آج دوپہر ۲ بجے میرے بڑے بھائی احسان کو جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اسے کوہاٹ میں اپنے آفس پولیس اور نقاب پوش لوگوں نے اغواءکر لیا ، لیکن یاد رکھیں اگر اآپ میرے بھائی کو اغوا کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ میں خان کے نظریے سے پیچھے ہٹ جاوں گا تو یاد رکھیں زندگی موت الله کے ہاتھ میں ہے، میں نے اپنا بھائی الله کے سپرد کردیا ہے وہ جانے اور آپ، میں خان کے نظریے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا چائے کچھ بھی ہوجائے۔
سوال یہ ہے کہ بڑے بھائی احسان کو کس الزام کے تحت حراست میں لیا گیا؟ اگر انہیں گرفتار کیا گیا ہے تو ان کی گرفتاری کی وجوہات اور مقامِ حراست کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا جارہا۔
عمران خان کی ھمشیرہ نورین نیازی صاحبہ کی دورانِ حراست طبیعت خراب ہونے اور انہیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیے جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
افسوس کہ اطلاعات کے مطابق اہلِ خانہ کو بھی ان کی ہسپتال منتقلی سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ اس وقت ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے بھی نہیں دیا جارہا۔ ان کے اہل خانہ اس وقت ہسپتال میں موجود ھیں۔
نورین نیازی انگریز کے کالے قانون ۳ ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا ھے ۔
حکام فوری طور پر ان کی صحت سے متعلق تفصیلات خاندان کو فراہم کریں، بہترین طبی سہولیات یقینی بنائیں اور اہلِ خانہ کو ملاقات کی اجازت دیں۔
Shafi Jan retweeted
سہیل آفریدی ہمارا وزیراعلیٰ تھا، وزیراعلیٰ ہے اور وزیرِاعلیٰ رہے گا، اُسے تبدیل کرنے کا کوئی سوچے ہی نہ، یہ اختیار صرف اور صرف عمران خان کا ہے، اگر کسی کے ذہن میں کوئی خدشہ ہے تو میں بطور چیئرمین پی ٹی آئی اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دوں گا، بیرسٹر گوہر
جب مذاکرات میں وفاقی حکومت کی طرف سے دہشتگردی کے بارے میں پیرا 4 شامل کیا گیا ۔ تب وزیر اعلی سہیل آفریدی نے پیشکش کی دہشتگردی ایک ناسور ھے ۔ سب ملکر بیٹھتے ھیں وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت اور ریاستی ادارے اور ایک ہی دفعہ پالیسی بناتے ھیں دہشتگردی سے اور اس کے سہولت کاروں سے چھٹکارا حاصل کرتے ھیں لیکن نیت دہشتگردی ختم کرنی کی ھونی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ھوئی جو پالیسی ہم آپ کو بتا رہے اس من وعن عمل کیا جائے تو سو دن کے اندر اندر پختونخواہ امن آجائے گا ۔ اگر نہیں آیا تو اپنی پالیسی پر عمل پیرا ھوجائے ۔
لیکن دہشت گردی کو وجہ بناکر عمران خان کی منتخب حکومت کو نشانہ بنایا گیا ۔
ہم اکثر بات چیت کی بات کرتے تھے ۔ اور عمران خان بھی بات چیت کے حامی تھے اور ھیں ۔ اور ہم نے کافی چیزیں مذاکرات سے حاصل بھی کی ۔
اب نیچے جو موصوف ان کا لگایا ھوا ھے ۔ وہ اضلاع جہاں پر ایمر جینسی لگائی گئی وہاں جو کونسل بنایا گیا اس کے ڈپٹی چیرمین ھے ۔ وہ بھی اب مذاکرات اور بات چیت کی بات کر رہے ھیں ۔ اب وہ صحافی اور وفاقی وزراء جو اس مذاکرتی عمل کے خلاف تھے اور اس کو جواز بنا کر عمران خان کی حکومت کو نشانہ بنایا۔اس بارے میں کیا خیالات رکھتے ھیں ۔
بےشک اللہ الحق ھے ۔
nitter.cf/iftikharfirdous/status…
وزیر اعلی سہیل آفریدی کے ترقیاتی پیکجز بمقابلہ وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان
وفاقی حکومت کا اعلان: وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس رقم کا 70 فیصد ضم اضلاع اور 30 فیصد صوبے کے دیگر اضلاع کے لیے مختص کرنے کی بات کی گئی۔ دوسرے سائیڈ پروزیر اعلی سہیل آفریدی نے صرف پشاور شہر کے لیے 200 ارب کا تاریخی پیکج دیا، جس پر آج بھی درجنوں جگہوں پر کام ہو رہا ہے۔
- ضم اضلاع کا پیکج: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ضم اضلاع کی ترقی کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے مجوزہ ’’روشن قبائل‘‘ پیکج کا اعلان کیا، جس میں تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار اور بنیادی سہولیات کے منصوبے شامل ہیں۔ 
ہزارہ ڈویژن: سہیل آفریدی نے 200 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا، جس میں 50 ارب روپے سیاحت کے منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ 
مردان: سہیل آفریدی نے مردان کے لیے 50 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا۔ 
اہم فرق: وزیراعظم کا 160 ارب روپے کا اعلان وفاقی ترقیاتی تعاون سے متعلق ہے، جبکہ سہیل آفریدی کے اعلانات مختلف علاقائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے ہیں۔
پولیس ڈی ایس پی، سی ٹی ڈی کرک عمران الدین، ایس ایچ او افضل خان اور پولیس اہلکار کاظم کےشہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پولیس شہداء نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور پولیس اہلکاروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
Shafi Jan retweeted
The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa and the Speaker of the Provincial Assembly were abducted by the regime 12 days ago. Their whereabouts remain unknown. They have not been produced before any court, and their families have not even been informed of their condition.
#PakistanUnderFascism #AsimLaw
Shafi Jan retweeted
They tried to break him with prison, isolation, and cases but every storm only made his resolve harder.
He wasn't built to bend in the wind !
Imran Khan - Standing Tall
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے اغواء پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے! فوری طور پر ان کی موجودگی اور سلامتی واضح کی جائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجینسی عوامی مینڈیٹ اور جمہوری حق کی سنگین پامالی کی گئی ۔عوام کے ووٹ کو طاقت کے زور پر روندہ گیا ۔ خیبر پختونخوا کسی کی جاگیر نہیں؛ یہ عوام کا صوبہ ہے، اور اس کے مینڈیٹ پر طاقت کے ذریعے ڈاکا کسی صورت قبول نہیں۔ آج عوام کی جانب سے مسترد شدہ ٹولے کو طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا ھے ۔ جن کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں تحریک انصاف کو نشانہ بنا نا ھے ۔
مراد سعید کے گھر پر چھاپے یا کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی سیاسی رہنما یا اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ گھروں کی حرمت، شہریوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا احترام کیا جائے؛ سیاسی انتقام اب بند ھونا چاہیے۔
منتخب نمائندوں ، تحریک انصاف کے تنظیمی ساتھیوں ، آئی ڈی ایف کے ڈاکٹر صاحبان کی گمشدگی قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال ہے؛ ان کی موجودگی اور سلامتی سے متعلق فوری وضاحت دی جائے۔
خیبر پختون خواہ سے دہشت گردی مٹاتے ھوئے
ترقیاتی منصوبے ،عوام کے لیے تھےجو پاکستانی ہیں۔انہیں ہٹانے سے ترقی نہیں صرف نفرت ہی بڑھے گی۔
سارا صوبہ جانتا ہے کتنی محنت سے ایک ایک اینٹ اکھٹی کر کے یہ خوشحال صوبہ بنایا ہے
سیاسی جماعتیں کھبی ختم نہیں ھوتی ۔ لیکن ان تمام چیزوں سے گزر کر بھی ن لیگ اور پی پی پی نے کچھ نہیں سیکھا۔ کم ازکم ۸ فروری سے ہی سیکھ لیتے۔
خان کے بغض میں یہ عوام پر ظلم نہ کریں،مریم نواز کی لگائ تصویروں سے دل نہیں بھرا کہ اب کنڈی زرداری کی باری۔۔کچھ شرم حیا کر لیں یہ مال مفتوحہ نہیں ہے آپ کا بھی تو ملک ہے۔
Shafi Jan retweeted
محترمہ آپکو ترقیاتی کاموں کا کیا علم- عوامی مینڈیٹ پہ شب خون مارنے والے غیر جمہوری چار دن کے جھوٹے اقتدار والوں کو ایسی باتیں زیب نہی دیتی- میرے حلقے میں تمام 28 نیبرہوڈ کونسلز میں ترقیاتی کام جاری تھے۔ جسے بند کر دیا گیا ہے۔ نا صرف میرے حلقے بلکہ پشاور اور پھر پورے خیبرپختونخواہ میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ میں نے کہا تھا جو کہ ریکارڈ پر ہے کہ 2026-27 میں پشاور کو عالمی شہروں کے برابر کھڑا کرینگے انشاءاللہ۔آپ غیر جمہوری عمل کا حصہ بن کر وہی ترقیاتی کام جن کی تختیاں آپ لوگ پچھلے پانچ دن سے اکھاڑ رہیں ہیں ۔۔تختیاں بدلنے سے عوام کے دلوں سے آپ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے ترقیاتی منصوبوں کو نہی نکال سکتے
محسن صاحب،
دہشتگردی قومی مسئلہ ہے اسکو سیاسی اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ دہشتگردی وہ کسی بھی صورت میں ہو اسکی مذمت کی ہے ۔ ماضی گواہ ہے تحریک انصاف کے رہنما براہ راست دہشتگردی کا نشانہ بنے ہم تو خود متاثرہ ہیں ۔ ہمارے جسم ابھی بھی زخمی ہیں ۔ میں نے تو اس ویڈیو میں بھی مذمت کی ہے کہ ریاست کیخلاف بندوق اٹھانے والے ہر بندہ دہشتگرد ہیں۔
آپ کے اپنے لوگ جو ہمیں بتاتے رہے ہیں ، پرویز مشرف ، نواز شریف کے بیانات جو اجمعل قصاب کے کیس میں چلے ، مریم بی بی کے نعرے بھی آپ کو یاد ھونگے جو جلسوں میں لگائے جاتے تھے یا یاد دہانی کے لیے کلپس شیر کردوں ۔
پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ھے ۔ دہشت گردی کل بھی غلط تھی آج بھی غلط ہے اور آہندہ بھی غلط ہوگی ہم دہشتگردوں کی ان کے سہولتکاروں کی کل بھی مزمت کرتے تھے آج بھی۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
زبان ء خلق کو نقارہ ء خدا سمجھو
عمران خان کی عوام کا گورنر راج والوں کے لیے کھلا پیغام" عمران خان زندہ آباد".
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر انتہائی افسوس
تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت اور محفوظ ماحول کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ معصوم بچوں کا زخمی ہونا نہایت افسوسناک ہے، اور اس مشکل گھڑی میں ہم متاثرہ بچوں اور ان کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ ھے کہ زخمی بچوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
🤖 Made with AI
بار بار گھر پر ریڈ کیا جا رہا ھے اور عمران خان کے نظریے پر کھڑے رہنے کی سزا دی جارہی ھے ۔
یاد رکھیں کہ ہم پختون ہیں پرامن لوگ ہیں چادر چار دیواری کا اور دوسروں کی عزت کا تحفظ بھی کرتے ہیں اور اپنا تحفظ بھی جانتے ہیں ۔
چادر چار دیواری کا تقدس پامال نہ کریں صوبہ بھی یہی ہے ملک بھی یہی ہے اور ہم بھی یہی ہیں ہم سب نے یہیں رہنا ہے چیزوں کو اس نہج پرنہ لے کر آئے۔
پاکستان کا سوچیں یہ ہم سب کا ہے۔
Shafi Jan retweeted
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
Shafi Jan retweeted
عمران خان، اس کے خاندان اور خیبر پختونخوا حکومت نے آئین پاکستان کی خاطر اور ملٹری آپریشنز اور عوام پر ڈرون حملوں کے خلاف جیلیں اور حکومتوں کی قربانی تو قبول کیں لیکن فرعون وقت کے سامنے نہیں جھکے
یہ جدوجہد ساڑھے چار سال سے جاری ہے اور جب تک فرعون اپنے انجام کو نہیں پہنچتا جاری رہے گی
عمران خان، نہ اس کے خاندان، نہ اس کے ورکر اور نہ سپورٹرز نے ہمت ہاری ہے اور نہ ہی ہاریں گیں انشأللہ
عمران خان کے نام پر اور پختونوں کے سر کاسودانہیں کیا ۔ اور حکومت قربان کر دی ۔
عمران خان کے الفاظ کی لاج رکھ لی۔
آپ کے لڑکوں نے آپ کو دھوکہ نہیں دیا ۔



















