میرا مقصد صرف امتیاز صاحب کی امتیازی اُردو کو سراہنا ہے۔
کوئ شرم ہوتی ہے کوئ حیا ہوتی ہے: یہ خواجہ کا بہت پسندیدہ طعنہ ہے جو وہ ہر کسی کو دیتے ہیں۔ کبھی اس طعنہ کی روشنی میں اپنے گلے میں جھانک کر دیکھا ہے؟ دیکھتے تو شاید خود بھی شرمندہ ہوسکتے تھے۔ لیکن حیا ہی نہیں ہے۔ جنرل یحیی خان کی حمایت، ضیا الحق کی سفارش پہ نوکری، پھر ضیا الحق ہی کی بنائ ن لیگ میں شرکت،بے نظیر بھٹو کے خلاف مغلضات۔ ساری زندی جمہورئیت اور آئین کی پامالی اور فدویانہ سیاست کے علاوہ کو نسا غلط کام ہے جو نہیں کیا۔ بس کریں، اب وزارت دفاع سے فراغت پاکر گھر جائیں۔
نہیں نہیں ایسا ہرگز نہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں یہ کاپی پیسٹ والا معاملہ ہرگز نہیں دراصل جب پانچ سات لوگ ایک ہی راستے پر گامزن ہوں تو الفاظ وخیالات حتیٰ کے جذبات میں مماثلت پیدا ہونا قدرتی امر ہے
#انگوٹھاصحافت #پاکستان
مجھے تو یہ کوئی کرم ہی لگتا ہےکہ سکرینوں پر سجے چہرے ہوں یا انٹرنیٹ کی دنیا سے پیشکار، اخباری قلمکار ہوں یا حلیف وحریف اس کا نام لکھ کر، بول کر، دکھا کر یا سنا کر ہی سب لوگ اپنا کام چلا رہے ہیں کوئی محبت بیچتا ہے تو کوئی نفرت مگر کمال ہے ہر شخص بات اسی کی کرتا ہے #خان_آ_رہا_ہے
حاشیہ برداروں، طبلچیوں کو مرچیں تو بڑی لگی ہیں گریباں چاک ہیں، وہ آہ وفغاں و گریہ زاری ہے کے لگتا ہے ہسپتال نہیں گیا انکے __ چلا گیا ہے
ایسا کچھ لکھنا پسند نہیں مگر کچھ تحریریں نظر سے گزریں ان لوگوں کے تو بیڑے ہی غرق ہیں
لہذا
مرے کو ماریں شاہ مدار
#لندن_کون_بھاگا_تھا_نام_بتاؤ
واقعی ہے تو زیادتی لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ بس ایک سلیبرٹی ہے، شو شا، پھوں پھاں۔۔
مگر ہمارے لوگ سمجھتے ہی نہیں بس اپنی شو شا، پھوں پھاں کیلئے 25،25 سال سے سنبھال کر رکھی تصاویر نکال کر لے آتے ہیں بس خالی پیلی شو
#پاکستان #صحافت #نظام
عمران خان کے ساتھ یہ تصویر سال دو ہزار میں رحیم یارخان کی ہے جب عمران خان وہاں آیا۔ اس وقت میرا صحافتی کیریئر نیا نیا شروع تھا (اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر روزنامہ اسیاف نکالا کرتا تھا)۔
خان کے دورہ رحیم یار خان پر دو صفحات کا اسپیشل ایڈیشن شائع کیا۔ انٹرویو بھی شامل تھا، دورے میں ساتھ ساتھ رہنے کا بھی موقع ملا۔
سچی بات ہے اسی وقت احساس ہو گیا تھا کہ انتہا درجے کا خود پرست انسان ہے، اپنی ذات کے علاوہ کسی کی پرواہ نہیں۔ اور بس ایک سلیبرٹی ہے، شو شا، پھوں پھاں۔۔
آج بھی اپنے اُس پہلے تاثر کو رد کرنے کے لیے کوئی ایسی دلیل دستیاب نہیں جو مجھے اپنی رائے بدلنے پر مجبور کر سکے۔۔
اڈیالہ سے شفا ہسپتال علاج کے لیے آمد کا ماحول بننے پر دعا ہے اللہ صحت یاب فرمائے۔آمین
لیکن اصل مدعا اس پوسٹ کا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے جتنی فرمانبرداری کا مطاہرہ کیا جا رہا ہے۔ نہ کوئی تند و تیز بیان، نہ سیاسی شرارت، نہ کارکنوں کو اکٹھا کرنے کی کال، اور تو اور سوشل میڈیا کو کنٹرول میں رکھنے کی کوششیں۔۔
اس کےعوض عمران خان کو گھنٹوں کے لیے تو نہیں، بلکہ دنوں کے لیے ہی رکھا جانا بنتا۔ ورنہ اگر شفا ہسپتال میں صرف چیک اپ کروا کر فورا ہی واپس اڈیالہ لے جایا جانا ہے تو اتنی فرمانبرداری کیوں؟
بڑی زیادتی ہو گی اتنی فرمانبرداری کے بعد بھی۔۔
شور ہے کہ عوامی مسائل حل کرنے کے لیے چھوٹے صوبے یا یونٹ بنانے ہوں گے کیونکہ موجودہ نظام کولیپس کر گیا ہے لہذا صوبوں کا حجم کم کریں صوبے چھوٹے ہوں گے تو ان کا نظم ونسق زیادہ بہتر انداز سے چل سکے گا۔
دوسری طرف آج ایک بل کے ذریعے تمام اختیارات ایک جگہ جمع کر دیئے ہیں #صدارتی_نظام
ایک صاحب کی قسمت دیکھیئے ان کےحاشیہ برداروں سے لے کر مخالفین تک نہ تعریفاً نہ طنزاً انہیں نیلسن منڈیلا کہہ سکتے ہیں نہ چی گویرا نہ چرچل نہ ماؤ وغیرہ
#خان_کی_واپسی_ناگزیر_ہے
#ہر_دل_سے_دعا_خان_کے_نام
#پاکستان
اگر یہ معاملات 30 سال بعد بھی ہوتے تو ڈیل ڈھیل ہی کہلاتےکیونکہ جو ڈیل ڈھیل لیتے رہے ہوں وہ اس سے آگے نہیں سوچ پاتےباقی تخت کی محبت نے تو باپ بھائی مروا دیئے،لہذا جب مخالف اصول وقواعد روند کر حملہ آور ہو جائےتو اخلاقیات سے راستے نہیں نکلتے نقب لگانی پڑتی ہے #عمران_خان #PTI
عمران سسٹم کیلئے، جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کھڑا تھا آئینی قانونی حدود کیلئے استحکامِ پاکستان کیلئے لوگوں کے روزگار، مستقبل اور پاکستان کے مستقبل کیلئے کھڑا تھا، جاوید لطیف
جو ن لیگ نے 18 سالہ حکومتوں میں نہیں دیا وہ مانگنے چل پڑا تھا
اب دوبارہ کھڑا ہونے نہیں دیں گے #خان_کی_واپسی
جو کہتے تھے کہ ڈٹ کر کھڑا ہے عمران خان آج وہ دیکھیں پاؤں میں گرا پڑا ہے عمران خان...!
کیا یہ محض حسن اتفاق ہے کہ 27 ستمبر کو تحریک کا اعلان کرنا اور اپوزیشن لیڈر کا وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے خط لکھنا اور عدالت سے ریلیف ملنا۔ کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ باجوہ صاحب کا کسی سے ناراض ہونا اور پھر کسی دوسرے سے راضی ہوجانا، کیا یہ بھی حسن اتفاق ہی ہے کہ فارن فنڈنگ کیس سے فارن فنڈ ریزنگ کرنا اور پھر اس سے دھندلی چیزوں کا نظر آنا شروع ہونا۔کیا یہ بھی اتفاق ہی سمجھا جائےکہ بلاول بھٹو کا تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں سے اتحاد کی بات کرنا۔آج جو عدلیہ کی تعریفیں کر رہے ہیں انکو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کیا آج کی عدلیہ آزاد ہو گئی ہے؟
یہ بھی بتا دیں کہ عمران خان تو سسٹم کیلئے کھڑا تھا، وہ تو جمہوریت کی مضبوطی کیلئے کھڑا تھا، وہ تو اداروں کو اپنے آئینی قانونی حدود میں رہ کر کام کرنے کیلئے کھڑا تھا، وہ لوگوں کو مہنگائی میں پسنے سے بچانے کیلئے کھڑا تھا، وہ تو پاکستان کو استحکام دینے کیلئے کھڑا تھا، وہ لوگوں کے روزگار لوگوں کے مستقبل اور پاکستان کے مستقبل کیلئے کھڑا تھا، کیا یہ ساری چیزیں ایک عدالتی ریلیف سے ٹھیک ہو گئی ہیں یا وہ ایک ڈھکوسلا تھا یا پھر ریلیف لینے کیلئے ہمیشہ کی طرح لوگوں کی محرومیوں کو اجاگر کیا گیا۔
جس طرح 2018 کا اقتدار لینے کیلئے اور آج 2026 میں جیل سے باہر نکلنے کیلئے کیا جا رہا ہے، 2018 میں بھی صورتحال سے فائدہ اٹھایا گیا آج بھی اسی طرح فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، یہ اصل حقیقت ہے جس کا لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے لوگوں کو بتانا چاہیے کہ عمران خان ڈٹ کر کیوں کھڑا تھا اور آج ڈھٹائی سے ڈٹ کر کیوں لیٹا ہوا ہے!