Pinned Tweet
وہ بلوچ ہے تو ہم بھی بلوچ ہیں، اگر وہ گلے میں فٹ ہونا چاہ رہے ہیں تو مجبوراً ہم بھی دفاع کریں گے۔ اگر آپ جھل مگسی آئیں گے تو ہم لڑیں گے، نواب زادہ میر زرین مگسی نے بلوچ عوام دشمن تنظیموں کو واضح پیغام دے دیا۔
بلوچوں کی سرزمیں پر یا ہماری مٹی میں ایک کٹورا پانی کی قیمت سو سال وفا ہے
آئیں جی بھر کر پانی پیئیں اور اپنی زندگیوں کے سودے کرلیں
سردار اختر مینگل ویسے تو بلوچ خواتین کی عزت و غیرت کے لمبے لمبے لیکچر دیتے ہیں، لیکن جب بات سردار صاحب کے ذاتی و سیاسی مفادات کی آتی ہے، اپنی سرداری کی آتی ہے تو پھر انہی بلوچ بیٹیوں کو غیر مردوں کے درمیان سڑکوں پر بیٹھانا بھی جہدوجہد ہوتی ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
یہ ہمارا بلوچ تنظیم ہے جس نے ہم بلوچوں کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔
ابھی تو ہمارے ان نام نہاد ہمدردں کے پلے کچھ نہیں اور یہ ہم بلوچوں کا یہ حال کر رہے لیکن اگر خدانخواستہ یہ ہم پر ریاستی انداز میں مسلط ہو جائیں تو سوچیں ہمارے ساتھ کیا کیا کریں گے۔
جس کی لاش گھسیٹی جا رہی ہے یہ بلوچستان کا بلوچ ہے بظاہر اسے باقی بلوچ کیلئے عبرت کا نشان بنایا جا رہا لیکن یہ نہیں جانتے کہ یہ خود بلوچستان کے عام بلوچ کیلئے نفرت کا مقام سے بھی آگے جا چکا ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
اخترمینگل کی اپنی کل جائیداد 31 ارب روپے کی ہے،معدنیات کے ٹھیکے،ماربل کا کاروبار سمیت سب کرتے ہیں۔
لیبر سروے میں خضدار میں بے روزگاری کی شرح 38 فیصد ریکارڈ کی گئی،خضدار اخترمینگل کا علاقہ ہے
اس کے باوجود اختر مینگل کی اپنی مائننگ اور تعمیراتی کمپنیوں میں مقامی نوجوانوں کو مواقع نہیں دیے جاتے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی کوئی ریاست کان لیز، سبسڈی یا غیرقانونی اثاثوں پر سوال اٹھاتی ہے، تو فوراً لاپتہ افراد ، استحصالی ریاست اور انسانی حقوق جیسے نعرے لگا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یعنی اخترمینگل کو روزگار دینے کے لئے بلوچ نوجوان نظر نہیں آتے لیکن جب اپنے کاروبار کا تحفظ چاہیے ہوتا ہے تب انہی نوجوانوں کو ایندھن بنایا جاتا ہے
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کی بیٹیاں صرف خواب نہیں دیکھتیں بلکہ انہیں پورا کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں، کوئٹہ کی ان پانچ بہنوں کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ ❤️
ہم نے وہ وقت بھی دیکھا ہے جب ہمارے لوگوں کو علاج کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ کر کراچی اور اسلام آباد جانا پڑتا تھا، آج حکومت بلوچستان کی کوششوں سے ہمارے اپنے صوبے میں ایک سے بڑھ کر ایک جدید ہسپتال بن رہا ہے۔ کوئٹہ میں 150 بستروں پر مشتمل جدید کارڈیک ہسپتال کا افتتاح جلد ہونے والا ہے۔ دعا ہے کہ ایسی جدید سہولیات کا دائرہ ہر ضلع تک پھیلے۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچ خواتین کا پیغام؛ اپنے بچوں کو احتجاج اور دھرنوں کا حصہ بنانے کے بجائے تعلیم دیں، ان کے خوابوں کو پورا کرنے کا موقع دیں۔ ہماری خواہش ہے کہ ہماری بیٹیاں پہچانی جائیں تو اپنی تعلیم، ہنر اور کامیابی سے، اور آنے والی نسل کا مستقبل علم، شعور اور خوشحالی سے روشن ہو۔
Mahpara Magsi retweeted
Not everyone waits for change; some take the initiative themselves. Proud of these young volunteers and their efforts.🙌
Mahpara Magsi retweeted
سردار کہتا ہے کہ معدنیات پر ہمارا حق ہے جبکہ ریاست کا موقف ہے کہ معدنیات پر صرف بلوچ عوام کا حق ہے۔
مری قبیلے کے سربراہ نواب مہراللہ نے یہی معدنیات انگریز افسر سنڈیمن کو پانچ سو ماہانہ الاؤنس کےعوض معدنیات لکھ کر دیدی تھیں۔
جو کل تک صوبے کی معدنیات چند سکوں کے عوض انگریزوں کو بیچتے رہے وہ آج کس منہ سے معدنیات کے وارث بنے بیٹھے ہیں؟
مسلح تنظیموں میں شامل ہو کر پہاڑوں پر جانے والے نوجوان صرف قبائلی لوگ نہیں، ان میں سندھ اور پنجاب کے مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد بھی شامل ہیں، یہ کوئی اور نہیں سردار اختر مینگل صاحب کہہ رہے ہیں جو اپنے جلسوں دھرنوں میں کہتے رہے بلوچستان میں دہشت گردی کی بنیادی وجہ محرومی ہے۔
یہ کوئی حقوق یا محرومی کی جنگ نہیں، بلوچستان کے نوجوان کو ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت برین واش کر کے دہشگردی کی راہ پر دھکیلا جا رہا ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کے ضلع نصیر آباد کے علاقے منجھو شوریٰ میں بی ایل اے کے کارندوں نے مبینہ طور پر بجلی کے ٹرانسمیشن ٹاور کو نقصان پہنچا کر قریبی علاقوں کی بجلی کی فراہمی متاثر کر دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر بنیادی سہولیات کو تباہ کرنا کون سی جدوجہد ہے؟ جن علاقوں میں شہریوں کو پہلے ہی بجلی، پانی اور گیس جیسی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے، وہاں موجود انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا عوام کے حقوق کی جنگ نہیں بلکہ انہی حقوق پر ڈاکا ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کا نوجوان اپنے ہاتھوں میں بندوق نہیں کتاب چاہتا ہے اور وہ کتاب تھام کر اپنی نسل بدل بھی رہا ہے۔
جو سوشل میڈیا پر نام نہاد حقوق کی تحریک پروپیگنڈہ کرتی ہے یہ محض سوشل میڈیا مواد سازی تک محدود ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ پنجگور کتاب میلہ میں 10 لاکھ کتب فروخت ہوئی ہیں۔
اتنی بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر نوجوانوں نے پیغام دیدیا ہے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں۔
ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں حکومت نے یہ نہیں کیا، انتظامیہ نے ہمارے محلے پر توجہ نہیں دی یا ہمارے شہر میں سہولیات کا فقدان ہے لیکن کبھی ہم نے یہ نہیں سوچا کہ تبدیلی کا یہ سفر ہم خود کہاں سے شروع کر سکتے ہیں۔ نوشکی کے علاقے کلی قاضی آباد کے نوجوانوں نے اس سوال کا عملی جواب دے کر سب کے لیے ایک روشن مثال قائم کر دی ہے۔
نوشکی کلی قاضی آباد میں چند باشعور نوجوانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی گلی میں خوبصورت پودے لگائے گئے، رات کے وقت تاریکی کو دور کرنے کے لیے روشنیوں کا بہترین انتظام کیا گیا اور اپنے اردگرد کے ماحول کو ایسا پرکشش بنایا کہ اب اس راستے سے گزرنے والا ہر شخص چند لمحوں کے لیے ضرور رک کر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا یہ واقعی نوشکی ہے؟؟
خوبصورتی صرف بڑے منصوبوں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر بامعنی اقدامات سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہر محلے کے نوجوان اپنے حصے کا چراغ روشن کریں تو پورا شہر روشن ہو سکتا ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
ہمارا سردار اختر جان مینگل کہتا ہے پنجابی ہمارا دشمن ہے ہمارا وسائل کھا رہا لیکن یہ پنجابی ہمارا سردار کا دشمن نہیں کیونکہ اگر پنجابی ہمارا سردار کا دشمن ہوتا تو کیا ہمارا سردار ایک پنجابی سے اپنا پیاری بیٹی بانڑی مینگل کا شادی کرتا؟
ہمارا سردار کا پنجابی داماد کا نام ملک شمیر اسلم ولد ملک امین اسلم ہے جو ساہیوال کا ایک بڑا پنجابی رئیس ہے اور اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارا سردار کے داماد کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جس کا حکومت گرانے میں ہمارا سردار نے اشرافیہ کا پورا ساتھ دیا۔
لیکن میرے بلوچستان کے رہنے والے بلوچو تم یاد رکھنا کہ یہ پنجابی ہمارا دشمن ہے کیونکہ ہمارا سردار اختر مینگل کہتا ہے۔ اب ہمارا سردار خود چاہے پنجابیوں کو اپنا بیٹی دے پنجاب میں جائیداد بنائے گھر خریدے۔
Mahpara Magsi retweeted
22 سالہ تھلیسیمیا مریض کی چیف منسٹر بلوچستان سے گزارش!
تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لیے کوئٹہ میں قائم تھیلیسیمیا سٹی سینٹر امید اور زندگی کی نئی کرن بن رہا ہے. یہاں مریضوں کو کون سی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور حکومتِ بلوچستان نے صحت کے شعبے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
جانیئے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں ۔
Mahpara Magsi retweeted
ایک طرف شہناز، ماہرنگ، شاری ہے جو صرف یہ بتاتا ہے بلوچستان میں تباہی ہے، امن نہیں، روزگار نہیں، دہشتگردی ہے، حکومتی رٹ نہیں۔
تو دوسری طرف عابدہ بتول، مائرہ محمود اور مشعل مینگل ہے جو پوری دنیا میں بلوچستان کا نام روشن کرتا ہے بلوچیت کی شان بڑھاتا ہے اور بتاتا ہے بلوچستان میں امن بھی ہے، روزگار بھی اور حکومتی رٹ بھی۔
Mahpara Magsi retweeted
خاران میں صحت کی سہولتوں کا نیا انداز!
اب شہری بلوچی زبان میں صحت ایپ کے ذریعے آن لائن ڈاکٹرز سے رابطہ کر کے گھر بیٹھے طبی مشورے حاصل کر رہے ہیں
زبان کی آسانی، ٹیکنالوجی کی سہولت اور صحت کی بروقت رہنمائی بلوچستان میں ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کا ایک ایسا قدم جو علاج کی سہولت کو عوام کے مزید قریب لا رہا ہے
Mahpara Magsi retweeted
یہ خاران کا سرکاری ہائی اسکول ہے، جو کچھ عرصہ قبل تک خستہ حالی کا شکار تھا۔جہاں کبھی ویرانی اور خاموشی کا راج تھا،آج تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش نے اسکول کی تصویر بدل دی ہے۔ نئی عمارت، بہتر سہولیات اور خوشگوار تعلیمی ماحول میں خاران کے بچے اپنے روشن مستقبل کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کے نوجوانوں ،پہاڑ نہیں پارلیمنٹ ،اسلحہ نہیں قلم ،تشدد نہیں امن ،مسلح مزاحمت نہین ،جمہوری مزاحمت










