Pinned Tweet
عین ممکن ہے میں کہانی میں فنا ہو جاؤں
شمع محفل سے ایک قصہ پارینہ بن جاؤں
عین ممکن ہے تو اپنے ہاتھوں سے کھو دے مجھے
میری پارسائی کا بت ٹوٹنے لگا ہے
دور ویرانوں کا مکیں ہو جاؤں
شہر خاموشاں کے عہد کا امیں ہو جاؤں
اجنبی زمیں کی آغوش میں سو جاؤں
دنیا کی رنگینیوں سے جی اٹھنے لگا ہے
ہمارے نجی چینلز کےرپورٹرز اور صحافی دراصل لوکل صحافت کے عادی ہیں، وہ ایسے کاؤنٹر دلائل کے عادی نہیں بھائی۔
وہ اکیلا حکومتی ترجمان بٹھا کےبغیر کوئی کاؤنٹر سوال یا دلائل کے پورا شو کرتے ہیں۔
اور انکے سفید جھوٹ پہ ہممم ہاں صحیح کہہ کے سر ہلاتے ہیں۔
سو آپ وقت ضائع کررہےہیں انکے ساتھ
ریفرنس بلکل آئنی طریقہ سے دائر ہوا تھا، اگر اس میں کچھ بھی غیر آئنی تھا تو براہ مہربانی اس کی نشان دہی کریں۔ لیکن سب سی اہم بات یہ ہے کہ ریفرنس درست تھا یا نہیں، الزامات درست تھے یا نہیں۔ اور وہ بلکل درست تھے۔ فروعی معاملات مقدمے کی صحت کو مسترد نہیں کر سکتے۔
اگر آج بھی فوج عمران خان پر کوئ الزام لگائے اور مقدمہ کرے، تو اگر وہ الزام درست ہیں تو خان کو سزا ملنی چاہیے، صرف اس لئے کہ الزام فوج نے لگائے عمران خان کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مقدمہ کے صحت سب سے زیادہ اہم ہے۔ اور یہی ہماری دلیل عمران خان کے کیس میں ہے، کہ فوج نے جو الزام لگائے وہ غلط ہیں، اور نہ وہ ان کو ثابت کر سکی ہے۔ کسی نے یہ نہیں بولا کہ عمران خان کے کیسز پھینک دینے چاہیے صرف اس لیے کہ الزامات فوج یا کسی نے بھی لگائے ۔
حضورِوالا کےپاس ارشد شریف کی شہادت کےجواب میں اسدطور اور مطیع اللہ کی مثالیں تھی،سو وہی پھینک دیں۔
ایسی تو آغا سرور،حسنین رفیق،جمیل فاروقی، عمران ریاض جیسی لاتعداد مثالیں ہیں جو مہینوں محصور اور لاپتہ رہے، مطیع اور اسد تواسکا پاؤ پاسکوں بھی نہیں۔
جسٹیفائی نہ کیاکریں۔شودےلگتےہیں۔
𝓦𝓪𝓼𝓲𝓶 𝓚𝓱𝓪𝓷 retweeted
تھک گئے ہو تو تھکن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم مجھے واقعتاً چھوڑ کے جا سکتے ہو
ہم درختوں کو کہاں آتا ہے ہجرت کرنا
تم پرندے ہو وطن چھوڑ کے جا سکتے ہو
تم سے باتوں میں کچھ اس درجہ مگن ہوتا ہوں
مجھ کو باتوں میں مگن چھوڑ کے جا سکتے ہو
ایسے آسکتے ہو جیسے کوئی خوشبو آئے
اور جانے کو گھٹن چھوڑ کے جا سکتے ہو
عمار اقبال
𝓦𝓪𝓼𝓲𝓶 𝓚𝓱𝓪𝓷 retweeted
تو تو جگر ہے جیتا رہے اور ترے طفیل
قرب و جوار میں بھی سدا خیریت رہے
کومل جوئیہ
@assi_gilani @Jadoon_hu
کبھی جن لوگوں کے ساتھ ہنستے بولتے تھے، وقت بدلنے پر انہی کی تذلیل شروع کر دیتے ہیں۔ اور کچھ چمچیاں اس تماشے میں ایسے شامل ہو رہی ہیں جیسے انہیں بھی کوئی تمغہ ملنے والا ہو۔ جو آج ڈھول پیٹ رہی ہیں انجام آپکا بھی یہی ہو گا۔ تعلق ختم ہوا ہے، اخلاقیات کا جنازہ نکالنا ضروری نہیں ہے۔
𝓦𝓪𝓼𝓲𝓶 𝓚𝓱𝓪𝓷 retweeted
جو وصف چھوڑ کے اوروں میں نقص دیکھتے ہیں
وہ گویا آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہیں
بُلوغِ فکرکے پیشِ نظر ہے منطِق اور
نا پختہ ذہن پسندیدہ شخص دیکھتے ہیں
لبنیٰ غزلؔ
𝓦𝓪𝓼𝓲𝓶 𝓚𝓱𝓪𝓷 retweeted
ٹائم لائن پر حلال اور حرام چمچہ گیری پر لڑائی چل رہی ہے۔ سارا تماشا دیکھ کر ایک ہی محاورہ یاد آیا ہے: ساڈا کتا کتا، تے تہاڈا کتا ٹومی!
کوئی ہمدردی کرے گا، کوئی سوال، کوئی تنقید تو کوئی مزاق۔
لیکن ہر شخص اس پہ تبصرہ اپنا فرض سمجھے گا🙂 nitter.cf/Saniya19_/status/21190…
جب عدالتیں حکومت کی ہو جائیں، تو ہر درخواست کا فیصلہ سنے جانے سے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔
جبر کا تجزیہ | نمبر 3: عدالتوں کو خاموش کرو
فلپائن، ستمبر 1972۔ صدر فرڈینینڈ مارکوس مارشل لا نافذ کرتے ہیں، اور سب سے پہلے گرفتار ہونے والوں میں اپوزیشن سینیٹر نینوئے اکینو بھی ہیں، جنہیں عام طور پر مارکوس کا جانشین سمجھا جا رہا تھا۔ اکینو اپنی رہائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہیں، مگر 1974 میں عدالت مارشل لا اور ان کی حراست دونوں کو درست قرار دے دیتی ہے۔ تین سال بعد ایک فوجی کمیشن انہیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت سنا دیتا ہے۔
یہ حربہ کیوں کام کرتا ہے:
– عدالتی فیصلہ ایک من مانی حراست کو قانون کا لبادہ پہنا دیتا ہے
– ہر مسترد درخواست اگلے قیدی کو یہ پیغام دیتی ہے کہ کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں
– حکومت کو اپنا دفاع کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ وہ بس اتنا کہہ دیتی ہے کہ عدالت فیصلہ دے چکی ہے
یہ حربہ کیوں ناکام ہوا:
– اکینو ٹوٹنے سے انکاری رہے۔ انہوں نے سات سال سات ماہ جیل میں گزارے، جن میں سے کچھ عرصہ قیدِ تنہائی میں، اور 40 دن کی بھوک ہڑتال کی۔ دو دل کے دوروں کے بعد انہیں علاج کے لیے امریکہ جانے کی اجازت ملی، اور تین سال بعد، یہ خبردار کیے جانے کے باوجود کہ انہیں قتل کیا جا سکتا ہے، وہ واپس منیلا آ گئے۔ 21 اگست 1983 کو انہیں ایئرپورٹ پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
– ان کی بیوہ کوری، جو کبھی کسی سرکاری عہدے پر نہیں رہی تھیں، 1986 کے انتخابات میں مارکوس کے مقابلے میں کھڑی ہوئیں۔
– مارکوس نے خود کو فاتح قرار دیا اور نتیجہ ماننے سے انکار کر دیا۔ الیکشن کے اپنے کمپیوٹر ٹیکنیشن دھاندلی میں مدد دینے کے بجائے کام چھوڑ کر چلے گئے، اور لاکھوں لوگ منیلا کی سڑکوں پر نکل آئے۔ چار دن بعد مارکوس ملک سے فرار ہو گئے، اور کوری اکینو صدر بن گئیں۔
کسی عدالت نے نینوئے اکینو کو آزاد نہیں کیا۔ ان کے خاندان اور ان کے لوگوں نے کیا۔
جب عدالتیں خاموش ہو جائیں تو عوام کو اٹھنا پڑتا ہے۔ آمر ہمیشہ عوام سے اس سے کہیں زیادہ ڈرتا ہے جتنا عوام اس سے ڈرتے ہیں۔ ہم 25 کروڑ ہیں۔ ہمیں اپنی طاقت کا احساس کرنا ہوگا۔
آپ نے یہ حربے کہاں دیکھے ہیں؟
#FreeImranAndFamily
25 کروڑ انسانوں کو انسان سمجھو، ان کے ساتھ انسانوں جیسا برتاؤ کرو
یہ نہ بھیڑیں ہیں نہ ہی زرخرید غلام یا جنگی مالِ غنیمت (مالِ غنیمت تو خیر جنگ جیتنے پہ حاصل ہوتا ہے)
ان سے جینے کا حق چھیننے کی اجازت کسی کو نہیں
#فسطائیت_بند_کرو
یہ ملک لاکھوں انسانوں کی قربانیوں سے بنا تھا یہ کوئی شاملات نہیں۔
خاندان اجڑے، گھر بار تباہ ہوئے، عزتیں لُٹیں، بے گھر ہوئے، دربدر ہوئے، کاروبار چھوڑے، ذبح ہوئے تب اسکی سرحدوں کی لکیر کھینچی گئی۔
بندوق والے تب بھی انگریز سرکار کو سیلوٹ کرتے تھے اور آج بھی۔
#فسطائیت_بند_کرو
عسکری لونڈیاں عسکری اکیڈمک سلیبس بانٹتی پھرتی ہیں۔
عسکری من و سلویٰ پہ پلنے والا کوئی ایک ڈھنگ کا انٹلیکچول دکھا دیں۔
💥تمکنت کے کام ویکھو تاڈے ڈیلے باہر نہ ائے کہنا 💥
انڈر ایج بچہ : تمکنت تم سب کو بانٹتی ہو اور مجھے ڈانٹتی ہو🤮 پچھواڑا تمہارا بہت موٹا ہو گیا 🤯 2 ماہ میں کہیں حاملہ تو نہیں ہو گئی سب پتا ہے مجھے
نوکرانی تمکنت لگتا نہیں پاپا نے تمہیں چھوڑا ہو تمہاری kiss پاپا کے ساتھ اور دوسرا سارا ڈیٹا پرا ہے میرے موبائل میں
کیا پاکستان مین ارٹ کے نام پر بچوں کے احتسال کی کھلی آزادی ہے کیا اس طرح کے ڈائیلاگ مائنر سے شوٹ کروانا پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ؟
ادارے اس پر ایکشن کیوں نہین لیتے
Ban Kids Sexual Exploitation in the name of Art
ابو لھب اللّٰہ کے نبی کا دشمن اور منکر اسلام تھا مگر اسے حرامزادہ کہنا اللّٰہ کے نبی کی دادی کو گالی دینا ہے۔
پورے خاندان کو گالی دے کے آپ خادم رضوی کے پیروکار تو ثابت ہو سکتے ہیں پکے مسلمان نہیں۔
میں فتویٰ دینے کا مجاز نہیں مگر آپ اپنے ایمان کی ضرور فکر کریں
شہید قرآنی اوراق محفوظ کرلیں گے۔
کھلی کچہری میں کسی بزرگ بابے کو کرسی پہ بٹھا کےسوال سن لیں گے۔
کتے کوپانی پلا دیں گے۔
مگر یہ پولیس والے اپنی ڈیوٹی کبھی دیانتداری سے نہیں دیں گے۔
سڑک پہ شریف شہریوں کو دھونس،دھمکی لاتیں مکے اپنی ڈیوٹی سمجھتےہیں۔
چار دیواری پھلانگنا اپنا فرض منصبی۔
10 ٹن شہید اوراق محفوظ کرنے والا عظیم پولیس اہلکار!
یہ تصویر ایک سچے عاشقِ قرآن پولیس افسر کی ہے، جنہوں نے اپنی ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ انہوں نے اب تک 10 ٹن کے قریب شہید اوراقِ قرآن پاک اور مقدس اوراق کو مختلف جگہوں سے اکٹھا کر کے نہایت عزت و احترام کے ساتھ ایک محفوظ جگہ پر رکھ دیا ہے۔
اس عظیم کام کے پیچھے ان کا سچا اور بے لوث جذبہ شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ نیک کام مکمل طور پر اپنے ذاتی پیسوں سے شروع کیا تھا، لیکن جب لوگوں نے ان کا یہ سچا جذبہ دیکھا تو انہوں نے بھی اس کارِ خیر میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دیا تاکہ اس مقدس کام کو مزید بہتر طریقے سے کیا جا سکے۔
اس عظیم پولیس والے کا عوام کے نام ایک ہی خاص پیغام ہے کہ خدارا مقدس اوراق کا احترام کریں اور انہیں بے ادبی سے بچائیں۔ ان کا یہ جذبہ اور محنت ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی مثال اور سبق ہے۔
میر صاحب کو شاید کسی نے بتایا نہیں ہوگا کہ پاکستانی کشمیر میں حالات اس سے بدتر ہیں۔
نہتے لوگ پہ گولیاں، دستی بم اور راکٹ لانچرز استعمال کئے جا رہے ہیں۔
انکو پتہ ہوتا تو ضرور آواز اٹھاتے۔















