جب سیاسی مؤقف کا جواب دلیل سے نہ بن پڑے، جب اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی ہمت نہ ہو تو پھر کردار کشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
آخر مولانا کیا کہہ رہے ہیں، ان کے سوالات کا جواب کیا ہے؟ اس پر بات کرنے کے بجائے یہ سستے ہتھکنڈے کیوں؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ایک منظم مہم کے تحت کردار کشی اور اے آئی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
سوال خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے جواز کا ہے، صوبے کے معدنی وسائل پر اختیار اور ان کے مستقبل کا ہے، مگر جواب میں کبھی نوٹس کہ گھر کےسامنے جنریٹر کیوں رکھا، کبھی کرپشن کے الزامات اور اب اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز ۔۔
بحث کا رخ اصل سوالات سے موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو غیر ضروری تنازعات میں الجھاؤ تاکہ اصل سیاسی سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔
سوالات کا جواب دو!
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے
آج بھی آپ پاکستان کے وفادار بنیں، سو دفعہ وفادار بن جائیں، لیکن آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی اگر آپ نے نہ کی اور ان کی خواہشات کے مطابق آپ نے زندگی نہ گزاری تو آپ غدار قرار دیے جاتے ہیں۔
دشمنی بھی کی جاتی ہے، اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بڑے لوگ اس میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے اقدامات!
آج آپ میڈیا دیکھیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ کیا کہہ رہے ہیں !
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
دو روز پہلے یہاں اسلام آباد میں طلبہ کا اجتماع ہوا تھا اور آج یہاں اساتذہ کا اجتماع ہو رہا ہے۔ دونوں اجتماعات جہاں منعقد ہونے تھے، وہاں طاقتور قوت نے نہ طلبہ کو جمع ہونے دیا اور نہ اساتذہ کو۔
یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام اور یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام۔ آپ کو شاید سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر اور آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیت علمائے اسلام سے ملتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماعات سے فضل الرحمٰن خطاب کرنے والے ہیں۔
ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، جو کچھ انہوں نے کیا، اس میں حماقت ہے
سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف، ملکی نظام کے خلاف۔ تو یہ چیزیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔
کون پالیسی بناتا ہے؟ کون فیصلے کرتا ہے؟ یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،7 نومبر
13 مارچ 2023 کا پوسٹ::::
اج کالے چینلز کو پروپیگنڈا کےلئے یہ خبر دیا ،،،
Address by JUI Chief Maulana Fazlur Rehman at a gathering in Islamabad
The world wants us to block China's route, while the United States wants us to invite investment into the tribal mountains. Did you go there to invite them? Did you present samples of our mountains' mineral resources to President Trump at the Oval Office in the United States? You present the samples, you encourage the investment, and you have some arrangement of your own. Bring these matters before the nation and make them public.
We are not opposed to investment by anyone. It is also wrong to block Chinese investment. We are not against American investment either, nor are we opposed to investment by multinational companies. However, there must be transparency in these matters. Agreements must be transparent, and all terms and conditions must be presented before the nation. The terms under which the agreements have been reached must be made public. The share of profits for our country, the investors, and the local population must be clearly determined.
Behind closed doors, you make these arrangements and then offer explanations. Now you say that if the issue had not been related to counterterrorism, the emergency would have been imposed only in the former FATA. Then why has it also been imposed in the settled districts? Now I, too, have to say something about this. What can we do?
You claim that an emergency has been imposed there because these are smuggling routes. There are many tribal youth sitting here whose areas face curfews two days a week. Don't they? A curfew is imposed for two days. Does that mean there is no terrorism for the remaining five days? Do the terrorists disappear into caves for five days and come out only for two? And is it only during those two days that you conduct operations against them?
Then why is this curfew imposed? We are told that terrorists are coming, so people must stay inside their homes and not come out because security forces are fighting them. But it turns out that trucks are passing through those very areas.
We have no objection to agreements, nor do we oppose anyone's investment. But if resources are being transported from here, they must pass through legal channels. Have we not closed the legitimate routes? Our borders with Afghanistan are closed, yet goods continue to come through illegal routes.
Our national revenue increases through taxation. Goods are subject to duties and taxes; pay those duties, because that is how the country runs.
If we, as rulers, engage in such practices, creating unknown illegal routes for our own profits, then we clearly have no concern for the national treasury or the welfare of the people.
We are fighting for the rights of this nation. You have your eyes on Gwadar. You have decided to bring Gwadar under federal control, even though it rightfully belongs to Balochistan. The coastal areas belong to Balochistan, yet you are looking for ways to transfer control of these coastal areas to the federation. We are fighting for the rights of the people of Balochistan.
There are islands in Sindh whose people are entitled to the benefits and profits generated from them. Yet you are seeking to take control of these islands and bring them under federal authority. Once these rights have been constitutionally recognised as belonging to the people of the provinces, how can you take them over in this manner?
These are national trusts, held in the public interest. You are committing an enormous betrayal of public trust, yet you are targeting us. You have not even approved the map of my house, but aerial drone footage is being recorded, and efforts are being made to identify my residence.
Maulana Fazlur Rehman, Ameer JUI Pakistan, addressing a gathering in Islamabad.
دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔ اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کیے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے،،، قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں۔
ہم کسی کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے۔ ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھی جائیں، کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی آبادی کے منافع کا تعین ہو۔
چوری چھپے ۔۔۔۔۔۔۔اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی؟ اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے، کیا کریں ۔۔۔۔۔ یہ اسمگلنگ کے راستے ہیں، اس لیے وہاں ایمرجنسی ہے۔ بہت سے قبائلی نوجوان یہاں ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن؟ تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں، غاروں میں چھپ جاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں، تو پھر آپ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں؟(
تو یہ کرفیو کس لیے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد آ رہے ہیں، گھروں میں بند رہو، باہر مت آؤ، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتا چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے۔ ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔
اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کریں گے کہ پتا نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہے، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔
ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلوچستان کا حق بنتا ہے۔ ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں، جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں، تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ ظاہر ہے، جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں، آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے؟ یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہو اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں، گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
JUI Answers Back retweeted
دنیا چاہتی ہے کہ ہم چائنا کا راستہ روک لیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ ہم یہاں قبائلی پہاڑوں میں یہاں پر سرمایہ کاری کریں۔ اور ان کو دعوت دینے میں گیا تھا؟ امریکہ کے اوول ہاؤس میں پریزیڈنٹ ٹرمپ کو ہمارے پہاڑوں کے معدنیات کے نمونے میں نے پیش کیے تھے؟ نمونے تم پیش کرتے ہو، ترغیب تم دلا رہے ہو، تمہارا آپس میں ایک معاملہ ہے،،، قوم کے سامنے رکھو یہ چیزیں۔
ہم کسی کی سرمایہ کاری کے خلاف نہیں ہیں، یہ بھی غلط ہے کہ چین کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا جائے۔ ہم امریکہ کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، ہم ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے بھی خلاف نہیں ہیں، لیکن معاملے میں شفافیت ہونی چاہیے، معاہدات میں شفافیت ہونی چاہیے، قوم کے سامنے تمام شرائط رکھی جائیں، کن شرائط پر معاہدہ ہوا ہے، ہمارے ملک کے منافع کا تعین ہو، ان کے منافع کا تعین ہو، مقامی آبادی کے منافع کا تعین ہو۔
چوری چھپے ۔۔۔۔۔۔۔اب کہتے ہیں کہ اگر دہشت گردی کے خلاف بات نہ ہوتی تو پھر تو ایمرجنسی صرف فاٹا میں ہونی چاہیے تھی، یہ نیچے اضلاع میں کیوں ہوئی؟ اب مجھے بھی پھر کچھ کہنا پڑ رہا ہے، کیا کریں ۔۔۔۔۔ یہ اسمگلنگ کے راستے ہیں، اس لیے وہاں ایمرجنسی ہے۔ بہت سے قبائلی نوجوان یہاں ہوں گے جن کے علاقوں میں ہفتے میں دو دن کرفیو ہوتا ہے، ہوتا ہے نا دو دن؟ تو پانچ دن دہشت گردی نہیں ہوتی وہاں پر؟ پانچ دن دہشت گرد کہیں چلے جاتے ہیں، غاروں میں چھپ جاتے ہیں اور صرف دو دن باہر آتے ہیں، تو پھر آپ ان کے خلاف کارروائی کر رہے ہوتے ہیں؟(
تو یہ کرفیو کس لیے لگائی جاتی ہے؟ ہمیں کہا جاتا ہے کہ دہشت گرد آ رہے ہیں، گھروں میں بند رہو، باہر مت آؤ، ہم لڑ رہے ہیں، وہ پتا چلا کہ وہاں سے ٹرک گزر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں نہ معاہدہ پر اعتراض، نہ کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض، یہاں سے اگر مال نکلتا ہے تو جائز راستے سے آئے نا، تو جائز راستے ہم نے بند کیے ہیں، افغانستان کے ساتھ ہماری بندش ہے، تو چوری کے راستوں سے مال تو آ رہا ہے۔ ہمارے محصولات میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو ٹیکس کی وجہ سے ہوتا ہے، اس کی ڈیوٹی ہوتی ہے، وہ ادا کرو، اس سے ملک چلتا ہے۔
اب اگر ہم حکمران ہوتے ہوئے اس طرح کی کارروائیاں کریں گے کہ پتا نہیں اپنے منافع کے لیے تم نے کون سے چوری کے راستے بنا لیے ہیں اور قوم کے خزانے کی پرواہ نہیں ہے، عوام کی تمہیں پرواہ نہیں ہے۔
ہم قوم کے حق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کی نظر گوادر پر ہے، تم نے گوادر کو وفاق کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو بلوچستان کا حق بنتا ہے۔ ساحلی علاقہ جو بلوچستان کا حق بنتا ہے، تمہاری اس پر نظریں ہیں کہ کس طرح کوسٹل ایریا کو وفاق کی طرف کیا جائے، ہم ان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
صوبہ سندھ میں جزیرے ہیں، جن کے منافع کے حق دار سندھ کے عوام ہیں، تم ان پر قبضہ کر رہے ہو اور وفاق کے کنٹرول میں لے رہے ہو۔ ظاہر ہے، جب ایک دفعہ آئینی طور پر یہ ساری چیزیں صوبوں کے عوام کے حق قرار دیے جا چکے ہیں، آپ اس طریقے سے اس پر قبضہ کریں گے؟ یہ تو قومی امانت ہے، تم اتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہو اور ہمارے پیچھے لگ گئے ہو، گھر کا نقشہ پاس نہیں کیا، فضائی ڈرون ویڈیوز بنائے جا رہے ہیں، گھر معلوم کیا جا رہا ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
I say to Maulana Fazlur Rehman that your yellow turban is a symbol of our honour, our dignity, our pride, and our modesty.
Believe me, if anyone dares to raise a hand against your yellow turban or looks at it with ill intent, we will tear out their eyes.
Allah Almighty has raised a Moses for every Pharaoh, and He has raised Maulana Fazlur Rehman to stand against these tyrants.
I say to those people: For God's sake, do not try to intimidate us over this matter. We are not afraid, nor will we bow to fear.
We are not prepared to accept any form of subjugation or restrictions imposed upon us.
Haji Akram Khan Durrani – at Islamabad, Pakistan
اسلام آباد: میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے کہتا ہوں کہ آپ کا یہ زرد رومال ہماری عزت، ہمارا وقار، ہماری غیرت اور ہماری حیا کی علامت ہے۔
یقین جانیے! اگر کسی نے آپ کے اس زرد رومال پر ہاتھ اٹھایا یا اسے بری نظر سے دیکھا تو ہم اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔
ہر فرعون کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک موسیٰ پیدا کیا ہے اور ان فرعونوں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مولانا صاحب کو پیدا کیا ہے۔
میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ خدا کے لیے آپ ہمیں اس معاملے پر نہ ڈرائیں، ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔
ہم غلامانہ پابندیاں ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
سابق وزیر اعلی مرکزی رہنما جےیوآئی الحاج اکرم خان درانی
JUI Answers Back retweeted
مسٹر پتلو کا ہم عصر ”ڈیجیٹل مالک“ سرکاری ٹی وی پر لائیو/براہ راست۔
سوال بہت سادہ سا ہے کہ ”کالے ڈیجیٹل“ کا مالک کون سا کاروبار کرتا ہے جس میں اتنا منافع ہے کہ وہ ملک ریاض کی نیلام کی جانے والی جائیدادیں بھی خرید لیتا ہے؟
Thousands of digital media channels are operating in Pakistan, but would PTV ever broadcast a news report filed by the owners or reporters of these channels?
Today, all television channels, including PTV, were directed to broadcast the press conference live.
Now, it is time to ask another important question: Who is actually behind these digital channels, and who is funding and operating them?
Digital channels whose monthly monetization revenue barely reaches Rs. 35,000 are spending millions of rupees every month. Where is this money coming from? Where does the funding come from to hire female employees at monthly salaries running into hundreds of thousands of rupees, cover massive operational expenses, and maintain such an extensive media network?
These questions deserve clear and transparent answers. – at Islamabad, Pakistan
Mussawar Abbasi, whose digital platform @azaad_urdu is under criticism for allegedly faking neighbours of opposition politician Maulana Fazlur Rehman and what critics describe as propaganda journalism, is appearing live on state-owned PTV, briefing the media about the alleged threats to him by followers of the religo-political party
پاکستان میں ہزاروں ڈیجیٹل چینلز کام کر رہے ہیں، لیکن کیا ان چینلز کے مالکان یا رپورٹرز کی کسی خبر کو پی ٹی وی نشر کرے گا؟
آج پی ٹی وی سمیت تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی گئی کہ وہ براہِ راست پریس کانفرنس چلائیں۔
اب یہ سوال بھی واضح ہونا چاہیے کہ ان ڈیجیٹ چینلز کے پیچھے کون ہے اور انہیں کون چلا رہا ہے؟
جن ڈیجیٹل چینلز کی ماہانہ مونیٹائزیشن آمدن بمشکل 35 ہزار روپے ہے، وہ کروڑوں روپے کے ماہانہ بجٹ کہاں سے خرچ کر رہے ہیں؟ لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں پر لڑکیوں کی بھرتیاں، بھاری اخراجات اور وسیع میڈیا نیٹ ورک چلانے کے لیے سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے؟
انجنئیر ضیاء الرحمان کا کالے چینلز کو جواب – at Islamabad, Pakistan
آپ نے ایک غیرقانونی ڈرون فوٹیج بناکرمولانا صاحب کے گھر کی حرمت اور سکیورٹی بریچ کی ھے اور ھم نے آن ریکارڈ کہا کہ اگراس وڈیو کے ذریعے کل خدانخواستہ مولانا صاحب یا ان کے گھر کی سکیورٹی کمپرومائز ھوئی تو ذمہ دار صرف بنانے والے اور چینل والے نہیں سرپرست بھی ذمہ دار ھونگے۔
تو اپنے غیرقانونی حرکتوں پر پردہ ڈالنے کےلیے تم درخواستوں اور نوٹسز کے پیچھے چھپتے ھو اور ھمیں اس سے ڈراتے ھو؟؟ ھم آپ کو اس سے ڈرنے والے لگتے ھیں؟
مولانا صاحب نے جو سوالات پوچھے ھیں ان کے جوابات دینے ھونگے،تم الزامات، گالیوں اور نوٹسز کے پیچھے نہیں چھپ سکتے
#مولانا_کا_خودمختار_پاکستان
#بیرونی_ایجنڈا_نامنظور
#وسائل_سمگلرز
#نوبل_انعام_ٹھس
#ڈرون_گردی_کاحساب_دو
مولانا فضل الرحمٰن کی کردار کشی کی شدید مذمت کرتے ہیں، اپوزیشن رہنما
مولانا فضل الرحمٰن کی آواز آج گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف سب سے توانا آواز ہے، سلمان اکرم راجہ
مولانا فضل الرحمٰن کے گھر اور ذات پر حملے ناقابل قبول ہیں، سلمان اکرم راجہ
ملک میں آئین کا قتل، عوام کے حقوق کا قتل اور چادر و چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے، راجہ ناصر عباس
جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، مولانا فضل الرحمٰن کی کردار کشی اور گھر پر حملے قابل مذمت ہیں، راجہ ناصر عباس
ہر محکمے کے اپنے مخصوص بیٹ رپورٹرز ہوتے ہیں، جو اپنے متعلقہ چینلز کے لیے باقاعدگی سے خبریں فائل کرتے ہیں۔ ایک سینئر صحافی نے بتایا کہ وہ گزشتہ 13 سال سے اسلام آباد میں صحافت کر رہے ہیں، پہلی مرتبہ دیکھا کہ ہمارے گروپ میں سی ڈی اے کے نوٹس سے متعلق ٹیکرز ایک اور جگہ کے بیٹ رپوٹر فائل کر رہے ہیں۔۔
دوسری بات اپ سکرین شارٹ کو دیکھے کتنے سپیڈ سے ایک اور خبر مخصوص اینکرز پوسٹ کر رہے ہیں۔
تیسری بات ثمر بلور نے اسلام آباد سی ڈی اے کے نوٹسیز اپلوڈ کردیئے حالانکہ وہ پختونخوا کی ترجمان ہے اپنے پوسٹ میں ** بھی پوسٹ کردیا۔
یہ حال ہے گورنر راج کے چیف ایگزیکٹیو ( گورنر فیصل کریم کنڈی ) کی مشیر اطلاعات محترمہ ثمر عرفان اللہ مروت صاحبہ کی معلومات کا۔
اپنی ٹویٹ میں مفتی محمود مرکز کے رقبے کو 79 کنال ( تقریبا 20 جریب ) لکھ کر ثابت کیا کہ ان کا کام اس صوبے میں امن و امان کا قیام نہیں بلکہ صرف پروپیگنڈہ کرنا ہے۔
چلو مشیر اطلاعات صاحبہ اس رقبے میں 79 مرلے ہمارے باقی آپ کے۔
آپ بھی کیا یاد رکھیں گی۔
@SamarHBilour
JUI Answers Back retweeted
اسد طور کا معصومانہ سوال ۔۔۔
🚨🚨Wasn’t flying drones banned in #Islamabad? How can they record videos of a private property through drones without consent of the property owner?















