
Pakistan1st 🇵🇰 Long Live @MoulanaOfficial #TeamJUITwitter
Pakistan
Joined January 2012
- Tweets155K
- Following3.8K
- Followers52.4K
- Likes28.8K
Pinned Tweet
No compromise on honour of the Holy Prophet Hazrat Muhammad (S.A.W), & fight till the last drop of our blood.
#stop_islamophobia
ابابیل retweeted
مولانا فضل الرحمن صاحب کا دوٹوک سوال:
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیوں نافذ کی گئی؟
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
جب سیاسی مؤقف کا جواب دلیل سے نہ بن پڑے، جب اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی ہمت نہ ہو تو پھر کردار کشی اور جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتا ہے۔
آخر مولانا کیا کہہ رہے ہیں، ان کے سوالات کا جواب کیا ہے؟ اس پر بات کرنے کے بجائے یہ سستے ہتھکنڈے کیوں؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے ایک منظم مہم کے تحت کردار کشی اور اے آئی پروپیگنڈے کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
سوال خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے جواز کا ہے، صوبے کے معدنی وسائل پر اختیار اور ان کے مستقبل کا ہے، مگر جواب میں کبھی نوٹس کہ گھر کےسامنے جنریٹر کیوں رکھا، کبھی کرپشن کے الزامات اور اب اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز ۔۔
بحث کا رخ اصل سوالات سے موڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو غیر ضروری تنازعات میں الجھاؤ تاکہ اصل سیاسی سوالات پس منظر میں چلے جائیں۔
سوالات کا جواب دو!
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ابابیل retweeted
ہم اپنے حق کی آواز روک دیں، یہ نہیں ہوگا۔ہمیں مطمئن کرو، قوم کی تشویش کو دور کرو۔
اس وقت کوئی سیاسی جماعت نہیں بول رہی ہے، کوئی قوم پرست نہیں بول رہا، سب کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اس ماحول میں ایک ہی آواز ہے۔وہ جمع
اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اکیلے ہیں۔ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم نے کال دیدی، تو پھر قوم آئے گی، کسی کی محتاج نہیں ہوگی۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب – at Islamabad, Pakistan
ابابیل retweeted
زندہ باد مولانا صاحب
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
ہر فرغون کےلئے اللہ تعالی نے ایک موسی پیدا کیا اور ان فرعونوں کےلئے مولانا فضل الرحمان کو پیدا کیا ہے۔ اکرم خان درانی
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
مختصر !!
اپنے محبوب قائد مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے رہیں گے،
مولانا جہاں پسینہ بہائیں گے، ہم وہاں اپنا خون اور جان نچھاور کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے.
ان شاءاللہ
#لیاری_کتاب_کےسنگ #جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا #لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
وہ ایک سمندر کھنگالنے میں لگے ہوئے ہیں
ہماری کمیاں نکالنے میں لگے ہوئے ہیں
وہ جن کی اپنی لنگوٹیاں تک پھٹی ہوئی ہیں
ہماری پگڑی اچھالنے میں لگے ہوئے ہیں
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
دو روز پہلے یہاں اسلام آباد میں طلبہ کا اجتماع ہوا تھا اور آج یہاں اساتذہ کا اجتماع ہو رہا ہے۔ دونوں اجتماعات جہاں منعقد ہونے تھے، وہاں طاقتور قوت نے نہ طلبہ کو جمع ہونے دیا اور نہ اساتذہ کو۔
یہ ہے ان کی نظر میں تعلیم کی قدر و قیمت، یہ ہے ان کی نظر میں طالب علم کا مقام اور یہ ہے ان کی نظر میں استاد کا مقام۔ آپ کو شاید سزا اس بات کی مل رہی ہے کہ آپ کا نظریہ، آپ کا فکر اور آپ کی سوچ کا زاویہ جمعیت علمائے اسلام سے ملتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ کے اجتماعات سے فضل الرحمٰن خطاب کرنے والے ہیں۔
ہم نے اپنے بزرگوں سے یہی سیکھا ہے کہ کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، جو کچھ انہوں نے کیا، اس میں حماقت ہے
سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف، ملکی نظام کے خلاف۔ تو یہ چیزیں انہیں کوئی فائدہ نہیں دے رہیں۔
کون پالیسی بناتا ہے؟ کون فیصلے کرتا ہے؟ یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب،7 نومبر
ابابیل retweeted
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے
آج بھی آپ پاکستان کے وفادار بنیں، سو دفعہ وفادار بن جائیں، لیکن آج کی اسٹیبلشمنٹ کی پیروی اگر آپ نے نہ کی اور ان کی خواہشات کے مطابق آپ نے زندگی نہ گزاری تو آپ غدار قرار دیے جاتے ہیں۔
دشمنی بھی کی جاتی ہے، اختلاف بھی کیا جاتا ہے، لیکن بڑے لوگ اس میں بھی وقار رکھتے ہیں۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے اقدامات!
آج آپ میڈیا دیکھیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور یہ کیا کہہ رہے ہیں !
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ابابیل retweeted
پاکستان ہمارا ہے اور اس پاکستان کا ہم دفاع کریں گے، اس کے نظام کا دفاع کریں گے، اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے اور تمہارے یہ سارے حربے خس و خاشاک ہو جائیں گے۔
آپ نہیں جانتے، ہم تحریکی لوگ ہیں، ہم مسلسل آگے بڑھتے ہیں۔ تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے۔
کبھی آپ گوادر پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ بلوچستان کے سمندر اور کوسٹل ایریا پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ کبھی آپ صوبہ سندھ کے جزیروں پر نظر ڈالے ہوئے ہیں؟ یہ عوام کے حقوق ہیں۔
یہ سارا کچھ جو ہو رہا ہے دو باتوں کےلئے ہو رہا ہے۔
ایک، صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنا، ان کے معدنی ذخائر، ان کے سمندری ساحل اور ان کے جزائر۔
اور دوسرا، این ایف سی ایوارڈ، جو اس وقت صوبوں کے محصولات کے بڑے حصے کا ذریعہ ہے، ان کو کم کرنے کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔
یہ تو ایسی ترامیم ہیں جو متفقہ ہیں؟ یا پاکستان کا آئین متفقہ ہے؟ یا ختمِ نبوت کی ترمیم متفقہ ہے؟ یا اٹھارویں ترمیم متفقہ ہے؟ آپ قوم کے اتفاق کو تباہ کر رہے ہیں۔
بجائے اس کے کہ ہمیں مطمئن کیا جائے، ہم پر طنز کیے جا رہے ہیں، ہم پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اور ان کا خیال یہ ہے کہ ہم اس دباؤ میں آ کر اپنا بیانیہ تبدیل کر دیں گے۔
ہم بھی آپ کے منہ پر یہ مارتے رہیں گے، آپ کی مرضی ہے، آپ جو کچھ کر دیں۔ تمہارے یہ ادارے تمہارے کنٹرول میں ہیں، ان سے ہمیں انصاف کی کوئی توقع نہیں۔
وضاحت کے ساتھ انہیں پیغام بھیجنا چاہتا ہوں کہ احتساب کے آپ کے ادارے انتقامی ادارے ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں۔
اس حوالے سے ہم نے اپنی بات کرنی ہے، دلائل کے ساتھ کرنی ہے۔ ہم کسی سے جھگڑا نہیں کر رہے،
تم قوم کے سرمائے کو سمیٹنے کی کوشش کرو، ہم اس وطن کو بچانے کی جنگ لڑیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ابابیل retweeted
زبان دراز سب خاموش ہیں سب کو سانپ سونگھ گیا مولانا صاحب ہی قوم کی حقیقی آواز بنے ہوئے ہیں ۔
#لیاری_کتاب_کےسنگ
#جمعیت_اساتذہ_کانفرنس
#قوم_کی_آوازمولانا
#لٹیرا_پہرے_دار
#الزام_نہیں_ثبوت_لاؤ
ابابیل retweeted
اسلام آباد: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا قومی تعلیمی کانفرنس سے خطاب
حکومت نے طلبہ اور اساتذہ، دونوں کو اپنے اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا، مولانا فضل الرحمٰن
یہ ہے حکمرانوں کی نظر میں تعلیم، طالب علم اور استاد کی قدر و منزلت، مولانا فضل الرحمان
کون پالیسیاں بنا رہے ہیں کون فیصلے کر رہا ہے
یہ جو نامعلوم ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہے، مولانا فضل الرحمٰن
حکومت اپنے اقدامات سے خود اپنے خلاف نفرت پیدا کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
یہ نفرت کس کے خلاف پیدا ہوگی؟ حکومت کے خلاف یا ملکی نظام کے خلاف؟ ان اقدامات سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا
الحمدللہ! 34 سال سے سیاست کر رہا ہوں، آج تک کسی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوا، مولانا فضل الرحمٰن
34 سالہ سیاسی زندگی میں کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں، ختمِ نبوت کے معاملے میں ایک مرتبہ عدالت گیا، مولانا فضل الرحمٰن
ملک میں ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جیسے ہم بڑے بدعنوان لوگ ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
میری کردار کشی کے لیے نوٹس اچھالے جا رہے ہیں، میڈیا میرا اصل مؤقف بھی قوم کے سامنے لائے
احتساب کے ادارے احتساب نہیں، انتقامی کارروائیاں کر رہے ہیں، مولانا فضل الرحمٰن
حکمرانوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ دس بیس سال میں لاکھوں ایکڑ اراضی کے مالک کیسے بن گئے؟
سیاست میں آئے اور آج پورے ملک کے بڑے سرمایہ کار بن گئے، ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں؟
مقدمات بھی چلے، سزائیں بھی ہوئیں، قید و بند بھی ہوئی، لیکن وفاداری کا اعلان کرتے ہی سب کچھ دھل جاتا ہے
میرے خاندان، جماعت کے اہم ذمہ داروں اور کاروباری ساتھیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے
ہم دباؤ کے عادی ہیں، اپنے حق کی آواز کسی صورت نہیں روکیں گے
کمزور لوگ اشتعال دلاتے ہیں، بہادر لوگ اشتعال میں نہیں آتے، مولانا فضل الرحمٰن
تعلیم اور تربیت دونوں ضروری ہیں، تعلیم کے بغیر اندھیرا اور تربیت کے بغیر انسانیت نامکمل ہے
دینی مدارس کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
دینی مدارس صرف مولوی نہیں، دین کی تعلیم اور انسانی زندگی کی رہنمائی کرنے والے علماء پیدا کرتے ہیں
علمائے دین انبیاء کے وارث ہیں، ان کا مقصد روپیہ پیسہ کمانا نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی ہے
شریعت کا اولین تقاضا غلامی سے نجات اور جبر کے سامنے سر نہ جھکانا ہے
حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے قانون سازی کی، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات آج تک نظرانداز کی جا رہی ہیں
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، اس کا اپنا سیاسی، معاشی اور سماجی نظام بھی ہے
قرآن کا تصور آزادی، معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کی فلاح و بہبود ہے
آج وفاداری کا معیار وطن سے محبت نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی پیروی بنا دیا گیا ہے
انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والوں کو غدار کہا گیا، آج بھی اختلاف کرنے والوں کو غدار قرار دیا جاتا ہے
ہمارا دعویٰ کچھ ہے اور میڈیا پر بحث کسی اور چیز پر ہو رہی ہے، مولانا فضل الرحمٰن
میڈیا نوٹس اچھالنے کے بجائے ہمارا اصل مؤقف اور ملک کا مسئلہ قوم کے سامنے لائے
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی؟ مولانا فضل الرحمٰن
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے باوجود دہشت گردی بڑھ رہی ہے، آخر ان اقدامات کے پیچھے مقاصد کیا ہیں؟
کیا قبائلی علاقوں میں آپریشنز کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے یا معدنی ذخائر پر قبضہ؟
ہمارے پہاڑوں کے معدنی ذخائر، ساحل اور جزائر کس کے حوالے کرنے کی تیاری ہو رہی ہے؟
صوبوں کے وسائل پر قبضہ اور این ایف سی ایوارڈ میں کمی کی کوششیں ہو رہی ہیں
فاٹا انضمام کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، دس سال بعد خود اس فیصلے کو غلط قرار دیا جا رہا ہے
احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، یہ احتساب کے ادارے نہیں ہیں
جمعیت علمائے اسلام تمہاری بنائی ہوئی جماعت نہیں، ہم انگریز کے خلاف آزادی کی تحریک کا تسلسل ہیں
ہمیں اشتعال دلانے کے حربے پہلے بھی ناکام ہوئے، آئندہ بھی ناکام ہوں گے
پاکستان ہمارا ہے، ہم اس کے دفاع، اس کے نظام اور اس کی امانتوں کا دفاع کریں گے
تحریک تشدد کا نام نہیں، تحریک تسلسل کا نام ہے، مولانا فضل الرحمٰن
ہمیں دباؤ میں لا کر اپنا بیانیہ تبدیل نہیں کرایا جا سکتا، ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں
صوبوں کے وسائل، معدنی ذخائر، سمندری ساحل اور جزائر عوام کی ملکیت ہیں
قوم کو اعتماد میں لیے بغیر صوبوں کے حقوق اور وسائل پر فیصلے قبول نہیں کریں گے
ہمیں مطمئن کرو، ہماری تشویش دور کرو، قوم کے تحفظات کا جواب دو، مولانا فضل الرحمٰن
ابابیل retweeted
ہمارا دعویٰ کیا ہے اور تم میڈیا پر بحث کیا کر رہے ہو؟
فلاں نوٹس مل گیا، فلاں نوٹس مل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بات یہ ہے سیاسی طور کہ تم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کیوں نافذ کیا؟ تم نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں لگائی؟
دعویٰ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ دہشت گردی تو جب بھی آپ نے دہشت گردی کے خلاف قدم اٹھایا ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کے آپریشنز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں ہیں، اس کے پردے میں چھپ کر کوئی اور مقاصد ہیں۔
ہمارا ایک سوال ہے۔ ہم پبلک ہیں، ہم پبلک کی نمائندگی کر رہے ہیں، ہم قبائل کی نمائندگی کر رہے ہیں، صوبوں کے عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
یہ واضح کرنا ہوگا کہ تمہارے اقدامات دہشت گردی کے خلاف ہیں یا تمہارے اقدامات کا مقصد ہمارے پہاڑوں میں موجود معدنی ذخائر کو لوٹنا ہے؟
میرا احتساب لیتے ہو؟ جنریٹر باہر پڑا ہوا ہے، کیبن غلط لگا ہوا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے مرکز کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ تم نے تجاوز کیا ہے؟ یہ باتیں نہ کرو! تم بتاؤ، تمہارے پیٹ میں جو پہاڑ پڑے ہوئے ہیں، اس کا کیا کرو گے؟
شرم و حیا والوں کو آدمی ایک دفعہ کہتا ہے، وہ فوراً سمجھ جاتا ہے۔ بار بار کہتی ہیں کہ کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اور ہمارا مدرسہ، اس کا نظام یہ ہوتا ہے، آپ جانتے ہیں کہ مدرسے کا انتظام ایک مہتمم کے ذریعے ہوتا ہے۔ وہی اس کے لیے زمین بھی پیدا کرتا ہے، چندہ بھی کرتا ہے، تعمیر بھی کھڑی کرتا ہے، سارا نظام اس کا اپنا ہوتا ہے۔ پھر وہ جا کر وفاق المدارس کے نظم میں شامل ہوتا ہے۔
یہاں پر کہا گیا کہ فضل الرحمٰن کے بیس ہزار مدارس ہیں۔ تو مولوی صاحبان! آپ فارغ ہیں؟ یعنی الزام لگانا، پروپیگنڈا کرنا۔۔۔کوئی سلیقہ بھی تو آنا چاہیے۔
یہ جو بے موقع آپ کو غصہ آتا ہے اور گزرنے کے بعد غصے میں آپ گھونسہ اٹھاتے ہیں، تو یہ گھونسہ پھر اپنے منہ پر گھونسہ دینا چاہیے، اپنے منہ پر مارو، ہماری طرف متوجہ نہیں ہو سکتا۔
جمعیت علمائے اسلام آپ کی بنائی ہوئی نہیں ہے۔ جمعیت علمائے اسلام نے انگریز اسٹیبلشمنٹ کے خلاف آزادی کی تحریک اٹھا کر بنی ہے اور آج بھی ہم اسی کا تسلسل ہیں۔
تم ہمیں اشتعال دلا رہے ہو، لیکن اشتعال میں نہیں آتے۔ یہ حربے ہمیشہ چلتے رہتے ہیں، ہم ان کے عادی ہو چکے ہیں۔
جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ ایوانِ صدر میں بیٹھتا ہے۔ جو آپ کو گالیاں دیتا ہے، وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بن جاتے ہیں، وزیر دفاع بن جاتے ہیں۔
اور جو کہتا ہے کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے، آج وہ معتوب ہیں اور وہ ملک میں جلسہ نہیں کر سکتے، اجتماع نہیں کر سکتے۔لیکن اللہ کی زمین وسیع ہے۔ ایک جگہ سے روکے بھی تو دوسری جگہ بیٹھ جائیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ابابیل retweeted
ہم اس ملک میں جھک کر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم اس ملک میں باعزت شہری کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں۔
کامران مرتضیٰ صاحب کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ افغانی ہیں، وہ تو کشمیری ہے اور یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کشمیر سے آئے ہیں اور وہاں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے ہیں۔
اس سے بھی عجیب بات یہ کہ حافظ حمدللہ صاحب کا بیٹا فوج میں بھرتی ہوا، اس کے بیٹے کا فوج میں کمیشن ہو گیا، بیٹا فوج میں کمیشن لے رہا ہے اور باپ کو کہا جاتا ہے کہ تم افغانی ہو، تم پاکستانی نہیں ہو، اس کو کہتے ہیں اندھیر نگری۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
ابابیل retweeted
اللہ تعالیٰ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ وہ جب انتقام لینے پر آتا ہے تو طاقتور سے طاقتور کی بھی شامت آ جاتی ہے۔ ٹرمپ ہار گیا۔ٹرمپ خالصتاً کاروباری آدمی ہے۔ وہ سرمایہ داریت کی اپنی ذات میں علامت تھا۔ جہاں وہ دنیا کے معدنی ذخائر دیکھتا تھا، وہاں پر وہ پہنچتا تھا، چاہے جنگ کے ذریعے سے ہو۔
وینزویلا کے علاقے میں یہ ذخائر موجود ہیں۔ تو ان پر قبضہ کرنے کے لیے، جب وہاں کی حکومت اجازت نہیں دے رہی تھی، تو پوری امریکی قوت کو ساتھ لے جا کر وہاں کے پریزیڈنٹ اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرکے امریکہ لے آیا۔
اب جب ان کا احتساب شروع ہوگا، آپ تو ہمارا احتساب کرنے لگے ہیں نا، کچن کا اور جنریٹر کا احتساب کرنے لگے ہیں، اور وہاں واشنگٹن سے جب احتساب شروع ہوگا تو یہ احتساب یہاں اسلام آباد کی وزیراعظم ہاؤس تک بھی پہنچے گا اور یہاں کی پنڈی تک بھی پہنچے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا خطاب
ابابیل retweeted
یہ جو جعلی میڈیا ۔میرے اور اپ کے ٹیکسوں کے پیسوں سے پلنے والا سرکاری میڈیا۔ یہ جو چند کوٹھیوں میں پلنے والا میڈیا ۔ہمیں ان ٹھکانوں کا بھی پتہ ہے ۔ہمیں ان لوگوں کا بھی پتہ ہے۔ ہمیں ان کرایوں پر چلنے والے صحافیوں کا بھی پتہ ہے۔ہمیں ڈیجیٹل میڈیا پر چلنے والے جعلی اکاؤنٹوں کا بھی پتہ ہے۔ہمیں اس حد تک مجبور نہ کرو کہ ہم ان کے احتساب کے لیے اپنے کارکنوں کو میدان میں لے کے ائیں۔
جناب محمد اسلم غوری صاحب
مرکزی ترجمان جے یو ائی پاکستان
#مولانا_مرد_قلندر
#اسمگلر_چوکیدار
#نہ_چھیڑملنگاں_نوں
#ٹرمپ_کے_یار_ٹھس
#قوم_بیدار_رہےگی
ابابیل retweeted
اس قسم کے حربے اختیار نہ کرو
اللہ کا انتقام بڑا سخت سے اس سے ڈرو
یہ جمعیت طلبہ اسلام، علماء اسلام، کارکن اور انصار الاسلام اس لئے نہیں ہیں کہ وہ پاکستان کی فوج سے لڑیں گے
اختلاف کرینگے
آئینی حق کو استعمال کرینگے
عوام کے حق کی بات کرینگے
یہ بات اتنی بری لگ گئی کہ لچر قسم کا گھٹیا قسم کے اقدامات کررہے ہو
کوئی وقار شائستگی ہے؟ یہ کام خاندانی لوگوں کا نہیں ہوا کرتا
مولانا فضل الرحمن
ابابیل retweeted
مولانا فضل الرحمان کی جو کردار کشی ہو رہی ہے یہ احسان فراموشی ہے، ہم نے آپکو پہچاننے میں غلطی کی لیکن اب پہچان لئے، ہم نے آپکو لندن سے منگوا کر اقتدار کی کرسی پر بٹایا، دبئی سے بلوا کر صدر بنوایا جو ہماری غلطی تھی، جب کراچی کی ہوٹل میں مریم نواز کی سر سے چادر اُتر رہی تھی تو مولانا فضل الرحمان نے جا کر اُنکے سر پر چادر رکھی تھی اگر اُس وقت وہ چادر نہ رکھتے تو آج شائد مولانا فضل الرحمان کے گھر کی بےحرمتی نا ہوتی۔ اسلم غوری
@AdilNizami10 @AslamGhauriJUI #PMLN #PPP #JUIF
ابابیل retweeted
کل تک وزیرِاعظم تھے، آج بے بس نظر آتے ہیں
اقتدار کا غرور ہمیشہ قائم نہیں رہتا
اللہ تعالٰی جب انتقام جب انتقام پر لینے آئیں تو طاقتور بھی بے بس ہو جاتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں خطاب
#مولانا_مرد_قلندر
#اسمگلر_چوکیدار
#نہ_چھیڑملنگاں_نوں
#ٹرمپ_کے_یار_ٹھس
#قوم_بیدار_رہےگی













