Pinned Tweet
Surat-ul-Hadeed: 57 | Ayat: 18
بیشک صدقہ و خیرات دینے والے مرد اور صدقہ و خیرات دینے والی عورتیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حسنہ کے طور پر قرض دیا ان کے لئے (صدقہ و قرضہ کا اجر) کئی گنا بڑھا دیا جائے گا اور اُن کے لئے بڑی عزت والا ثواب ہوگا 🌴
﴿سورۃ الحدید، ۱۸﴾
اور وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یقین جانو، میرا عذاب بڑا سخت ہے🌴
﴿سورۃ ابراھیم، ۷﴾
بندے پر اس کے دین کے مطابق آزمائش آتی ہے ۔ اگر وہ اپنے دین (اور ایمان) میں مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔ اگر اس کا ایمان نرم ہو تو اس کے ایمان کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ بندے پر آزمائش (اور مصیبت) آتی رہتی ہے حتیٰ کہ اسے ایسا کر کے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چل پھر رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ (باقی) نہیں ہوتا🌴
﴿سنن ابن ماجہ، ۴۰۲۳﴾
Surat-ul-Baqara: 2 | Ayat: 168
اے لوگو ! کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو ، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے🌴
﴿سورۃ البقرہ، ۱۶۸﴾
Surat-ul-Furqan: 25 | Ayat: 58
اور تم اس ذات پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی، اور اسی کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے کے لیے کافی ہے🌴
﴿سورۃ الفرقان، ۵۸﴾
Surat Muahammad: 47 | Ayat: 24
کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں🌴
﴿سورۃ محمد، ۲۴﴾
آپ اے سی چلا کر پوری نیند لینے کے بعد ہائی وے پر دو گھنٹے کے سفر پر نکلتے ہیں۔
45 منٹ گزرتے ہی آپ کو جمائیاں آنے لگتی ہیں اور آنکھیں کھلی رکھنا مشکل ہونے لگتا ہے۔
آپ سموتھ سڑک اور ڈرائیونگ کو اس کی وجہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل وجہ آپ کی گاڑی کے اندر کی ہوا ہوتی ہے۔
ری سرکولیشن والا بٹن آپ کی گاڑی کو باہر کی ہوا سے الگ کر دیتا ہے۔
آپ کا ہر سانس کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) میں اضافہ کرتا ہے اور وہ اندر ہی پھنسی رہتی ہے۔
30 منٹ بعد اس کی مقدار باہر کی ہوا کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
باہر کی ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ تقریباً 400 پارٹس پر ملین ہوتی ہے۔
دو افراد کے ساتھ بند گاڑی میں صرف 30 منٹ بعد یہ مقدار 2,500 سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
اس سطح پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واضح طور پر سست پڑ جاتی ہے اور ردعمل دینے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
آپ کے فیصلے خراب ہونے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔
آپ ہائی وے پر تیز رفتار سے گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ کا دماغ ایسے کام کر رہا ہوتا ہے جیسے آپ مسلسل 20 گھنٹے جاگ چکے ہوں۔
خوفناک بات یہ ہے کہ آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
آپ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو گرمی یا سردی کی طرح محسوس نہیں کر سکتے۔
آپ کو بس تھکن، بھاری پن اور دماغ پر دھند سی چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو آپ چائے یا کافی پینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔
لیکن چائے یا کافی اس مسئلے کو حل نہیں کرے گی کیونکہ آپ کے جسم کو تازہ ہوا کی کمی ہو رہی ہوتی ہے۔
ری سرکولیشن موڈ کافی دیر تک چلنے کے بعد آپ کی گاڑی کی ہوا زیادہ تر آپ کی اپنی سانس پر مشتمل ہوتی ہے جو بار بار گردش کرتی رہتی ہے۔
گاڑی میں بچے موجود ہوں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بھی تیزی سے جمع ہوتی ہے۔
بچوں کے جسم میں توانائی خرچ ہونے کی رفتار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے جسمانی سائز کے حساب سے وہ بڑوں کی نسبت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔
ری سرکولیشن کا صرف ایک کام ہے باہر کی ہوا کو اندر آنے سے روکنا۔
یہ شدید ٹریفک کے لیے بنایا گیا ہے جہاں یہ اردگرد کی گاڑیوں کے دھوئیں کو اندر آنے سے روکتا ہے۔
ہائی وے پر اسے بند کر دیں اور تازہ ہوا کو اندر آنے دیں۔
اگر آپ اسے آن رکھنا پسند کرتے ہیں، تو اسے وقفے وقفے سے تبدیل کریں 30 منٹ آن رکھیں،ل پھر 10 منٹ آف کر دیں اور پورے سفر کے دوران یہی عمل دہراتے رہیں۔
ہائی وے پر غنودگی کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں پیرامیڈکس نے جن گاڑیوں کو چیک کیا ان میں سے زیادہ تر کا ری سرکولیشن موڈ آن پایا گیا۔
اس کے باوجود اے سی کی یہ سیٹنگ کبھی حادثے کی وجہ کے طور پر جانی نہیں جاتی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑیوں کے اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کوئی چیک نہیں کرتا۔
بات سیدھی سی ہے بند گاڑی، گزرتا وقت اور اندر موجود مسافر یہ سب مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھاتے ہیں۔
اگلی بار لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے اس نشان کو تلاش کریں جس میں تیر باہر سے گاڑی کے اندر آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یہ فریش ایئر موڈ ہے، اور ہر 30 منٹ بعد ایک بار بٹن دبانے سے آپ کی گاڑی کی ہوا صاف رہتی ہے اور صاف ہوا آپ کو چوکنا رکھتی ہے ۔
اگر آپ اسے آن رکھنا پسند کرتے ہیں، تو اسے وقفے وقفے سے تبدیل کریں: 30 منٹ آن رکھیں، پھر 10 منٹ آف کر دیں، اور پورے سفر کے دوران یہی عمل دہراتے رہیں۔
لمبے سفر کے دوران آپ کی گاڑی کا ایک بٹن اتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) اندر روک لیتا ہے کہ 30 منٹ کے اندر آپ کو نیند کے جھونکے آنے لگتے ہیں۔ آپ اپنی ہی گاڑی کے دھوئیں جیسی خارج شدہ گیس بار بار سانس کے ذریعے اندر کھینچ رہے ہوتے ہیں۔
آخر ڈرائیونگ کے دوران بار بار جمائیاں آنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ پوسٹ رفاہِ عامہ کے لیے شیئر کریں اور دوستوں کو ٹیگ کریں۔ بشکریہ علی قیصرانی











