Pinned Tweet
ہندو، سکھ، مسیحی حتیٰ کہ یہودی بھی (اگر کوئی پاکستان میں رہتا ہے تو) ہمارے بھائی، ان کے حقوق کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر بولیں گے۔ جو ان کے ساتھ کچھ ناحق کرے گا اس کے گلے پہ ہاتھ ڈالیں گے۔ مگر سن لو، کانڑے دجال کے پیروکار قادیانیوں کا کوئی احترام نہ عزت نہ حق۔ تاوقتیکہ وہ خود کو اقلیت تسلیم کرکے ہر حوالے سے اپنی شناخت مسلمانوں سے الگ نہیں کر لیتے۔
حامد میر صاحب کو سکول دور سے پڑھ رہا ہوں۔ اب خود بھی نیوزرومز کی خاک چھانتے 2 عشرے بیت چکے۔ لکھنے کو کتاب لکھ دوں لیکن آپ ایک جملے پر ہی اکتفا کیجیے کہ ”حامد میر کے متعلق جو بکواس کرتے ہیں، وہ واقعی بکواس کرتے ہیں۔“
@HamidMirPAK
اختلاف اپنی جگہ، طاقتِ اظہار مولانا پر بس ہے۔ موجودہ لاٹ میں شاید ہی کوئی اور سیاستدان بولنے میں ان کے پائے کا ہو۔
Ahmad Nawaz Kamyana retweeted
میرے دیس تے مالکا! کوئی اترے نہ عذاب
تیرا وسّے کعبہ سوہنیا، میرا وسدا رہے پنجاب
میں نے پوسٹ وائرل کرنے کا ایک طریقہ دریافت کیا ہے۔ کوئی اے آئی ویڈیو پوسٹ کرو اور کیپشن ایسا دو جیسے آپ اسے اصلی ویڈیو سمجھ رہے ہیں۔ پھر غول کے غول آئیں گے آپ کو یہ بتانے کہ ویڈیو اے آئی ہے۔ اتنے کمنٹس ہوں گے کہ پوسٹ وائرل ہو جائے گی۔😜
ہر ماں کو اپنے بچے کی اس طرح پرورش کرنی چاہیے😊
Readers added context they thought people might want to know
Misinformation!
This is an AI-generated creation. Nothing to do with reality.
x.com/dintentdata/st…
tiktok.com/@nature.love63…
خواہش کو خبر بنانے والے صحافی۔ آپ کو اس وقت ہنسی نہیں آتی جب ایسے صحافی دوسروں کو سیاستدانوں کے بھونپو ہونے کے طعنے دیتے ہیں؟
صورتحال واقعی کچھ ایسی بن گئی تھی۔ جیو نیوز نے تو سب سے پہلے بریکنگ نیوز دینے کے چکر میں پاکستان کی شکست کی خبر بھی چلا دی تھی۔
انیق ناجی کے قضیے پر اتنا کہوں گا کہ حالیہ عرصے میں ن لیگ کے کئی حامی انیق ناجی بن چکے ہیں۔ جن لوگوں نے انیق ناجی بن کر عمران خان کی مدح سرائی شروع کر دی، سمجھ لیں وہ ڈالرز کے لالچی ہیں، سوشل میڈیا پر ویوز کے لیے اُدھر گئے ہیں تاہم جو لوگ ن لیگ پر تنقید کر رہے ہیں مگر عمران خان کے متعلق بھی ان کا مؤقف نہیں بدلا، وہ ناراض لوگ ہیں، ن لیگی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں سے ناراض۔ انہیں احسن طریقے سے رام کرنے کی کوشش کریں، وزراء تک لٹھ لے کر ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں اور پیڈ ن لیگی ٹرولز ان پر نہ چھوڑ دئیے جائیں۔ ایسے بے لوث رضاکار کسی بھی پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ پاکستان کی سیاست میں طویل عرصے تک چلنا چاہتے ہیں تو اس اثاثے کی قدر کریں تاہم اگر آپ کو صرف حالیہ حکومت تک غرض ہے تو پھر دفع کریں ایسے وفا شعاروں کو۔ ٹاؤٹوں اور خوشامدی گروپ کی چاپ لوسی کے نشے میں مست رہیں۔
موٹرسائیکل اور رکشے کا 2000 روپے کا چالان ظلم ہے۔ خدارا یہ ظلم بند کیجیے۔ آپ سوئٹزرلینڈ کے حکمران نہیں ہیں۔ اپنے عوام کی مالی حالت دیکھ کر جرمانے کریں۔
یہ وقتی جذبات ہوسکتے ہیں۔ اسے بچہ دیا گیا تو کل یقینی طور پر بچہ سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر ہو گا۔ بچے کو نانی کے پاس ہی رہنے دیا جائے۔ ڈائن ماں کے اس شہر میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی جائے جہاں بچہ رہتا ہے اور باپ کو بچے کا خرچ اس کی نانی کو ہر ماہ پہنچانے کا پابند کیا جائے۔
مزید اس ڈائن ماں کے آئندہ ماں بننے پر بھی پابندی عائد کی جائے۔
جی آیاں نوں منگل والا صاحب، چشمِ ما روشن دلِ ما شاد
@ovaismangalwala
اسے معاف کرنا ہے تو شوق سے کر دو لیکن خدارا بچہ اس سفاک عورت کو واپس مت کرنا بلکہ اس کے اُس شہر میں داخلے پر بھی پابندی لگائی جائے جس شہر میں بچہ اپنی نانی کے ساتھ رہ رہا ہے۔
اس سفاک کا جملہ نجانے کتنا عرصہ کانوں میں گونجتا رہے گا جو یہ بچے کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے کہتی ہے کہ ”توں قبر دی تیاری کر۔“



