- ہاں، یہ کافی حد تک سچ ہے۔ 2026 میں AI ٹولز (جیسے face/character swap، Recast، Kling وغیرہ) ایک یا چند فوٹوز سے ڈیجیٹل کلون بنا کر اسے کسی بھی ویڈیو میں فٹ کر دیتے ہیں، اصل حرکت، کیمرہ اور آواز برقرار رکھتے ہوئے۔[](<ovideo.io/resources/ai-chara…>)
- یہ ٹیکنالوجی خطرناک ہے کیونکہ ڈیپ فیکس سے فراڈ، اسکیمز، غلط معلومات پھیلانے، غیر رضامندانہ مواد اور انتخابی مداخلت ممکن ہو گئی ہے، جس کی تصدیق حالیہ رپورٹس اور قوانین (EU AI Act وغیرہ) سے ہوتی ہے۔[](<cbsnews.com/news/deepfakes-a…>)
- عملی حدیں ہیں: کوالٹی سورس ویڈیو پر منحصر ہے، بہت لمبی کلپس میں مسائل آ سکتے ہیں، اور پلیٹ فارمز/قوانین رضامندی اور لیبلنگ کا تقاضا کرتے ہیں، مگر عام استعمال میں یہ دعویٰ درست ہے۔[](<subreels.ai/>)
Replying to @capricorn_lhr
ایک مرتبہ ڈیجیٹل کلون بن جائے اس کو کسی بھی ویڈیو میں فٹ کر دیتے ہیں۔ یہ بُہت خطرناک ہے۔
مولانا صفدر اعوان نے ہمارا جسم ہماری مرضی والی عورتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُور کہا وُہی عورتیں جب بیمار ہوتی ہیں۔ تو پھر ان کو رب یاد آ جاتا ہے۔ پھر احساس ہوتا ہے یہ جسم رب کی امانت ہیں۔ بندے کی مرضی نہیں چلتی۔ اب اس بات کو ہر بندہ پرسنل لے رہا ہے۔ ایک صوفی کی بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
فرعون بھی جب ڈوبنے لگا تھا تو اس نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا تھا میں تمھارے رب پر ایمان لاتا ہو۔ لیکن اس کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ تو بہتر ہے جسم کو ذاتی جاگیر کی بجائے ایک امانت سمجھا جائے۔ اس سے پہلے کے کوئی دم درود کام نہ ائے۔







