 3، اسٹریٹ نمبر 6، سیکٹر F-8/3 میں بھی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سی ڈی اے کے نوٹس کے مطابق مذکورہ عمارت میں سیٹ بیکس پر غیر قانونی تعمیرات اور چھت پر غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں۔ ادارے کی عمارت کو رہائشی استعمال کے بجائے مدرسے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔
سی ڈی اے نے مدرسے کی انتظامیہ کو تمام نشاندہی شدہ خلاف ورزیاں 15 روز کے اندر ختم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے، جرمانے عائد کرنے اور الاٹمنٹ منسوخ کرنے سمیت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں بلڈنگ کنٹرول قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مدارس سمیت مختلف عمارتوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ تاہم یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان سیاسی تناؤ کی خبریں بھی زیرِ گردش ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا اسلام آباد میں تجاوزات کے کیخلاف آپریشن میں تیزی لانے کا حکم
چیرمین سی ڈی اے اور آئی جی اسلام آباد خود بلڈوزر اور کرین میں بیٹھ کر ایکسپریس وے پر قائم تھانہ کھنہ کی عمارت کو گرا رہے ہیں۔
اب تک اسلام آباد میں 1300 ارب مالیت کی سرکاری اراضی واگزار کروا لی گئی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی
آج کھنہ تھانے کی عمارت کو گرا دیا ہے تھانے کو کرایے کی عمارت میں منتقل کردیا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی۔
اسلام آباد میں بارہ نئے تھانے بنائیں گے، اسلام آباد میں تجاوزات کو ختم کرینگے. وزیر داخلہ محسن نقوی۔

















