True Pakistani (@urtruepakistani) profile picture
Joined June 2024
Photo by True Pakistani (@urtruepakistani)Photo by True Pakistani (@urtruepakistani)Photo by True Pakistani (@urtruepakistani)Photo by True Pakistani (@urtruepakistani)
ویسے یہ بات عاصمہ چوھدری کو معلوم ھے۔ ایسے ھی چوُتیا چوُتیا ٹرینڈ چلا کر اپنی پوسٹ کے لیے زیادہ ویوز حاصل کرنا مقصود ھو تا ھے
عمران خان جس جائے نماز پر نماز پڑھتاہے جیل کا عملہ اس کو مقدس سمجھ کر اسے گھر لے جاتا ہے ۔۔ اٹک جیل میں جس کرسی پر عمران خان بیٹھا اس کو حاصل کرنے کے لیے 2 افسر آپس میں لڑ پڑے ۔۔ مظہر برلاس @mazhar_barlas
2
ویسے قبر میں کسی سے یہ سوال جواب ھونا ھے کہ کس کا کیا مقام ھے یا نہیں ھے۔ یہ سب ایسی بحثیں ھیں جن پر بات کرنا مناسب نہیں۔ھمیں اپنے اپنے کیے اعمال کی فکر کرنی چاھیے کہ ھم نے اپنا جواب دینا ھے۔ اور اللہ کریم نےھماری پُوچھ گُچھ کرنی ھے۔ مگر اس میں کسی اور بارے سوال نہیں ھونا
حدیث: میں علم کا شہر ہوں علی۴ اس کا دروازہ ابوبکر اس کی بنیاد ہے عمر اس کی چھت ہے اور عثمان اس کی دیوار ہے کا پوسٹمارٹم
1
اللہ کی مخلوق کے لیے آسانیاں بانٹنے والوں کی نسلوں میں اللہ کریم خیر عطا فرما دیتے ھیں۔ یہ جو نام نہاد NGOs اور انسانی حقوق کی ماڈرن ترین خواتین صرف فوٹو شوٹ کی ماھر ھوتی ھیں۔ مگر اس طرح کے وسیع فلاحی کام کرنے والے بڑے ھی خوش نصیب انسان ھوتے ھیں۔
بیوٹی پارلر بند کررہی تھیں کہ ایک لڑکی چہرہ ڈھانپے سامنے آگئی۔ اس نے دوپٹہ ہٹایا تو مسرت مصباح چند لمحوں کے لیے کچھ بول نہ سکیں۔ پھر ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے سیکڑوں عورتوں کی زندگیاں بدل دیں. 2003 کی ایک شام لاہور میں مسرت مصباح اپنا دفتر بند کرکے جانے کی تیاری کررہی تھیں کہ ایک خاتون ان کے پاس آئیں اور مدد کی درخواست کی۔ خاتون نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ مسرت نے جب اس کی بات سنی تو معلوم ہوا کہ وہ ان سے اپنی شکل و صورت بہتر بنانے کے لیے مدد چاہتی ہیں۔ مسرت نے اسے دیکھا اور پھر اس خاتون نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ سامنے تیزابی حملے سے متاثر ایک چہرہ تھا۔ مسرت کے لیے یہ منظر ناقابلِ فراموش ثابت ہوا۔ وہ برسوں سے حسن اور آرائش کے شعبے سے وابستہ تھیں، مگر اس روز ان کے سامنے ایک ایسی عورت کھڑی تھی جس کی ضرورت محض خوب صورت دکھائی دینا نہیں تھی۔ اسے علاج، تحفظ، اعتماد اور زندگی دوبارہ سنبھالنے کے لیے مدد چاہیے تھی. مسرت مصباح نے بعد میں اپنے انٹرویوز میں بتایا کہ اس خاتون کے شوہر نے اس پر تیزاب پھینکا تھا۔ حملے نے نہ صرف اس کی ظاہری صورت متاثر کی بلکہ اس کی پوری زندگی بدل دی تھی۔ مسرت اس ملاقات کو اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اپنے پیشے کے ذریعے لوگوں کی ظاہری خوب صورتی بہتر بنانے میں مدد کرسکتی ہیں تو ایسی خواتین کے لیے کچھ کیوں نہ کریں جنہیں شدید تشدد کے بعد علاج اور بحالی کی ضرورت ہے؟ مسرت نے متاثرہ خاتون کی مدد کرنے کی کوشش شروع کی، لیکن جلد ہی انہیں اندازہ ہوا کہ یہ ایک عورت کا مسئلہ نہیں۔ پاکستان میں تیزابی حملوں اور جلائے جانے کے واقعات سے متاثرہ متعدد خواتین ایسی تھیں جنہیں طویل طبی علاج، بار بار آپریشن اور نفسیاتی مدد درکار ہوتی تھی۔ بعض کے لیے گھر واپس جانا بھی محفوظ نہیں ہوتا تھا۔ کسی کی تعلیم چھوٹ گئی تھی، کوئی ملازمت نہیں کرسکتی تھی اور کچھ خواتین سماجی تنہائی کا شکار تھیں۔ ایسے حالات میں صرف ایک آپریشن کروا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں تھا۔ اسی سوچ سے ڈیپلیکس اسمائل اگین فاؤنڈیشن کے کام کا آغاز ہوا۔ مسرت نے ڈاکٹروں، ہمدرد افراد اور فلاحی اداروں کے تعاون سے متاثرہ خواتین کے علاج کی راہیں تلاش کرنا شروع کیں۔ اکتوبر 2003 میں فرسٹ ویمن بینک اور ڈیپلیکس اسمائل اگین کے تعاون کی خبر سامنے آئی، جس کے تحت ابتدائی دس متاثرہ خواتین کے علاج کے لیے اطالوی ماہر جراحوں کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ وقت کے ساتھ یہ کوشش ایک منظم فلاحی ادارے میں تبدیل ہوگئی۔ مسرت نے محسوس کیا کہ کسی متاثرہ عورت کو دوبارہ زندگی سنبھالنے کے لیے صرف چہرے کا علاج کافی نہیں۔ اسے ایسا ہنر بھی چاہیے جس کے ذریعے وہ اپنی آمدنی حاصل کرسکے اور دوسروں پر انحصار کم کرسکے۔ اسی لیے فاؤنڈیشن کے کام میں نفسیاتی مدد، ہنرمندی کی تربیت اور معاشی خودمختاری کو بھی شامل کیا گیا۔ بعض خواتین نے بیوٹی اور دوسرے پیشہ ورانہ شعبوں کی تربیت حاصل کی، جبکہ کچھ کو روزگار کے مواقع تک پہنچنے میں مدد دی گئی۔ ... اس سارے سفر میں مسرت کے سامنے ایسے واقعات بھی آئے جن میں متاثرہ خواتین کو قانونی انصاف حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا۔ بعض کو اپنے ہی خاندانوں کی طرف سے تعاون نہیں ملا۔ لیکن اس کام نے انہیں یہ سمجھایا کہ کسی انسان کی بحالی صرف زخم بھر جانے کا نام نہیں۔ اصل بحالی تب شروع ہوتی ہے جب وہ دوبارہ اپنی زندگی کے فیصلے کرنے، کام کرنے اور معاشرے میں اعتماد کے ساتھ رہنے کے قابل ہو۔ ... مسرت مصباح کو بعد میں ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغۂ حسنِ کارکردگی بھی ملا، مگر ان کے فلاحی کام کی بنیاد کسی اعزاز کی خواہش نہیں تھی۔ وہ ایک ایسی خاتون کی درخواست سے شروع ہوا تھا جو 2003 کی ایک شام ان کے دفتر کے باہر مدد مانگنے آئی تھی۔ .. مسرت مصباح کی کہانی کا سب سے دل کو چھونے والا پہلو یہی ہے کہ ایک متاثرہ عورت سے ملاقات نے ان کے اپنے پیشے کو دیکھنے کا انداز بدل دیا۔ وہ پہلے بھی لوگوں کی زندگی میں خوب صورتی شامل کرنے کا کام کرتی تھیں، مگر اس روز انہیں احساس ہوا کہ کسی انسان کے لیے سب سے قیمتی چیز صرف خوب صورت نظر آنا نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور خودمختاری کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ بعض اوقات ایک اجنبی کا دکھ ہمیں زندگی کا وہ مقصد سمجھا دیتا ہے جس کی تلاش شاید ہم نے کبھی شعوری طور پر کی ہی نہیں ہوتی۔
1
9
یہ جو منگنی یا صرف نام لیا جاتا ھے وہ اسی لیے ھوتا ھے کہ اس دوران دو جوان فیملیز اچانک وزٹ کیا کریں اور ان سے ملیں انکے محلے داروں اور رشتہ داروں سے انکے رھن سہن اور کردار بارے معلومات حاصل کریں۔ مگر اکثر لڑکی والے اجتناب کرتے ھیں پھر اکثر ایسے سین ھو جاتے ھیں۔
دودھ پلائی کی رسم میں "کچھ دو اور دلہن لو" والا معاملہ اس وقت ڈرامائی موڑ اختیار کر گیا جب منڈی بہاؤالدین میں باراتی محض مفت کی بریانی اڑانے اور ہنگامہ کھڑا کرنے کا ذریعہ بن کر رہ گئے۔ ​قصہ کچھ یوں ہے کہ لڑکے والے دو سو کی بھاری بھرکم فوج کے ساتھ شادی ہال پہنچے، جہاں ڈھول کی تھاپ پر خوب بھنگڑے ڈالے گئے اور دلہن والوں نے بھی کھلے دل سے ان کی تواضع کی۔ لیکن جیسے ہی پیٹ بھرنے کے بعد دودھ پلائی کی رسم آئی اور سالیوں نے حسبِ روایت "دودھ کی قیمت" مانگی، تو دلہا میاں اور ان کے گھر والوں کی جیبوں پر جیسے سانپ سونگھ گیا۔ مفت کے دودھ کا لالچ اور اوپر سے رقم دینے سے صاف انکار! ​معاملہ ابھی گرم ہی تھا کہ بیچ میں دلہا کی خاندانی کزن صاحبہ کود پڑیں اور جلتی پر گھی ڈال دیا۔ بس پھر کیا تھا، دونوں طرف سے طعنے اور بحث کا ایسا طوفان اٹھا کہ بات ہال کے اسٹیج سے نکل کر سیدھی پولیس اسٹیشن پہنچ گئی۔ پولیس نے آ کر بمشکل معاملات کو ٹھنڈا کیا تو دلہا میاں اچانک پینترا بدل کر بولے، "چلو، دلہن کو ساتھ لے جاتا ہوں، باقی فیصلہ صبح کریں گے کہ آگے رکھنا ہے یا نہیں!" ​یہ سننا تھا کہ موقع پر موجود وکیل صاحب نے مداخلت کی اور دلہن سے اس کی مرضی پوچھی۔ لیکن دلہن نے بھی ایسا کرارا جواب دیا کہ سب کی بولتی بند ہو گئی۔ اس نے صاف کہہ دیا، "جو لوگ دودھ کے چند روپوں پر پولیس بلا لیں اور آگے کا فیصلہ صبح پر چھوڑیں، میں ایسے گھر ہرگز نہیں جاؤں گی!" ​نتیجہ یہ نکلا کہ باراتی دو سو بندوں کا مفت کھانا کھا کر، مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے لیکن خالی ہاتھ ہی واپس روانہ ہو گئے۔ اب لڑکی والے سر پکڑ کر بیٹھے ہیں کہ "ہمارے لاکھوں روپے بھی ڈوب گئے اور جہیز کا سامان بھی پھنس گیا، کم از کم وہ تو واپس کر دو!"
1
5
اللہ کاکڑ صاحب کی مغفرت فرمائیں۔ مگر تم نے اس میں سب تروڑ مروڑ کر لکھا ھے۔ چونکہ تم ایک بھارتی ایجنٹ ھو اور پاکستان کی فوج اور قیادت کے بارے ھر وقت بکواس کرتے رھتے ھو۔
سابق آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ کافی سمجھدار آفیسر تھے۔ ان کا "کاکڑ فارمولا" معروف ہے۔ جنوری 1993 میں آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ (خدیجہ شاہ کے نانا)، جنہوں نے نواز شریف کی BMW انکے منہ پر ماری تھی، اچانک مشکوک حالات میں دل کے دورے سے فوت ہوگئے۔ اس کے بعد نوازشریف اپنے کسی من پسند کمزور کرپٹ جنرل کو آرمی چیف بنانا چاہتا تھا۔ لیکن صدر غلام اسحاق خان نے جنرل کاکڑ کو آرمی چیف مقرر کر دیا۔ ظاہر ہے نواز شریف مطمئن نہیں تھا۔ صدر اسحاق نے اپریل میں نواز شریف کی حکومت کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دی، مگر سپریم کورٹ نے بحال کر دی۔ اس سے ایک بحران پیدا ہوگیا۔ جولائی 1993 میں جنرل کاکڑ نے مداخلت کر کے اسحاق اور نوازشریف دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ صدر اسحاق تو آسانی سے مان گئے تھے لیکن نوازشریف کی کنپٹی پر مبینہ طور پر پستول رکھ کر منانا پڑا۔ وحید کاکڑ نے دوسروں جنرلوں کی روایت کے برعکس خود اقتدار نہیں سنبھالا بلکہ پستول اور آئین کی مدد سے بحران حل کیا، سینیٹ چیئرمین عبوری صدر بنے، معین قریشی نگران وزیرِاعظم بنے اور اکتوبر میں منصفانہ انتخابات کروا دیے۔ بینظیر انتخابات جیت کر وزیرِاعظم بن گئی۔ وحید کاکڑ کے پستول اور آئین کے ملاپ سے بننے والے فارمولے کو "کاکڑ فارمولا" کہتے ہیں۔ جنرل کاکڑ نے 1996 میں مقررہ مدت پوری کر کے ریٹائرمنٹ لی اور خاموش زندگی بسر کر کے آج چل دیے۔ اللہ تعالٰی مغفرت فرمائے، آمین!
1
تو آپکو جب پتہ ھی نیں ھے کہ یہ بات سچ ھے کہ صرف پوسٹ کے ویوز زیادہ لینے کا بہانہ۔ تو حدیث کا مفہوم یاد رکھیں انسان کے لیے جھوٹے ھونے کے یہی کافی ھے کہ وہ بغیر تصدیق کیے بات آگے کردے۔
Replying to @life_solved
Hum chnd un logo mein se hain jo personally husnain bhai ko janta hain ALLAH unki hafazt karin
1
True Pakistani retweeted
حکومت کیخلاف ہولتے ہوئے بیرسٹر گوہر آ بریدہ ہو گئے۔۔ مشاہد اللہ مرحوم صاحب کی دور اندیشی کو سلام جنہوں نے بہت پہلے ہی بتا دیا تھا تم نے رونا ہے اور تمھارے آ جاؤ پونچھنے والا کوئی نہیں ہو گا ۔
10
159
5
298
6,382
او لعنتیوُ کیوں مرحوم ڈاکڑ اسرار پر جھوٹ باندھ رھے ھو۔ اب وہ اس بات کو جھٹلا نہیں سکتا اس لیے اس کے نام سے جھوٹ باندھ دو۔ جبکہ اسُنے اپنی زندگی 35 سال پہلے اس عمرانی فتنے کی نشاندھی کر دی تھی۔ جسکا سارے عالم کو پتہ ھے۔
ان شاءاللہ خان ائے گا ضرور۔
2
یہ سب بکواس اور چٹا جھوٹ ھے۔ صرف اپنی پوسٹ پھیلانے اور زیادہ ویوز لینے کا چکر ھے۔ دوسری بات یہ فوٹو بھی کسی بیرون مُلک کی ھے۔ مظفر گڑھ کی نہیں۔
مظفرگڑھ میں کھدائی کے دوران ایک مجسمہ ملا ہے۔ اِس مجسمہ کے بارےمیں چند بُدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ نہیں بلکہ زندہ انسان ہے جس نے خُود کو سو سال کے لیے سُلا لیا ہے۔ یہ کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔ ایک جانور کی کھال میں لپٹے اِس مجسمہ کے پاس ایک تحریر برآمد ہوئی جو کہ قدیم چائنیز زبان میں لکھی ہوئی ہے۔محکمہ آثار قدیمہ کے کارکنان اور نمائندگان نے اسکو پڑھنے اور سمجھنے کے لیئے چائنہ سے ایک وفد بلوایا جس نے یہ تحریر پڑھی 修建ijp公路时,请叫醒我 جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ... جس دن یونیورسٹی آف مظفرگڑھ بن جائے اور قاتل روڈ ڈبل ہو جائے تو مجھے جگا دینا
3
یہ اتنے ب۔ چود یوتھیے ھیں کہ ڈاکٹر اسرار کے نام پر AI سے ایک جھوٹی ویڈیو بنا کر ٹرینڈ چلا دیا ھے۔جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے جو 30-35 سال پہلے بیان دیا تھا کہ یہودیوں نے عمران کو آلہ کار بنانے کا عمل شروع کر دیا ھے جس میں اپنی لڑکی شادی وغیرہ شامل ھے جو کہ یہودیوں کا پُرانا طریق ھے
ان شاء اللہ تعالی۔ ان شاء اللہ تعالی ڈاکٹر اسرار کی پیش گوئی کہ پاکستان میں ایک وزیر اعظم آئے گا، جو ریاست مدینہ کا نعرہ لگائے گا، پر پہلے جیل جائے گا جب واپس آئے گا تو دنیا دیکھے گی، عمران ریاض
8
کسی امریکہ برطانیہ اور یورپ مین کرائم نہیں ھوتے ۔ اب چونکہ پٹواریوں کی حکومت چل رھی ھے اس اب حکومت کو کوسنے۔ ج۔ بُزدار تھ اُس وقت کوئی کرائم نہ رھا۔
Replying to @MohUmair87
اسی وجہ سے کاروباری لوگ اس ملک کو چھوڑ کے جانا چاہتے ہیں یہ اس طرح کا قانون تو فریقہ کے جنگلوں میں بھی نہیں ہے
1
یہ سب باتیں اسُ سڑک چھاپ سُہیل آفریدی کو خوُد پتہ ھیں کیا ۔۔؟ یا اُس نے آپکو خواب میں آکر اپنا منشور بتایا ھے
بریکنگ نیوز 🚨نر کا بچہ اقبال آفریدی ڈٹ گیا۔ بڑا دبنگ اعلان کردیا 🔥🔥 صوبے کے تمام ضلعی صدور اور جنرل سیکرٹریز تحصیل این سی وی سی عہدیداروں سے جلدی رابطہ شروع کریں، غفلت نہیں دیکھانی، خاموش تماشائی نہیں بننا۔ لانگ مارچ جلد شروع کرنے والے ہیں۔ کوئی پیچھے نہ رہے، ہم اپنا مینڈیٹ واپس لیں گے اور انہیں عبرتناک شکست دیں گے۔ ان کو کے پی میں قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔
1
بلکل درست فرمایا۔ مگر یہ قانون عمران پر بھی لگتا ھے۔ وہ کوئی آسمان سے ڈاریکٹ نہیں اُترا ھوا۔ وہ بھی دوسروں کی نقلیں اُتارتا تھا۔ آج خوُد نشان عبرت بنا ھوا ھے۔ اُس نے تو اپنا ھر تھوکا چاٹ کر ورلڈ ریکارڈ بنا دیا ھے۔
اللّه معاف کرے !! دنیا مکافات عمل ہے !! یہ وہی راجہ ریاض ہے جس نے عمران خان کو گولیاں لگنے کے بعد وہیل چیئر پر دیکھ کر مذاق اڑایا تھا اور انہیں شیطان تک کہہ دیا تھا، آج وقت نے ایسا پلٹا کھایا ھے کہ راجہ ریاض خود وہیل چیئر پر ہیں، انسان کو کبھی کسی کی تکلیف اور آزمائش کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، کیونکہ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
4
ماشااللہ۔ اللہ کریم استقامت عطا فرمائیں۔ آمین
سبحان اللہ، فالحمدللہ! 🌟 آج میرے لیے انتہائی فخر کا دن ہے کہ میرے 13 سالہ جگر گوشے حسن شاہد نے قرآنِ پاک کا حفظ مکمل کر لیا ہے۔ دعا ہے کہ وہ میرے بیٹے کو صراطِ مستقیم پر قائم رکھے اور اس کی برکت سے ہمارے پورے خاندان کی عاقبت سنوارے۔ دعاؤں کی مخلصانہ درخواست ہے! 🤲❤️ #Quran #Hifz
2
بہت اچھے ۔ یہ تو صاف لگ رھا ھے کہ مرچیں کس کو لگی ھوئی ھیں۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ۔ تم جیسے یوتھیوں نے ھی عمران کو پھائے لگوانا ھے بلکہ اب شاید جلدی ھی یہ کام ھو جائے ۔ ان شاءاللہ
Replying to @urtruepakistani
جیل توڑ کر تو دوسرے دن ہی باہر نکال سکتے تھے مگر خان صاحب عدالتوں کے ذریعے قانون کی بالادستی سے باہر آئینگے ۔۔ان شاءاللہ تعالٰی مگر تمہیں کیوں بغض عمران کی اتنی مرچیں لگی ہوئی ہیں 🤣🤣🤣👈🏼🌶🌶🌶
1
Replying to @urtruepakistani
جیل توڑ کر تو دوسرے دن ہی باہر نکال سکتے تھے مگر خان صاحب عدالتوں کے ذریعے قانون کی بالادستی سے باہر آئینگے ۔۔ان شاءاللہ تعالٰی مگر تمہیں کیوں بغض عمران کی اتنی مرچیں لگی ہوئی ہیں 🤣🤣🤣👈🏼🌶🌶🌶
1
بہتر ھوتا کہ اس جگہ کی بھی نشاندھی ھوتی تاکہ انکو سمجھایا جاتا کہ اس طرح کرنے سے کسی بھی وقت فرقہ واریت کا مسلۂ کھڑا ھو جائے گا جس سے نقص امن ک شدید خطرہ ھو سکتا ھے۔ اس طرح مت کریں۔ صاف لگتا ھے کہ یہ اس گھر والوں کی مرضی سے یہ کلپ بنایا گیا ھے۔
اطلاعات کے مطابق لاہور میں کسی شخص نے اپنے گھر کی چھت پر خانہ کعبہ سے مشابہت رکھتی ہوئی ایک ساخت تعمیر کی ہے اور اس کے اوپر ایک علم نصب کیا ہے۔ کیا یہ خانہ کعبہ کے تقدس کی بے حرمتی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اور کچھ لوگوں کی جانب سے اسے عقیدت اور تقدس کا رنگ بھی دیا جا رہا ۔ ​لاہور سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ شہر کے ایک رہائشی نے اپنے گھر کی چھت پر خانہ کعبہ سے مشابہت رکھتی ہوئی ایک علامتی ساخت (ڈھانچہ) تعمیر کی ہے اور اس پر علم (علمِ مبارک) بھی نصب کیا ہے۔ اس وائرل ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور عوام کی طرف سے شدید نوعیت کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ اسلام کا مرکزی اور انتہائی مقدس ترین مقام ہے، اور اس طرح عام رہائشی گھروں کی چھتوں پر اس کی شبیہہ یا ساخت بنانا اور اس پر علم لگانا اسلامی شعائر کے تقدس اور احترام کے منافی ہے۔ اس معاملے پر مذہبی حلقوں اور عام شہریوں کی جانب سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ مقامات پر اسے عقیدت کا رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی ہے، جس سے اس تنازعے میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اور دینی حلقوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اسلامی مقدسات اور شعائر اللہ کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے، اور ایسے حساس معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے جو عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچائیں یا جن سے تقدس پامال ہونے کا خدشہ ہو۔ اس قسم کے علامتی ڈھانچے بنانے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی یا مذہبی دل آزاری نہ ہو #Lahore #Kabba #ViralVideo #Controversial #PakistanNews
8
اسکو ماں پہلے یاد نہیں آئی جب یہ فرعون بنا ھوا تھا۔ کہتا تھا جلا دو مار دو وغیرہ وغیرہ۔ اس کو ماں کی نہیں گیٹ نمبر 4 کی یاد ستاتی ھے۔
جب انسان تکلیف میں ہو تو سب سے زیادہ یاد ماں کی اتی ہے اتنا پرانا بزرگ سیاست دان شیخ رشید کیوں رو رہا ہے ؟ شیخ رشید سے رپورٹر نے سوال کیا عید کے روز کس کو یاد کررہے ہوں ۔ شیخ رشید نے روتے ہوے کہا کہ میں رو پڑونگا ماں کو یاد کر تین دن عید کے گزرے کسی نے مجھے یاد تک نہی کیا ۔۔ یہ ان کا کلپ پرانا ہے جب وہ سیاست کو خیراباد کہ چکے تھے اس فسطائیت اور جبر کو برداشت نہ کر سکے ۔۔ مگر اک بات کی انہیں داد چاہینے کہ وہ چاہتے تو اج باقی سیاست دانوں کی طرح عہدہ لیکر اقتدار کے مزے لے سکتے تھے ۔ مگر انہوں نے اپنا نام تاریخ کے کوڑے دان میں لکھوانا پسند نہی کیا ۔ سیاست کو چھوڑ کر گھر بیٹھ گئے کوی پتہ نہی اجکل کس حال میں ہے ۔ میڈیا والے جاتے ہیں اف دی ریکارڈ گفتگو کرتے ہیں مگر انٹرویو دینے سے معذرت کرلیتے ہیں ۔ نو سال کی عمر سے سیاست کرنے والے شیخ رشید جسکی لال حویلی میں رونق کبھی ختم نہی ہوی ۔۔ اج لال حویلی سنسان ہے ۔ شیخ رشید کہتے ہیں جب مجھے پکڑ کر لے گئے تو میرے لیے کرین بلای افسر نے کہا اسے کرین سے الٹا باندھ کر لٹکادو ۔۔ جب مجھے باندھنے لگے موقع پر موجود افیسر نے کہا بزرگ سیاست دان ہے حکومت مخالف پارٹی میں ہے اتنا بڑا قصور نہی ہے کہ اس کے ساتھ یہ سب کیا جاۓ انہیں جانے دو ۔۔ پھر اس افیسر نے اپنا ارداہ ترک کیا ۔۔ جب سیاست میں انتقام ا جاے غصہ بغض انا حسد ا جاے تو پھر وہ سیاست نہی رہتی پھر بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس جبر کو برداشت کر پاتے ہیں ۔ بھٹو کے کتنے عرصہ بعد عمران خان ایا مگر داد دیجیے عمران خان اس کی فیملی اور اس کے وفادار ساتھیوں کو جو بغیر کسی گناہ کے ستر اسی سال کی عمر میں بیماریوں میں مبتلا سالوں سے جیل میں بند ہیں ۔ اس ملک سے محبت کا قرض چکا رہے ہیں ۔
16