Shafi Jan (@ShafiJanPTI) header
Shafi Jan (@ShafiJanPTI) profile picture

Minister for Information and PRs and Science Technology & Information Technology Khyber Pakhtunkhwa | Member Provincial Assembly (PK-92 Kohat)

Kohat, Pakistan
Joined March 2013
Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)Photo by Shafi Jan (@ShafiJanPTI)
Shafi Jan retweeted
سہیل آفریدی ہمارا وزیراعلیٰ تھا، وزیراعلیٰ ہے اور وزیرِاعلیٰ رہے گا، اُسے تبدیل کرنے کا کوئی سوچے ہی نہ، یہ اختیار صرف اور صرف عمران خان کا ہے، اگر کسی کے ذہن میں کوئی خدشہ ہے تو میں بطور چیئرمین پی ٹی آئی اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دوں گا، بیرسٹر گوہر
5
54
187
5,150
Shafi Jan retweeted
The Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa and the Speaker of the Provincial Assembly were abducted by the regime 12 days ago. Their whereabouts remain unknown. They have not been produced before any court, and their families have not even been informed of their condition. #PakistanUnderFascism #AsimLaw
37
2,539
13
6,795
56,422
Shafi Jan retweeted
They tried to break him with prison, isolation, and cases but every storm only made his resolve harder. He wasn't built to bend in the wind ! Imran Khan - Standing Tall #خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
11
367
9
994
9,664
محترمہ آپکو ترقیاتی کاموں کا کیا علم- عوامی مینڈیٹ پہ شب خون مارنے والے غیر جمہوری چار دن کے جھوٹے اقتدار والوں کو ایسی باتیں زیب نہی دیتی- میرے حلقے میں تمام 28 نیبرہوڈ کونسلز میں ترقیاتی کام جاری تھے۔ جسے بند کر دیا گیا ہے۔ نا صرف میرے حلقے بلکہ پشاور اور پھر پورے خیبرپختونخواہ میں ترقیاتی کام جاری ہیں۔ میں نے کہا تھا جو کہ ریکارڈ پر ہے کہ 2026-27 میں پشاور کو عالمی شہروں کے برابر کھڑا کرینگے انشاءاللہ۔آپ غیر جمہوری عمل کا حصہ بن کر وہی ترقیاتی کام جن کی تختیاں آپ لوگ پچھلے پانچ دن سے اکھاڑ رہیں ہیں ۔۔تختیاں بدلنے سے عوام کے دلوں سے آپ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کے ترقیاتی منصوبوں کو نہی نکال سکتے
137
591
18
2,480
68,095
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔ ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔ گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔ مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
1,019
11,932
245
31,444
836,800
عمران خان، اس کے خاندان اور خیبر پختونخوا حکومت نے آئین پاکستان کی خاطر اور ملٹری آپریشنز اور عوام پر ڈرون حملوں کے خلاف جیلیں اور حکومتوں کی قربانی تو قبول کیں لیکن فرعون وقت کے سامنے نہیں جھکے یہ جدوجہد ساڑھے چار سال سے جاری ہے اور جب تک فرعون اپنے انجام کو نہیں پہنچتا جاری رہے گی عمران خان، نہ اس کے خاندان، نہ اس کے ورکر اور نہ سپورٹرز نے ہمت ہاری ہے اور نہ ہی ہاریں گیں انشأللہ
56
2,043
14
6,172
61,713
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
2,550
17,595
788
48,461
1,980,197
خیبر پختونخواہ میں پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔ راج صرف عمران خان کا ہوگا۔ عوامی راج ہی عمران خان کا راج ہے۔
1,847
13,294
685
39,468
2,295,198
سُہیل آفریدی عمران خان کا نامزد وزیراعلی ہے اُس کوُصرف عمران خان ہی ہٹا سکتا ہے باقی ہم نے آپ کے گورنر راج اور ایمرجنسی کا بھی پورا بندوبست کیا ہوا ہے میں اپنے خیبر پختون خواہ کے غیرتمند قبائل سے محاطب ہو وزیراعلی سُہیل آفریدی آپ کے امن کے لیے کھڑا ہے اگر وہ آپ کے لیے کھڑا ہے تو آپ نے اپنے قبائل کے پہلے وزیراعلی سُہیل آفریدی کے لیے کھڑا ہونا ہے وہ اُس پالیسی کی بات کررہا ہے جو عمران خان کے دور حکومت کی پالیسی ہے جس میں آپ نے امن دیکھا ترقی دیکھی سیاحت دیکھی سُہیل آفریدی اپنے حصہ کا کام کررہا ہے تو اب آپ کی بھی ذمہ داری ہے آپ نے کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹنا آپ نے ڈرنا نہیں اب وقت آگیا ہے اس فرسودہ نظام سے چھٹکارا لینے کا نکلو اپنے اضلاع میں امن کا پرچم اُٹھا کر تاکہ سب کو پیغام جائے کہ آپ کو عمران خان کی پالیسی چاہئے یا ٹینٹ کی زندگی جس میں آپ کو دس سال سے زائد عرصہ رکھا گیا ۔ عمران خان اور اُس کا پورا خاندان بیوی، بہنیں ، پارٹی سب اپنی حصہ کی قربانی دے رہے ہیں کیا آپ کی ذمہ داری نہیں جو آپ کے حقیقی آزادی لیے میرے لیے کھڑا ہے اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف چند دن تک سب کچھ چھوڑ کر اس تاریخی مارچ میں اپنا حصہ ڈالے ۔ سوشیل میڈیا میں موجود ہمارے وہ ساتھی جن کو لگ رہا ہے کہ لوگ تھکا جاینگے اُن کے لیے عرض ہے کیا جدوجہد کی بھی کوئی عمر ہوتی ہے اتنی آسانی سے وہ آپ کو جیتنے دے گی بلکل بھی نہیں تو تھکاوٹ کوئی بہانہ نہیں آپ لوگوں نے چند دن اس تحریک میں اپنی موجودگی ثابت کرنی ہے میڈیا اور سوشیل میڈیا میں موجود چند ٹاوٹس جن کی ڈٹوٹی یہی ہے کہ وہ آپ یعنی عوام پارٹی ورکرز کو ڈرائے ، نا امید کرے تو کیا اُن کے جھوٹے تبصروں سے آپ نے ڈر جانا ہے بلکل بھی نہیں ہم کامیابی کے قریب ہے ہمیں کوئی جلدی نہیں اگر گروانڈ کے لوگ کنٹینر کے ساتھ چل رہے جوڑے ہوئے ہیں تو کسی کی سہولتکاری اور جلد بازی میں ہم موقع ضائع کردے بلکل بھی نہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے تحریک کسی چلانی ہے پارٹی میں موجود ایسے چند افراد ضرور موجود ہے جو اس انتظار میں کہ سُہیل آفریدی ناکام ہوجائے گا تو ہمیں موقع مل جائے گا سُہیل آفریدی کی ناکامی عمران خان کی ناکامی جو ہم نوجوان بلکل بھی نہیں ہونے دینگے ۔ میڈیا پر مجھ سمیت چند پارٹی لیڈر پر پابندی لگا دی ہے تاکہ ہماری آواز دبا دی جائے تاکہ ٹاوٹس کا بیانیہ چل سکے لیکن اُن نالائقوں کوُپتہ نہیں اب سوشیل میڈیا کا دور ہے اور سوشیل میڈیا کے لڑکے تگڑے ہے جو ہماری آواز ہے جو ہماری آواز عوام تک پہلے سے زیادہ موثر انداز میں پیش کررہے ہیں
151
2,665
57
7,943
147,610
۱۱ اکتوبر کو پورے پاکستان سے لوگ صوابی انٹرچینج پر آئینگے۔ پورے پاکستان سے پارلیمینٹیرینز اور تنظیمی عہدیدار ورکرز کو صوابی انٹرچینج تک پہنچائے۔ کل سے کسی بھی طریقے سے اُن کا پہنچنا شروع کریں۔ تمام پاکستانی بھی اُسی دن پہنچے۔ ۱۳ اکتوبر کو خیبرپختونخواہ کا پشاور ریجن، ملاکنڈ ریجن اور کوہاٹ ڈویژن بشمول کرک صوابی انٹرچینج پر پہنچے گا۔ تمام پارلیمینٹیرینز اور تنظیم کو میں نے ہدایت دے دی ہے کہ وہ ورکرز کو صوابی انٹرچینج پر پہنچائے۔ ہزارہ ریجن، بنوں ڈویژن اور ڈی آئی خان ڈویژن ۱۴ اکتوبر کو وہاں آئینگے جہاں ہم صوابی انٹرچینج سے آگے کا لائحۂ عمل دیں گے۔ انشاءاللہ ۱۴ اکتوبر کو ہم صوابی سے آگے پیش قدمی کریں گے۔
1,237
10,536
489
27,550
1,841,061
Shafi Jan retweeted
یہ جھلکیاں صرف کل کے دن کی ہیں، جن سے صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ہر شہر ہر علاقے سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور یہ لانگ مارچ اپنے منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہا ہےـ #سر_بکف_میدان_میں #جاگ_اٹھا_وطن_خان_کیلیے
8
514
1,362
9,098
اس لانگ مارچ کے کوہاٹ سے نکلنے کی 4 منٹ 10 سینکڈ کی یہ ویڈیو بہت شاندار ہے
12
841
2
4,543
72,581
Shafi Jan retweeted
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا @SohailAfridiISF کی قیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ لاچی پہنچا، جہاں شرکائے قافلہ کا شاندار استقبال کیا گیا۔ کارکنان آج رات لاچی گراؤنڈ میں قیام کریں گے، کل ہنگو، اورکزئی اور کرم کے قافلے بھی کوہاٹ پہنچیں گے اور وزیراعلیٰ کی قیادت میں لانگ مارچ کے مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے۔ تمام قافلے متحد ہو کر پشاور کی جانب روانہ ہوں گے۔ #سر_بکف_میدان_میں
13
658
5
2,898
53,653
RT @MuzzammilAslam3: خیبر پخٹنخواہ سیکیورٹی اخراجات (Fact vs fake news) خیبر پختنخواہ کی موجودہ حکومت فروری 2024 سے ترجیح بنیادوں پر پولیس…
15
60
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا: 1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ 2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔ 3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ 4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔ 5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔ تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔ خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔ 6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ 7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
1,852
13,615
648
32,264
2,566,816
پاکستانیوں آپ کہ اور عمران خان کی نوجوان وزیراعلی سُہیل آفریدی اور اُن کے نوجوان ساتھیوں نے اپنا کام کردیا اب آپ کی باری ہیں آپ سب نے نکلنا ہے ہماری طاقت آپ یعنی عوام ہے توڑ دو خوف کے بُت سب نے مل کر ایک دفعہ نکلنا ہے اگر آپ کی تعداد لاکھوں میں ہوگی آپ کے اور ہمارے لیڈر عمران خان کو کوئی بھی قید میں نہیں رکھ سکتا کوئی بھی آپ کی مینڈیٹ پر ڈاکہ نہیں ڈال سکتا نکلو اپنے حق کے لیے نکلو اپنے جائز حقوق کے لیے نکلو بے گناہ سیاسی قیدیوں کے لیے نکلو بشرہ بی بی ، علمیہ خان ، عظمیٰ خان، نورین نیاری، یاسمین راشد، ضنم جاوید، فلک جاوید سمیت تمام بے گناہ خواتین کی رہائی کے لیے
179
3,558
46
9,687
88,978
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
1,545
12,464
591
31,911
2,271,046
Shafi Jan retweeted
نصر من اللہ وفتح قریب انسان کے ہاتھ کوشش ہے، کامیابی اللہ دیتا ہے۔ انصاف کی تحریک ظلم و جبر کو روکنے کی تحریک #سر_بکف_میدان_میں
34
857
7
2,459
22,060
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے- آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔ 5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے- 6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔ 7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔ 8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
4,120
17,153
1,639
41,506
4,444,344
ہم پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول سیاسی جماعت ہیں۔ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، جس کا آئین ہمیں پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔ 4 اکتوبر کو گنڈی چوک، لکی مروت سے عوام کا سمندر اپنا سفر شروع کرے گا اور پاکستان میں آئین و قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کی بحالی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ تحریکِ انصاف کے تمام مطالبات آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔ اس سے پہلے گیدڑوں کو ہر طرح سے غیر قانونی طور پر فیسلیٹیٹ کیا گیا، لیکن ایک لیڈر سے خوف اتنا ہے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ اور ورکرز کو جائز قانونی حقوق بھی نہیں دیے جا رہے۔ پاکستان پر جن لوگوں کا زبردستی قبضہ قائم رکھوایا ہوا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارا پاکستان ٹوٹ جائے۔ جن کو ہندوستان سے خطرہ نہیں، لیکن پاکستانی عوام سے خطرہ ہے- جنہوں نے ڈان لیکس کروائے، جنہوں نے میمو گیٹ اسکینڈل کیا، جنہوں نے ۵۳۰۰ ارب کی IMF سے تصدیق شدہ کرپشن کی، جنہوں نے فوج کے بارے میں کہا کہ انہوں نے ہماری ہڈیاں تک کھا لی ہیں، جنہوں نے پاکستان پر دوبارہ دہشت گردی مسلط کی، جن کا جعلی وزیرِ اعظم کسی شہید کے جنازے میں نہیں گیا، جن کا بھگوڑا قائد اور اس کی بیٹی انڈیا سے جنگ کے دوران خاموش رہے، جن کی پوری جماعت پاکستان کے پختونوں کو دہشت گرد کہتی ہے، اور جنہوں نے پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے، وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے پاکستان میں آگ لگا رہے ہیں۔ دہشت گردی خیبر پختونخوا اور پاکستان کے عوام کے لیے کسی “بیانیے کی جنگ” نہیں ہے، اس سے ہر شہری متاثر ہے- عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ اپنے ہی لوگوں پر ملٹری آپریشنز کرنا اور انہیں بےگھر کرنا کسی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ ڈرون اٹیکس اور نام نہاد “کولیٹرل ڈیمج” سے دہشت گردی بڑھتی ہے۔ میں اس بات پر چٹان کی طرح قائم ہوں۔ آج خیبر پختونخوا میں یہ صرف PTI کا موقف نہیں رہا، بلکہ ہر سیاسی و مذہبی جماعت اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے شخص کا یہی موقف ہے، جس کے دستخط صوبائی اسمبلی کے جرگے میں بطور ثبوت موجود ہیں۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں پاکستان اور خیبرپختونخوا Terrorism نہیں Tourism کے لیے جانے جاتے تھے- رجیم چینج کے بعد دہشتگردی کو دوبارہ جان بوجھ کر خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا۔ جب 2022 کی گرمیوں میں ہم نے آواز اُٹھائی تو آپ نے ہی ہمیں جھوٹا کہا، لیکن آج اُسی دہشت گردی کو بہانہ بنا کر معصوم پختونوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں ۱۰۰ دن کے اندر امن آ سکتا ہے اور آپ نے صرف پالیسی میں تبدیلی لانی ہے، کیونکہ آپ کی موجودہ پالیسی کامیاب نہیں ہے، تو اُس بات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تو دہشت گردی کی سہولت کاری کون کر رہا ہے؟ ہمارے وزیروں اور کارکنوں کو اپنے “گُڈ” لاڈلوں کے ساتھ مل کر کون اُٹھا رہا ہے؟ ہمارا خریدا ہوا اسلحہ کون ہماری پولیس تک نہیں پہنچنے دے رہا؟ ہماری پولیس بغاوت کرنے پر کیوں مجبور ہو گئی ہے؟ بلوچستان اور وفاقی حکومت ایک پیج پر ہیں، پھر وہاں بھی امن کیوں نہیں آ رہا؟ دہشت گردی میں پاکستان پہلی بار پہلے نمبر پر کیوں آ گیا ہے؟ کیونکہ خود کو عقلِ کل سمجھنے والے پہلے بھی غلط تھے، آج بھی غلط ہیں، اور جب تک اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کرتے، تب تک غلط ہی رہیں گے۔ باقی، ہم ۹ مئی کو دوبارہ نہ ہونے دیں گے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ جس نے CCTV فوٹیجز چُرائیں، اُسی نے ۹ مئی کروایا۔ 4 اکتوبر، گنڈی چوک، دن ایک بجے۔ سب پاکستانی یاد رکھیں !!
1,566
12,210
522
28,658
1,277,330