Nisar Baaz Khan (@khannisar930) header
Nisar Baaz Khan (@khannisar930) profile picture

Member of Provincial Assembly Khyber Pakhtunkhwa (PK22) Official X Account |#PoliticalWorker #Ex Student's Leader 🚩

Pakhtunkhwa
Joined October 2013
Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)Photo by Nisar Baaz Khan (@khannisar930)
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کی پشاور کے تاریخی نشتر ہال میں منعقدہ ’’فخرِ باجوڑ ایوارڈ‘‘ تقریب میں خصوصی شرکت! رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے تقریب میں نوجوانوں اور دیگر مختلف شعبوں میں بہتر کارکردگی ادا کرنے والوں میں ایوارڈز تقسیم کیے اور اپنے خطاب میں نوجوان نسل کی صلاحیتوں، محنت اور مثبت کردار کو سراہا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کے ضامن ہوتے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی، صلاحیتوں کا اعتراف اور انہیں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نثار باز خان نے طلباء کی جانب سے اس شاندار اور پروقار تقریب کے انعقاد پر فخرِ باجوڑ ایوارڈ کی پوری آرگنائزنگ ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ باجوڑ کے باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی، ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور ان کے لیے مثبت مواقع پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کیا جائے گا۔عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ نوجوانوں کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی ترقی، امن، روشن خیالی اور باوقار مستقبل کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ ایسے پروگرام نہ صرف باصلاحیت افراد کی خدمات کا اعتراف ہیں بلکہ باجوڑ کی مثبت شناخت اور روشن مستقبل کی بنیاد بھی ہیں ۔۔۔۔۔!
4
21
1
159
2,746
Nisar Baaz Khan retweeted
قومیت اور شہریت میں فرق سے ناواقف لوگ پشتون شناخت پر سوال اٹھانے کے بجائے تاریخ، جغرافیہ اور سیاسی شعور کا مطالعہ کریں، احسان اللہ خان قومیت کسی دوسرے ملک میں گھر، جائیداد یا کاروبار رکھنے کا نام نہیں بلکہ اجتماعی تاریخ، زبان، ثقافت، تہذیب اور قومی شناخت کا نام ہے۔ شہریت ایک قانونی حیثیت ہے، جبکہ قومیت ایک تاریخی اور تہذیبی حقیقت اور شناخت ہے۔ دونوں تصورات کو خلط ملط کرکے پشتون قوم پرست سیاست کو طعنوں کا نشانہ بنانا سیاسی دلیل نہیں بلکہ فکری مغالطہ ہے۔ کچھ لوگوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ پشتون قوم کی تاریخ موجودہ ریاستی سرحدوں سے کہیں قدیم ہے۔ کوئی بھی سرحد کسی بھی شخص کی قومیت، زبان، ثقافت اور تاریخی رشتوں کو تقسیم نہیں کرسکتی۔ افغانستان میں رہنے والا پشتون بھی اتنا ہی پشتون ہے جتنا پاکستان میں رہنے والا پشتون ہے۔ کسی کو اپنی قومیت ثابت کرنے کے لیے کابل میں گھر بنانے یا بچوں کو وہاں تعلیم دلوانے کی ضرورت نہیں۔ کابل میں گھر بنانے یا اسلام آباد میں رہائش اختیار کرنے سے کسی کی قومیت کا تعین نہیں ہوتا۔ اگر اسلام آباد میں گھر، بچوں کی تعلیم اور بہتر رہائشی سہولیات حاصل کرنا کسی کی شہریت یا قومیت کا معیار ہے تو پھر دنیا بھر میں آباد اقوام کی شناخت پر سوال اٹھانا پڑے گا۔ کسی پشتون کا اسلام آباد، لندن، نیویارک یا کسی دوسرے شہر میں رہنا اس کی پشتون شناخت کو ختم نہیں کرتا۔ پشتون قوم پرستی کسی دوسرے ملک کی شہریت یا وہاں مستقل رہائش کا مطالبہ نہیں بلکہ اپنی سرزمین پر اپنے وسائل، اختیار، تشخص اور حقوق کی ضمانت کا مطالبہ ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی باتیں کرنے کے بجائے پختونخوا کے عوام کے آئینی، سیاسی، معاشی اور قومی حقوق کی بات کی جائے۔ پشتونوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے اور ان کی تاریخی شناخت کو متنازع بنانے کے بجائے ان کے بنیادی مسائل، بدامنی، دہشتگردی، معاشی محرومی اور سیاسی و آئینی حقوق پر توجہ دی جائے۔ ہم قوم پرستی کے لیے کسی کے سرٹیفکیٹ، سرکاری منصب یا سیاسی بیان کے محتاج نہیں۔ قوم پرستی کے تصور کو اس طرح کی کھوکھلی باتوں سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اس کے لیے تاریخ، قومی تحریکوں اور پشتون خطے کی سیاسی و تہذیبی حقیقتوں کا ادراک ضروری ہے۔ قوم پرست سیاست کو مشکوک بنانے کی کوششیں حقائق تبدیل نہیں کرسکتیں۔ احسان اللہ خان مرکزی ترجمان عوامی نیشنل پارٹی #ANP | #AwamiNationalParty
5
26
63
1,807
لا سره بڅری شته۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 🚩 ملاکنڈ یونیورسٹی میں پی ایس ایف کی گرینڈ کنونشن میں شرکت !!
5
27
2
199
2,558
Nisar Baaz Khan retweeted
In my humble opinion, if @khannisar930 has committed any crime, it is that he has pointed out the elite’s control over the resources of Pakhtunkhwa. Nisar Baz has pointed out the central government's appropriation of Pakhtunkhwa's resources. Advocating for the government against the interests of one's own, Pakhtunkhwa, and spreading propaganda against a true advocate of the masses is neither politically appropriate, nor ethically permissible.
1
19
57
1,473
Our politics has always been guided by strong moral values, principles & democratic traditions. Alhamdulillah our integrity speaks for itself & even our strongest political opponents recognise that. we have always believed in principled and democratic politics. We have never compromised on our values, and we will never bow to pressure, threats or intimidation. Personal attacks, baseless accusations, and smear campaigns will neither damage our reputation nor serve any purpose. We stand by our character, our principles and our work. Instead of wasting time attacking others, focus on your own responsibilities and let your performance speak for itself........!
33
89
5
470
6,590
عوامی نیشنل پارٹی جنوبی پختونخوا کے صوبائی صدر اضغر خان اچکزئی کو عدالت نے باعزت بری کر دیا، وہ ابھی جیل سے رہا ہو گئے ہیں۔ جہاں آج اصغر خان مشر کی رہائی پر خوشی ہوئی، وہیں پر آج ریاستی اداروں کی جانب سے ولی باغ کے خلاف نئی سازشوں اور مذموم عزائم کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ لیکن ھم اپنے اکابرین کی تاریخ سے واقف ہیں،ان اکابرین باچاخان بابا، ولی خان بابا کی سیاسی جد وجہد اور کردار ھمارے لیئے مشعل راہ ہیں۔۔۔۔! #باز @AsgharAchakzaii @ANPMarkaz
32
220
3,264
سائله ده منم چی ستا شړئ شلول اسان دی خو شال به پکښې بائیلی د شالونو څوکیدار Stay strong Mr president @AimalWali
It is striking that you would suggest imprisoning my family; such a claim lacks logic. I advise you to focus on your own concerns instead of trying to cast me as a victim. This effort will fail. My sisters and my wife have no political role; suggesting otherwise is unreasonable. I will handle my own challenges and, God willing, do so with dignity. You ought to stay dedicated to your own goals and ambitions.
6
42
2
240
5,789
Nisar Baaz Khan retweeted
ANP's MPA Khyber Pakhtunkhwa, Nisar Baaz talked about the constitutional emergency (in 12 districts), suspenssion of basic rights and other issues there. @khannisar930 @Khadimhussain4 @AimalWali @KhattakAimal @MianIftikharHus @ANPMarkaz @Azalafridi10 @SherAfridii
2
4
27
546
Nisar Baaz Khan retweeted
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی نوبت کیوں آئی؟ تحریک انصاف کی غلطیاں یا وفاق کی حکمتِ عملی؟ اے این پی نے اختلافات کے باوجود گورنر راج کی مخالفت کیوں کی؟ اور علی امین گنڈاپور و سہیل آفریدی نے نثار باز کے ترقیاتی فنڈز کیوں روکے، اور وہ فنڈز کس کو دیے گئے؟ سنیے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر نثار باز کی خصوصی گفتگو @TheLehaz @khannisar930
1
4
121
انتظامی طور پر پختونخوا کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کیا، ھمارے جو خدشات تھے، وہ آہستہ آہستہ سامنے آرہے ہیں۔۔۔
پختون خواہ کی لیجسلیٹو اور ایگزیکٹو تمام تر اختیارات اس وقت وفاق کے پاس ہیں ہمیں مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے بھی خدشات ہیں پختون خواہ کو تجربہ گاہ بنایا گیا ہے اور عملا دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس میں دو ڈفرنٹ سیٹ اپ ہیں @ANPMarkaz @Dawn_News @khannisar930
5
79
4
312
4,793
ANP Youth۔( سره بڅری)۔۔۔🚩✊ Red Embers That Refuse to Fade! A Generation That Refuses to Bow... @ANPMarkaz @AimalWali
50
4
251
4,512
Nisar Baaz Khan retweeted
پہلے بارہ اضلاع کیلئے الگ انتظامی ترتیب بنانا، پھر اسکے لئے الگ سیکرئٹیریت بنانا، پھر غیر منتخب لوگوں (جن میں سے اکثر لوگ وہی ہیں جنہوں نے صوبے کے پچھکے سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور جو صوبے کے موجودہ بحران اور بدامنی کے ذمہ دار بھی ہیں) بطور مشیر نامزد کرنا صوبے کے عوام کیلئے اچھا شگون دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وزیر اعظم کو یقینی بنانا چاہئے کہ کہ صوبے کیلئے سی سی آئی میں منظور شدہ بجلی کا خالص منافع، این ایف سی میں صوبے بشمول ضم اضلاع کا حصہ اور صوبے کے معدنی وسائل کی ملکیت کو صوبے کے حوالے کئے جائیں۔ کسی وائسرائے کی طرح آکر اعلانات کرنا کوئی جمہوری روایت نہیں۔
We openly and unequivocally opposed the imposition of Governors Rule & Emergency, making it clear that the federal government and the establishment had other objectives. now the facts are gradually coming to light. the 25th Constitutional Amendment is being quietly rolled back beginning with the imposition of Emergency in the region comprising these 12 districts. Subsequently under the pretext of establishing a Regional Development Council a group of individuals has been nominated, with unelected representatives being prepared for use as mere rubber stamps. A separate administrative setup was also established for this purpose in recent days making it clear that efforts are underway to divide Khyber Pakhtunkhwa into two administrative units and undermine the significance of the 18th Constitutional Amendment. By announcing a package of Rs 160 billion today the Prime Minister has done no favour to the people of Khyber Pakhtunkhwa. Our outstanding dues under the 18th Constitutional Amendment amount to far more than this. The five crore people of Khyber Pakhtunkhwa do not need a package of Rs 160 billion. they demand the payment of Rs 4,800 billion owed to them as their constitutional and legal right. The outstanding Rs 1,375 billion owed to the newly merged districts (NMDs) must also be paid immediately, as these funds have been withheld from us for the past eight years. the political conflict between the PML-N and PTI has been harming our province and the damage continues.we believe that the real objectives behind the imposition of Governors Rule and Emergency are to divide the province roll back the 25th Constitutional Amendment and bring our mineral resources under the federal governments control. Unelected and undemocratic individuals must never be allowed to claim the right to represent the people. Such elements will push Pakhtunkhwa further towards destruction. Those who describe undemocratic actions as constitutional must remember that the constitution also clearly defines the powers, jurisdictions and limits of all institutions. are these constitutional boundaries being respected as well..? Sadly, the age-old principle of "Might is Right” still appears to prevail in our system...!
1
22
82
3,141
We openly and unequivocally opposed the imposition of Governors Rule & Emergency, making it clear that the federal government and the establishment had other objectives. now the facts are gradually coming to light. the 25th Constitutional Amendment is being quietly rolled back beginning with the imposition of Emergency in the region comprising these 12 districts. Subsequently under the pretext of establishing a Regional Development Council a group of individuals has been nominated, with unelected representatives being prepared for use as mere rubber stamps. A separate administrative setup was also established for this purpose in recent days making it clear that efforts are underway to divide Khyber Pakhtunkhwa into two administrative units and undermine the significance of the 18th Constitutional Amendment. By announcing a package of Rs 160 billion today the Prime Minister has done no favour to the people of Khyber Pakhtunkhwa. Our outstanding dues under the 18th Constitutional Amendment amount to far more than this. The five crore people of Khyber Pakhtunkhwa do not need a package of Rs 160 billion. they demand the payment of Rs 4,800 billion owed to them as their constitutional and legal right. The outstanding Rs 1,375 billion owed to the newly merged districts (NMDs) must also be paid immediately, as these funds have been withheld from us for the past eight years. the political conflict between the PML-N and PTI has been harming our province and the damage continues.we believe that the real objectives behind the imposition of Governors Rule and Emergency are to divide the province roll back the 25th Constitutional Amendment and bring our mineral resources under the federal governments control. Unelected and undemocratic individuals must never be allowed to claim the right to represent the people. Such elements will push Pakhtunkhwa further towards destruction. Those who describe undemocratic actions as constitutional must remember that the constitution also clearly defines the powers, jurisdictions and limits of all institutions. are these constitutional boundaries being respected as well..? Sadly, the age-old principle of "Might is Right” still appears to prevail in our system...!
20
224
18
761
33,865
اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی کی گرفتاری انصاف کے تقاضوں پر سنگین سوالیہ نشان ہے،اصغر خان اچکزئ کی جھوٹے اور بے بُنیاد کیس میں گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ مدعی عدالت کے سامنے حلف نامہ جمع کرواکر کہہ رہا ہے کہ میں نے ایف آئ آر درج ہی نہیں کروائی اُسکے باوجود بھی ضمانت خارج کرکے گرفتاری ہوئی۔ یہ عدالتی عمل پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اصغر خان اچکزئی جنوبی پختونخوا کی ایک توانا آواز ہے،اسکو جھوٹے الزامات اور اس قسم کی ہتھکنڈوں سے خاموش نہیں کیا جاسکتا،وہ بلوچستان بھر میں مظلوم اور محکوم قوموں کی مقدمہ بڑی دلیری کیساتھ لڑ رہا ہے۔ | #NisarBazKhan #ANPStandsWithAsgharKhan
63
7
226
3,813
ضلع باجوڑ خار بازار میں افسوسناک واقعہ پیش ایا، باجوڑ کے خار بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو سگے بھائی شہید جبکہ تیسرا بھائی شدید زخمی ہوگیا۔ واقعے میں زخمی ہونے والے تینوں افراد آپس میں سگے بھائی تھے۔ دو بھائی ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ تیسرے شدید زخمی بھائی کو مزید علاج کے لیے پشاور ریفر کر دیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایم پی اے نثار باز خان اور صدر خار بازار واجد علی شاہ ہسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے زخمی کی خیریت دریافت کی اور متاثرہ خاندان سے اظہارِ ہمدردی کی۔ اللہ تعالیٰ شہداء کی مغفرت اور درجات بلند فرمائے،اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کریں اور زخمی کو جلد صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔اللہ تعالیٰ ہمارے وطن اور ھمارے قوم کی حال پر رحم فرمائے۔ ائے روز بدامنی کی واقعات رونماء ہورہے ہیں۔
8
64
3
339
12,170
اصول بیچ کے مسند خریدنے والو! نگاہ اہل وفامیں بہت حقیر ہو تم۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کی نفاذ کی نتائج آنا شروع ہوگئے ہے، میں نے پہلے واضح کیا تھا، کہ یہ 18 ویں اور 25 ویں آئینی ترمیم کو غیر محسوس انداز میں رول بیک کرنے سازش ہے،( فاٹا کونسل ) 10 اکتوبر کو میں نے اپنے ایک پوسٹ میں واضح کیا تھا۔۔۔ facebook.com/share/p/1WMe31J…
8 سال ضم ہونے میں لگ گئے اور اب پھر سے ملکان اور مشران پر مشتمل نظام بحال، بس ایف سی آر کی کمی ہے!!!
10
152
5
471
47,956
محترم خادم صاحب ! ایک تو تحریر پورا پڑھ لیا کریں،تاکہ غلط فھمی نا رہے، اور اپ بھی مردان کی ایک پختون ہے اور پختونخوا کی معدنیات ھم سب کا قومی میراث ہیں، خدارا سیاسی تعصب میں جھوٹ دفاع ہرگز مت کریں، میں خود صوبائی حکومت کی پالیسیوں کیساتھ شدید اختلاف رکھتا ہو، انکی ناقص حکمرانی، کرپشن ، بدعنوانیو اور اقربا پروری پر میں نے ھمیشہ فلور پر اور میڈیا اسکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہیں، میں ہرگز انکی دفاع نہیں کرتا، لیکن جھوٹ اور پروپیگنڈا کو ایکسپوز کرنا ضروری تھا، میں نے لکھا ہے کہ یہ لارج اسکیل لائسنس ایف ڈی اے کے پاس تھا، جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کیا، اور نیچے دیے گئے ڈاکومنٹس کو غور سے پڑھ لیں۔ وزیرستان کاپر معاھدہ میں واضح لکھا ھے کہ کمپنی رائلٹی،رنٹ کے علاوہ 10 ٪ منرلز ڈیپارٹمنٹ کو منافع میں بھی دیگا۔ سی ایس ار کی مد میں22٪ دیگا اور قومی کمیشن الگ سے 18٪ دیگا ۔تو اج انٹرنیشنل ریٹ کی بجائے اگر صرف صحافی حامد میر کے کمزور ریٹ مبلغ 7 لاکھ روپے فی ٹن بھی حساب کریں تو میرے صوبہ کی فی رائلٹی صرف 35000 فی ٹن بنتی ھے جبکہ کمپنی نے جو کل 16.9 کروڑ ادائیگی کی ھے وہ تو 198 روپے فی ٹن بنتی ھے ۔ اسکے علاوہ صوبہ کا 10 فی صد منافع، اینول رنٹ، سی ایس ار اعر اور مقامی کمیشن یہ سب کدھر ہیں ؟؟؟ میں نے پوری تحریر میں لکھا ہے کہ یہ ریکارڈ محمکہ معدنیات ھمیں فراہم نہیں کر پارہے تھے، اور سب باتیں کمیٹی میٹنگز کی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیز منرلز ڈیپارٹمنٹ کی ملکیت ھے کمپنی کا نہیں، منرلز ڈیپارٹمنٹ 10 فی صد کا حصہ دار پارٹنر اور ریگولٹر بھی ہے۔ کمپنی ڈیولپر ھے۔ کمپنی نے اج تک اپنے پارٹنر اور ریگولٹر کو کبھی پراجیکٹس کے اندر گھسنے بھی نہیں دیا ہے، کہ یہ معلوم کرے کہ وہ تانبے کے علاؤہ اور کون کونسے منرلز صاف کرکے بیچھ رہے ھیں ؟ آپ کی سوال کے مطابق اگر رائلٹی خام مال پر اگر دیتے ھو تو پھر حساب کرو، 9 لاکھ ٹن کو 25 سے 30 فی صد مال بنانے کے لیئے کتنا خام نکال کر لایا ہوگا ؟ خود حساب کرو اگر ایک فی صد کاپر کو 25٪ فی صد بنانے کے لیئے 1×25 کے حساب سے 9 لاکھ ٹن کے لیئے 2 کروڑ 25 لاکھ ٹن خام مال کی ضرورت ھے۔ تو اس حساب خام مال کی رائلٹی کا حساب لگالو پھر کتنی رقم بنتی ھیں ؟ میرے صوبہ کی تانبے کی رائلٹی صرف 33 ارب بنتی ھے، کمپنی تو معدنیات صاف کرکے گولڈ، سلور اور دیگر ریئر ارتھ الگ سے صاف کرکے لے جارہے ھیں جو کہ لاکھوں روپے گرام کے حساب سے قیمت ھے انکا تو حساب دیتے بھی نہیں ھو۔ صوبہ کا منافع قومی کمیشن یہ سب کا احتساب کروانا ضروری ہیں۔۔۔۔۔!! نوٹ!! مجھے پی ٹی آئی کیساتھ کوئی ہمدردی نہیں، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پچھلے 29 مہینوں سے میرے حلقے کی فنڈز نہیں دی۔ دونوں وزیر اعلیٰ گنڈاپور اور سہیل آفریدی نے میرے فنڈز مجھے نہیں دی، بلکہ پی ٹی آئی کی اپنے سابقہ پارلیمنٹرین اور اپنے شکست خوردہ امیدوار کو میرے حلقے کی فنڈز جاری کی، اور ہاں آج کل آپ لوگوں کا جس مقتدرہ کیساتھ ہے، انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔ لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف ھمارے پارٹی کا موقف بڑا کلیر ہے کہ ھم اس غیر جمہوری عمل کی شدید مخالفت کرتے ہیں، اور ھم اسکے خلاف ہے، ھمارے مرکزی صدر @AimalWali نے دو ٹوک الفاظ میں اسکی بھرپور مخالفت کی ہیں، اور گورنر راج اور ایمرجنسی کی نفاذ کی پس پردہ جو مذموم مقاصد نظر آرہے ہیں اسکی بھی کھل کر نشاندھی کی ہیں۔۔۔
محترم نثار باز صاحب، آپ کو حقائق کا علم نہیں ہے یا پھر آپ دانستہ طور پر حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔ آپ کو بتا دوں کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایف ڈبلیو او (FWO) کو یہ لیز جاری ہی نہیں کی، بلکہ فاٹا کے انضمام سے تین سال قبل 2016 میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کھلی بولی اور مکمل قانونی اور شفاف عمل کے تحت یہ منصوبہ FWO کو دیا تھا، جس کی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ بھی مقامی قبائل اور صوبائی خزانے کو ملتا ہے۔ انتہائی مشکل اور خونخوار دور میں، جب اس علاقے میں دہشت گردی کا راج تھا اور کسی بھی نجی ادارے یا انفرادی فرد، میں ایک روپیہ لگانے کی ہمت نہیں تھی، اس وقت FWO نے وہاں جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، جدید پروسیسنگ پلانٹ لگایا، اور نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا بلکہ وہاں کی تقدیر بدلنے کے لیے شاندار سڑکیں، اسکول، ہسپتال اور دیگر منصوبے مکمل کیے۔ آپ جس 6.9 کھرب روپے کی خیالی رقم کا حساب جوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ منرل اکنامکس کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ رائلٹی ہمیشہ خام مال (Ore) پر دی جاتی ہے نہ کہ پروسیسڈ اور صاف شدہ فائنل مارکیٹ پروڈکٹ پر، جس پر اربوں روپے کی پروسیسنگ اور نقل و حمل کے اخراجات آتے ہیں۔ محمد خیل کاپر پراجیکٹ درحقیقت شمالی وزیرستان اور ارد گرد کے علاقوں کی تقدیر بدلنے والا ایک انقلاب آفریں منصوبہ ہے۔ FWO نے اس منصوبے کے ذریعے مقامی قبائل کی 70 فیصد سے زائد آبادی کو باعزت روزگار فراہم کیا ہے، جہاں ملازمین کو پرکشش تنخواہوں کے ساتھ ساتھ مفت معیاری رہائش اور بہترین کھانے کی سہولیات میسر ہیں۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی تکنیکی کامیابی یہ ہے کہ خام مال کو باہر لے جانے کے بجائے موقع پر ہی جدید بینیفیکشن پروسیسنگ پلانٹ لگایا گیا جس سے وزیرستان میں مقامی صنعتی بنیاد رکھی گئی، اور تانبے کی شفاف برآمد و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک خطیر حصہ مقامی قبائل کی فلاح و بہبود اور صوبائی و قومی خزانے میں باقاعدگی سے جمع ہو رہا ہے۔
57
387
7
1,069
33,669