I am deeply indebted to all honourable officers of the Provincial Management Service across Punjab who reposed their trust and confidence in me and my panel, and unanimously elected me as President of the PMS Officers Association Punjab 1/2
Honourable Chief Minister !
Is There a Different Standard of Justice for Women Officers in Punjab ? 📷
@MaryamNSharif
@CS_Punjab
@GovtofPunjabPK
@AabparaX
انتظامی وارداتیں سیریز کی ایک اور واردات عوام اور عوامی نُمائیندوں کی آگاہی کیلئے۔
#CivilServiceReforms #AdministrativeReforms #EqualOpportunity #MeritAndEquality #PunjabGovernment #PunjabAssembly #RuleOfLaw #Transparency
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
@AabparaX
@KlasraRauf
@_Mansoor_Ali
@MalickViews
@najamsethi
@HamidMirPAK
انتظامی وارداتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو پنجاب کی عوام سے مسلسل روا رکھا جا رہا ہے۔ ایسی ہی کُچھ وارداتیں عوام اور عوامی نمائندوں کی آگاہی کیلئے۔
#CivilServiceReforms #AdministrativeReforms #EqualOpportunity #MeritAndEquality #PunjabGovernment #PunjabAssembly #RuleOfLaw #Transparency
@GovtofPunjabPK
@MaryamNSharif
@AabparaX
میرٹ پہ پوسٹنگز نہیں تو پھر کیسی سول سروس۔۔ پھر سپیشلسٹ کیڈر بننے چاہیں اور محکمے ٹیکنیکل لوگوں کے حوالے کیے جائیں۔
@MaryamNSharif
PMS Officers Association of Punjab. retweeted
The mindset is the same. Only the method has changed.
Then: They used people’s physical labour.
Now: They use people’s tax money to fund colonial-style privilege.
Colonialism ended. Has the colonial mindset?
ئینِ پاکستان ریاست کا ایک مقدس ڈاکومنٹ۔
پھر آئین کے آرٹیکل 240B کی مسلسل بے توقیری کیوں ؟
آئینِ پاکستان پہ عمل کریں اور صوبائی افسران کو اُن کا حق دیں۔
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
Malafide Proved ??
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ؟
————————-
* ایک طرف کفایت شعاری اور سمارٹ گورننس کے دعوے دوسری طرف کروڑوں کے اخراجات؟
* عوام اور افسران کے درمیان ایک اور دیوار ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر؟
* ایک ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر کے اخراجات کا تخمینہ ساڑھے چارکروڑ سے زائد؟
عوامی خزانے پر نئے تجربے کب تک ؟
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
اعلامیہ ہنگامی اجلاس پی ایم ایس ایسوسی ایشن پنجاب
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
Justice and FairPlay for PMS.👇👇
@MaryamNSharif
پنجاب میں 326 ڈی ایم جی افسران کے مقابلے میں 1200+ PMS افسران خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر اہم انتظامی عہدوں، پروموشنز، رہائش اور دیگر سہولیات میں مسلسل عدم توازن برقرار ہے۔ اگر گڈ گورننس مقصود ہے تو میرٹ، شفافیت اور مساوی نمائندگی ناگزیر ہے۔
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) نے اسی سلسلے میں اپنا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے
پی ایم ایس افسران نے مریم نواز کی ہر تحصیل میں اضافی ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر لگانے کی پالیسی بھی مسترد کردی ہے
#PMS #GoodGovernance
گورننس ہے یا بچوں کا کھیل؟
———————————-
جب چاہا سیٹ اپ گریڈ کر لی
جب چاہا ڈاؤن گریڈ کر لی
جب چاہا سیکشن 9 کی غلط تشریح کر کے اپنے بچوں کو سینئر پوزیشنز کے کھلونے کھیلنے کیلئے دے دیے۔
جی میں آیا تو گریڈ 22 کے افسر کو گریڈ 21 کی سیٹ دے دی۔
من میں آیا تو کمشنر کو ڈپٹی کمشنر بنا دیا۔
پھر شکوہ کناں ہیں کہ آپ لوگ تلخ بولتے ہیں۔
بُرا نہ مان میری تُند و تیز باتوں کا
تُو میری فِکر میں جلتے ہوئے الاؤ تو دیکھ
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
@CS_Punjab
No Additional ACs in Tehsils.
Any such move is rejected.
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
گورنمنٹ کے وژن کے مطابق، میرٹ نظر آنا چاہئے۔
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
From Rights to Reality ,
Stand with PMS Officers
کوٹہ نہیں قابلیت۔
انتظامی آزادی، آئینی حق
@MaryamNSharif @GovtofPunjabPK
پی ایم ایس آفیسرز چاہتے کیا ہیں؟
————————————-
عوام الناس ، حکومت پنجاب اور صوبائی قانون ساز ادارے(Legislature) کی توجہ کیلئے۔
سوال اُٹھتا ہے! پی ایم ایس آفیسرز چاہتے کیا ہیں۔
تین فقروں میں جواب۔
* گڈ گورننس کا حصول
* عوام الناس کی بہتر اور حقیقی خدمت
* انصاف کی فراہمی سب کیلئے
یہ سب کیسے ممکن ہے ؟؟
1. نئے صوبوں کا قیام تاکہ انتظامی استعداد، عوامی نمائندگی اور خدمات کی فراہمی میں بہتری لائی جا سکے۔
2. مضبوط، بااختیار اور فعال بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل ہوں اور عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔
3. سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری اور ذاتی استعمال کا خاتمہ کیا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔
4. سرکاری رہائش گاہوں اور عمارتوں کی تزئین و آرائش پر غیر معمولی اخراجات کو محدود کیا جائے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا جائے۔
5. تمام عوامی اخراجات کو عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ مالی شفافیت، مؤثر آڈٹ اور عوامی احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔
6. چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ کسی منتخب رکنِ پنجاب اسمبلی کو دیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ بندی جمہوری نگرانی کے تحت ہو۔
7. سیکرٹری کابینہ کا آزاد اور خودمختار عہدہ قائم کیا جائے تاکہ کابینہ کے انتظامی امور مزید مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔
8. ترقی (پروموشن) بورڈز کا انعقاد پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کیا جائے تاکہ ترقیوں کا نظام زیادہ شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی ہو۔
9. سرکاری اتھارٹیز کے سربراہ منتخب عوامی نمائندے ہوں تاکہ عوامی اداروں پر جمہوری نگرانی اور جوابدہی مضبوط ہو۔
10. تبادلوں اور تعیناتیوں کے لیے مکمل میرٹ پر مبنی پالیسی نافذ کی جائے، پی ایم ایس افسران کی منصفانہ نمائندگی یقینی بنائی جائے، اور کسی ایک افسر کے ذریعے صوابدیدی پوسٹنگ کے موجودہ نظام کا خاتمہ کیا جائے۔
11. سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ مکمل طور پر آن لائن اور میرٹ پر کی جائے تاکہ شفافیت کو فروغ ملے۔
12. سرکاری ریسٹ ہاؤسز کی آن لائن بکنگ کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ مساوی رسائی اور شفافیت یقینی ہو۔
13. حکومتی امور کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی جائے تاکہ غیر ضروری انسانی صوابدید کم ہو، بدعنوانی کے امکانات گھٹیں اور خدمات کی فراہمی بہتر ہو۔
14. ضلعی اور ڈویژنل سطح کی اہم کمیٹیوں کی سربراہی منتخب عوامی نمائندوں کے سپرد کی جائے تاکہ جمہوری نگرانی اور عوامی مفاد کو ترجیح حاصل ہو۔
(پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن پنجاب)
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
اعلامیہ اجلاس پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA)
لاہور، 17 جولائی 2026
پنجاب پروونشل مینجمنٹ سروس ایسوسی ایشن (PMSA) کی ایڈوائزری کونسل کا ایک اہم اجلاس آج فلیٹیز ہوٹل لاہور میں منعقد ہوا، جس میں گریڈ 17 سے گریڈ 21 تک کے 100 سے زائد پی ایم ایس افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف میڈیا اداروں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
اجلاس سے جن سینئر افسران نے خطاب کیا ان میں جناب طارق محمود اعوان، جناب رائے منظور ناصر، جناب ظفر حسین نقوی اور صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی شامل تھے۔
صدر PMSA جناب قمر زمان قیصرانی نے پنجاب میں گورننس سے متعلق مسائل اور پی ایم ایس افسران کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر مفصل پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جہاں PAS افسران کی تعداد تقریباً 326 ہے، وہاں PMS افسران کی تعداد 1200 سے زائد ہے، جو پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے انتہائی شفاف، میرٹ پر مبنی مسابقتی امتحان کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں اپنے کیریئر میں مسلسل ناانصافی اور امتیازی رویے کا سامنا ہے جس سے ان میں شدید احساسِ محرومی اور بددلی پیدا ہو رہی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ:
• پروموشن بورڈز بروقت منعقد نہ ہونے اور محدود آسامیوں کی وجہ سے PMS افسران کی ترقی غیر معمولی تاخیر کا شکار ہے۔
• اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں میں PAS افسران کو غیر متناسب ترجیح دی جاتی ہے جبکہ PMS افسران کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر GOR-I لاہور میں حالیہ الاٹمنٹس میں تقریباً تمام مکانات PAS افسران کو دیے گئے جبکہ کسی بھی PMS افسر کو الاٹمنٹ نہیں ملی۔
• سرکاری قرضہ سکیموں میں بھی واضح عدم توازن موجود ہے جہاں تقریباً 80 فیصد کیسز PAS اور صرف 20 فیصد PMS افسران کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔
• اجلاس میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب کا طرزِ عمل PMS افسران کے حوالے سے جانبدارانہ محسوس ہوتا ہے، جس سے سروس کے مورال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی اصلاحات کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی گئیں:
کیڈر کی نشستوں کی باقاعدہ کیڈرائزیشن کی جائے تاکہ پروموشن کا منصفانہ اور پائیدار ڈھانچہ قائم ہو۔
• پروموشن بورڈز مقررہ اوقات میں باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں۔
• اہم عہدوں پر تعیناتیاں اور تبادلے مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر کیے جائیں اور PMS افسران کو ان کے جائز تناسب کے مطابق نمائندگی دی جائے۔
• مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط، بااختیار اور فعال بنایا جائے۔
• بہتر عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔
• وفاقی حکومت کی طرز پر صوبہ پنجاب میں سیکرٹری کابینہ کا علیحدہ عہدہ تخلیق کیا جائے تاکہ چیف سیکرٹری کے اختیارات میں مناسب توازن پیدا ہو۔
• چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا عہدہ وفاقی پلاننگ کمیشن کی طرز پر ایک منتخب عوامی نمائندے کے سپرد کیا جائے۔
• افسران کے پروموشن بورڈز سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے بجائے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منعقد کیے جائیں تاکہ مکمل غیرجانبداری اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
• سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل اور آن لائن کیا جائے تاکہ صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ ہو۔
• سیکرٹریز اور دیگر افسران کی جانب سے سرکاری گاڑیوں کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جائے اور غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کو مونیٹائز کیا جائے۔
• عوامی وسائل کے استعمال اور سرکاری اخراجات کی مکمل تفصیلات ایک عوامی آن لائن پورٹل پر دستیاب کی جائیں تاکہ شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے۔
• سرکاری ریسٹ ہاؤسز اور سرکٹ ہاؤسز کی بکنگ کا نظام بھی مکمل طور پر آن لائن کیا جائے تاکہ ہر اہل افسر کو مساوی اور شفاف سہولت میسر آ سکے۔
* شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ایم ایس افسران کو اعتماد میں لئے بغیر پی ایم افسران کو متاثر کرنے والے کسی بھی نئے انتظامی تجربے کو کسی طور قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے مشترکہ مطالبہ کیا کہ پنجاب میں حکومت کے گُڈ گورننس اور بہترین پبلک سروس ڈیلیوری کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبائی افسران کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور امتیاز کا خاتمہ کیا جائے کیونکہ انصاف اور میرٹ پر مبنی انتظامی تعیناتیاں ہی مؤثر گورننس، عوامی خدمت اور ادارہ جاتی استحکام کی ضمانت ہیں۔
آخر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پی ایم ایس افسران کے تحفظات دور نہ کرنے کی صورت میں آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے آئیندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ @MaryamNSharif @GovtofPunjabPK
ملین ڈالرز سوال۔
پی ایم ایس آفیسرز کو اچھی پوسٹنگ کیوں نہیں دی جاتی ؟
جواب اس ویڈیو میں۔۔
پی ایم ایس افسر اپنے آپ کو عوام کا صحیح خدمت گُزار سمجھتا ہے اور پھر اُن کی جگہ نہیں بنتی جو سلائیڈز اور Presentations کی بنیاد پہ ہمیشہ عوام پہ حُکمرانی کرتے ہیں۔ یہ راؤ تسلیم اختر ہیں ننکانہ صاحب کے سابقہ ڈپٹی کمشنر جو پی ایم ایس کے سٹار افسر اور پی ایم ایس کے نصب العین اور عوامی خدمت کا استعارہ ہیں۔ کام اور عوام خود بتاتے ہیں۔
@MaryamNSharif


























