بہت ہی بے غیرت انسان ہو تم۔ مادرچود مراثی ہو شریفوں کے یا خان ہو؟ اپنا گانڈو لہجہ دیکھا ہے جیسے بھیک مانگ رہے ہو؟
تمہیں عمران خان نے ٹھیک لوڑے پر لکھا ہوا تھا۔
نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی: خاندان پر کیا گزری؟نائب وزیرِ داخلہ طلال چوہدری کی غلط بیانیاں۔
نورین نیازی کی جیل سے ہسپتال منتقلی، دو راتوں کا قیام اور آج جیل واپسی بارے مختلف خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اس دوران اُس کی بیٹیوں پر کیا گزری؟ چونکہ مملکت اذیت پسندوں (SADISTS) کے قبضے میں، بزرگ خواتین بچوں کی تکالیف میں بھی آسودگی ملنی ہے۔
جھوٹوں کا انبار لگا دیا گیا چنانچہ وضاحت ضروری ہے۔ اپ ڈیٹڈ سافٹ ویئر کے ساتھ طلال چوہدری کا دعویٰ کہ نورین نیازی کے اہلِ خانہ کو فوراً اطلاع دی گئی اور ہسپتال بلوا لیا، سفید جھوٹ ہے۔بیٹا جیل میں اور جیل سے باہر دو بیٹیوں کو میڈیا سے معلوم ہوا۔ میری بیٹیاں والدہ کو ملنے اورڈاکٹروں سے رابطے کی ناکام کوشش کرتی رہیں کہ والدہ کی حالتِ زار معلوم ہو سکے۔
28 اکتوبر شام چھ سات بجے ہسپتال منتقلی کی خبر کی تصدیق ہوئی تو دونوں بیٹیاں فورا" ہسپتال پہنچ گئیں، آج 30 اکتوبر شام چھ بجے دو دنوں سے ہسپتال کی راہداریوں میں بھٹکتی رہیں۔ درجنوں دفعہ دونوں بہنوں کی پولیس نےسرزنش کی کہ ہسپتال کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ بیٹیوں کی ایک ہی درخواست تھی کہ انہیں والدہ کو دیکھنے دیا جائے یا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کروا دی جائے مگر ان کی آہ و بکا بےکار رہی۔
صد افسوس! طلال چوہدری درجنوں ٹھوکریں کھانے اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہونے کے بعد جب سے نیا پیشہ اختیار کیا ہے، وہاں جھوٹ اختیاری نہیں بلکہ لازمی مضمون ہے۔ طلال کی تصحیح کے لیے کہ فیملی جو اس وقت فقط دو بیٹیوں پر مشتمل ہے، نورین نیازی کی ہسپتال آمد اور علاج بارے لاعلم رکھا گیا۔ دونوں بہنیں ساری رات اندھیرے میں تیر چلاتی رہیں کہ کوئی ڈاکٹر ملے اور ماں کی صحت بارے کچھ معلوم کر سکیں۔ چونکہ خاصا میڈیا اکٹھا تھا، زبردستی نکالنے کی جرأت نہ تھی۔
24 گھنٹوں کے بعد اگلے دن 29 کی شام کو جب بیٹیوں نے مجبور کیا تو میں نے ایک بھلے مانس اللہ کے بندے کی منت سماجت کی تو اس کی مہربانی بڑی بیٹی کی ملاقات کی صورت پیدا ہوئی۔ آدھی رات سے کچھ پہلے بڑی بیٹی کو ماں تک رسائی ملی، وہاں ماں کی ڈھلکی صحت دیکھ کر بڑی بیٹی ابھی تک صدمے میں ہے۔ والدہ کی خواہش کہ چھوٹی بیٹی کو بھی ملوا دیا جائے جو چند گزوں کے فاصلے پر موجود تھی اور ماں کو ملنے کے لیے تڑپ رہی تھی۔ جب بڑی بہن ماں کے پاس تھی تو چھوٹی بیٹی بار بار مجھے فون کرکے بلک رہی تھی کہ ’’ابا مجھے بھی اماں سے ملوا دیں‘‘، مگر بے بسی تھی۔ اگلے دن کوشش کی کہ دوسری بیٹی، یا دونوں بیٹیاں، والدہ سے مل لیں، مگر اجازت نہ ملی۔ جب نورین نیازی کو ہسپتال سے جیل منتقل کیا جا رہا تھا توچھوٹی بیٹی نے ماں کو دور سے دیکھا تو اس کی حالت صدمے سے غیر ہو گئی، دونوں بیٹیوں پر دو دن جو بیتی ہے اور جس صدمہ میں ہیں ،جزوی حال درج کر دیاہے۔
طلال چوہدری فرما رہے ہیں کہ خاندان کو فوراً بلا لیا گیا تھا سراسر جھوٹ ہے۔ سوچتا ہوں ماضی میں طلال چوہدری کی جودرگت بنی اور سافٹ ویئر اپ ڈیٹ ہوا، میرے پر بیتی ہوتی تو میں بھی آٹو پائلٹ پر بلال چوہدری کی طرح جھوٹ پرچار کرتا ، فرماں بردار ہوتا۔
بڑی بیٹی کی اس ایک ملاقات کے لیے مجھے کتنی منت سماجت کرنا پڑی، میں جانتا ہوں۔ طلال چوہدری! براہ مہربانی اسے حکومتی کارکردگی نہ بتائیں۔
ظلم خدا کا، MPOکے تحت نظربند خاتون کو مکمل صحت یاب ہونے سے پہلے ہی آناً فاناً دوبارہ جیل جمع کروا دینا،سفاکیت اور اذیت پسندی کی بدترین مثال ہے۔
نورین ایک گھریلو اور introvert خاتون ہیں، جنہوں نے ہمیشہ نجی زندگی گزاری ہے۔ ساڑھے تین سال سے اپنے اکلوتے بھائی اوراپنے اکلوتے بیٹے کی دس سالہ غیر قانونی قید نے اس پر قیامت ڈھا رکھی ہے ،جذبات نے مغلوب کر رکھا ہے۔
ازراہِ تفنن اور ازراہِ تعفن ’’حکومتی مؤقف کہ ایم پی او کے تحت اس لیے حراست میں لیا گیا کہ وہ ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آنے والے جلوس کی قیادت کر سکتی تھیں‘‘۔ بفرضِ محال یہ مؤقف مان لیا جائے تو 27 ستمبر گزرنے کے بعد اور جبکہ گورنر راج نافذ، خواتین کو جیل میں نظربند رکھنا بے شرمی، بے حیائی کے علاوہ کچھ نہیں؟ خواتین کو آخر کب تک، کس بنیاد پر قید رکھا جائے گا؟ نورین کابیٹا حسّان نیازی اسی جیل میں قید ، والدہ کو ہسپتال لے جاتے وقت اسے چند منٹ کے لیے ملوا دینے میں کیا حرج تھا؟
میری آسودگی؛ انہی حرکتوں سے 25 کروڑ عوام کے دلوں میں حکمرانوں خلاف نفرت، غصہ اور دوری مزید بڑھنی ہے۔
طلال صاحب! بیمار خاتون کی تکلیف اور اسکےساتھ پیش آنے والے سلوک پر غلط بیانی نہ کیجیے۔
مجھ پر لازم ہو گیا کہ اصل واقعات سامنے لاؤں تاکہ اذیت پسند حکمرانوں کی سفاکیت عیاں ہو۔ وقت ایک سا نہیں رہتا، ماضی کے کئی ظالم حکمران قبروں میں یا زندہ ہیں مگر اقتدار سے باہر عبرت کا نشان، ان کے انجام دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، کاش آج کے حکمران سبق سیکھتے۔
Pardon my french but bitch is the biggest misogynist of present time.
Women have never been thrashed like bitch is thrashing them in shit pile named punjab.
زندگی میں پہلی بار @MaryamNSharif عام پاکستانی خاتون لگیں پتہ نہیں کیسے ایک پیڑیارکی کے پروردہ مسوجنسٹ آدمی کیساتھ گزارہ کرتی رہیں۔ کِک ہِم آؤٹ آف یور لائف۔ آپ طاقتور ہیں نہ آپکو گھر کا مسئلہ ہوگا نہ خرچے پانی کا کیونکہ عام پاکستانی خواتین اسلیے کمپرومائز کرجاتی ہیں کہ انکے پاس رہنے کی چھت نہیں ہوتی ماہانہ خرچ کا مسئلے ہوتے ہیں۔
جج اینا چونکہ الحمد للہ ثم الحمد للہ پاکستانی مسلمان نہیں اس لئے اس نے نظام انصاف پر ڈاکہ مارنے کے خواہشمند صدر کی للی کاٹ کر اسی کی گانڈ میں دے دی ہے۔
پولیس عدالتی احکامات پر درآمد کرانے نکل آئی ہے کیونکہ ان میں کوئی پاکستانی وردی پوش مادرچودوں جیسا نہیں ہے۔
یہ مسلمان نہیں ہیں۔ ان کے مسجد کے مولوی سے کر ان کے مفتی اعظم کو سامنے بٹھائیں میں ان کے منہہ سے ان کے کفر کا اقرار نہ کرواوں تو آپ کے جوتے میرا سر۔
یہ محاورے والے نہیں اصل قرآنی تعریف کے مطابق کافر ہیں۔ ان کا شعائر اللہ کو استعمال کرنا اسلامی اصطلاحات استعمال کر قابل گردن زدنی جرم ہے۔
W O L F retweeted
اللہ کے نبی نے تو دورانِ جنگ بھی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا مگر خود کو ’’اللہ کی فوج‘‘ کہلوانے والوں نے کشمیر ایکشن کمیٹی کے رکن شکدر خان کی والدہ، اہلیہ اور دو کم عمر بچوں کو ناحق شہید کر دیا۔
Bitch is paedophile , more than obvious. Look at the way bitch grabs children.
بھونک @HamidMirPAK
W O L F retweeted
کشمیر ایکشن کمیٹی کے رکن کے گھر پاک فوج نے ڈرون حملہ کرکے دو بچیاں اور دو خواتین شہید کردی ہیں۔
W O L F retweeted
Imran Khan's son says no one has heard from imprisoned cricket legend for months - and that fears are growing trib.al/AVBEDNZ
W O L F retweeted
جنوبی باغ چار سے 6 لوگوں کی شہادت ہوئی ہے،*
*یزیدی فورسز بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں، کے وہاں سلنڈر پھٹا پھر کہتے ہیں کسی بچے نے کوئی چیز گھر لائی جو اسے ملی وہ پھٹی،*
*پہلے آگاہ کر دوں انتہائی غریب گھرانا تھا انکے گھر میں سلینڈر نہی تھا، دوسری بات اس گھر میں کوئی بچا ہی نہی جو بتا سکے کے بچہ کچھ لے آیا یا کیا ہوا،*
*فورسز نے اس گھر کو گھیرا اور اس پر دهماكہ خیز چیز پھینکی یقیناً گرینیڈ، اور دھماکے سے پہلے اس گھر کا گھراؤ فورسز کر چکی تھیں، جو پہلا بندہ وہاں پہنچا جو کے پڑوسی تھا اسے آگے فورسز ملی جو گھر کو گھیرے ہوۓ تھیں*

















