Pinned Tweet
پہلی جنگ عظیم کے بعد ایڈولف ہٹلر جب جیل میں تھا تو اس نے ایک کتاب Mein Kampf لکھی۔ اس کتاب میں اس نے کہا کہ جرمن قوم کی پہلی جنگ عظیم ہارنے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کی بندوقوں میں اسلحہ ختم ہو گیا تھا بلکہ وجہ یہ تھی کہ وہ صحیح طرح سے پروپیگنڈا نہیں کر سکی۔ جیل سے باہر آنے کے بعد اس نے ایک پروپیگنڈا سکیم بنائی۔ اس سکیم کے تحت مختلف ٹیمیں بنائی گئی۔ وہ ٹیمیں جرمنی کے تعلیمی اداروں، دفاتر، گھروں میں جاتی تھیں۔ پروپیگنڈا ٹیمز 24 گھنٹے ایک ہی کام کرتی تھیں کہ مخالفین سے نفرت اور انتقام کا جذبہ جرمن قوم کے دل و دماغ میں بھر دیا جائے۔ اس پروپیگنڈا کمپین میں مخالفین کے نام بگاڑے جاتے، انہیں چور، ڈاکو اور کرپٹ کہا جاتا۔
پانچ سال کی منظم پروپیگنڈا کمپین کا نتیجہ یہ نکلا کہ جرمن قوم کے نزدیک ترقی انفراسٹرکچر کی بہتری نہیں بلکہ مخالف کو للکار، ان کا گریبان پکڑنا اور قتل کرنا تھا۔ اس نفرت انگیز سوچ نے یورپ میں لاکھوں انسانوں کا قتل کیا۔
ہٹلر کے مرنے کے بعد یورپ کی دیگر اقوام کو سب سے بڑا چیلنج یہ درپیش تھا کہ ہٹلر تو مر چکا، اس کا نفرت انگیز فلسفہ کس طرح مارا جائے؟ چنانچہ De-Nazification کا مرحلہ شروع کیا گیا۔ نفرت کے اس فلسفے کو ختم کرنے کے لیے یورپ کو 40 سال لگے۔
اسی طرح پاکستان کے خلاف نفرت کی جو آگ شیخ مجیب اور اس کی بیٹی نے بنگالی قوم کے دلوں میں بھر دی تھی اس پروسیس کو Reverse کرنے میں 53 سال کا عرصہ لگا۔
آج کل پاکستانی قوم کا ایک سیکشن بھی اسی نفرت کے مرض میں منظم پروپیگنڈا سکیم کے تحت مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اس گھناؤنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پچھلے 10 سالوں سے کام جاری ہے۔ یوٹیوبرز کی ٹیمیں بنائی گئیں۔ سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹیمز نے اس میں حصہ ڈالا، امریکہ میں پروپیگنڈا تھنک ٹینکس ہائیر کیے گئے، پروپیگنڈا ٹیم کےلوگوں کو امریکہ، ناروے اور برطانیہ فرار کروایا گیا۔ تاکہ وہ وہاں بیٹھ کر نفرت کا بیوپار کر سکے۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ آپ محب وطن تب کہلائیں گے کہ جب اپنی فوج کو گالیاں دیں گے، اداروں پر حملہ کریں گے، عزت اور تکریم کی علامات کو تہ و بالا کریں گے، اور جہاں کہیں مخالف نظر آئے، اس کی ماں بہن کریں گے۔
بس اب یہ دیکھنا ہے کہ پاکستان میں De-Nazification کے اس مرحلے میں 20 سال لگتے ہیں 30 یا 50 ۔۔۔۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ پاکستان میں Normalisation اور بھی De-Nazification تب ہوگی جب Agents of Chaos یعنی کہ یوٹیوبرز نما صحافی اور اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا ٹیموں کا سختی سے محاسبہ ہوگا اور یہ کام ریاست پاکستان کو ہر صورت میں کرنا ہوگا۔ بس وہ کرنا پڑے گا جو جرمن ریاست نے شر انگیز شدت پسند لوگوں کے ساتھ کیا جب وہ اپنی نفرت اور شر کا بیانیہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔
According to sources, when yesterday’s four-nation Quad meeting commenced in Tehran, Pakistani and Turkish security agencies conducted a routine security search of the venue in accordance with established protocols. During the inspection, they reportedly discovered a suspicious bugging device, which was subsequently removed from the hall before the meeting proceeded.
گزشتہ چند برسوں میں کچھ ایسے صحافی منظرِعام پر آئے ہیں جن کے الفاظ میں ربط نہیں، اردو ایسی کہ اس میں پنجابی کی جھلک نظر آئے، نہ باتوں میں کوئی منطق، نہ کوئی دلیل، نہ تاریخ پر گرفت، نہ مطالعہ، نہ انہیں پتہ ہوگا کہ اینڈ آف ہسٹری کس نے لکھی، نہ پتہ ہوگا نیو ورلڈ آرڈر کیا ہوتا ہے، نہ پتہ ہوگا کلیش آف سویلائزیشن کیوں لکھی گئی۔
ایسے صحافیوں نے مشہور ہونے کے لئے ایک آسان کلیہ دریافت کیا: عمران خان کا ہر قیمت پر دفاع، اس کے مخالفین کی لترول۔ پوڈکاسٹ شروع کیے، عمران خان کے مخالف نقطہ نظر والوں کو بلایا۔ قابلیت ایسی کہ سامنے بیٹھے شخص سے زبانی ایک سوال بھی نہیں کر سکتے اور وہ بھی دیکھ کر پڑھتے ہیں۔ ایسے صحافیوں میں سرفہرست ارشاد بھٹی ہے۔ آپ کو اس کی بات میں کبھی کوئی ذہانت، فطانت، تاریخ، مطالعہ، معلومات نہیں مل سکتی۔ ایک ہی چیز ملے گی عمران خان کے ہر مخالف پر تنقید اور اس کا ہر قیمت پر دفاع۔
المیہ یہ نہیں کہ کوئی صحافی عمران خان کا حامی کیوں ہے۔ جمہوریت میں ہر شخص کو سیاسی پسند و ناپسند کا حق حاصل ہے۔ اصل المیہ تب جنم لیتا ہے جب سیاسی وابستگی، صحافتی غیر جانب داری کی جگہ لے لے؛ عقیدت، تحقیق پر غالب آ جائے؛ اور سوال اٹھانے کا پیشہ، اپنے پسندیدہ رہنما کے دفاع کا مستقل ٹھیکہ بن جائے۔
میں نے ابھی ابھی معید پیرزادہ، صابر شاکر، صدیق جان، شہباز گل، اور عمران ریاض کے ٹویٹر اکاؤنٹس چیک کیے ہیں۔ سب اکاؤنٹس پاکستان کی انگلینڈ کے خلاف شاندار کامیابی پر خاموش ہیں۔ کسی کی طرف سے ایک تعریفی جملہ تو کیا ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا۔ ایسا کیوں؟
اب آپ کو سکون ہے؟ پچھلے ایک ہفتے سے ایک ہی رولاتھا کہ عدالت کے حوالے کریں، قانون کے مطابق کارروائی کریں، قانون اپنا راستہ لے گا۔ تو جناب! یہ لیجیے، آپ کے قانون نے اپنا راستہ لے لیا! اس وکیل کو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایف آئی آر میں کون سی دفعات درج ہوں تو بچ نکلنے کی گنجائش باقی رہے، اور عدالت سے رہائی کا پروانہ کیسے حاصل کیا جائے۔
اب یہ ظالم دوبارہ سڑک پہ ہوگا۔ پہلے سے زیادہ اعتماد کے ساتھ پھر لڑکی کو مارے گا، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اس کے پیچھے عمران ریاض، صدیق جان، معید پیرزادہ، شہباز گل جیسے لوگ ہیں جو عدالت کی بات کریں گے، اور اسی طرح مظلوم چپیڑے کھاتا رہے گا، اور طاقتور بدمعاش قانون کو اپنے سامنے سر نگوں کرتا رہے گا۔ جب تک یہ وی لاگرز زندہ ہیں، مظلوم تھپڑ کھاتا رہے گا۔
میں تو ابھی تک اسی سوچ میں گم ہوں کہ عمران ریاض، صدیق جان، صابر شاکر، معید پیرزادہ، شہباز گل اور دیگر درجنوں عمرانی یوٹیوبرز اس واقعے میں سے پراپیگنڈے کا کون سا نیا زاویہ نکالیں گے!
کیا اس بار بھی ظالم ایلیٹ کلاس کے عہدیداروں کے لیے دلائل کی پٹاری کھلے گی؟ کیا پٹرول پمپ پر مار کھانے والا ہی قصوروار قرار پائے گا کیونکہ مریم نواز نے مار کھانے والے کی دادرسی کی۔
عمرانی بیانیے کی اصل آزمائش یہی ہے کہ اصول شخصیت دیکھ کر بدلتے ہیں۔ دیکھتے ہیں، اس بار منفی پراپیگنڈے کی فیکٹری سے کون سا نیا شاہکار برآمد ہوتا ہے!
یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔
بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اُس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔
میرا عزم واضح ہے: مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا-
یہاں اندھیر نگری نہیں کہ آپ راہ چلتے کسی کو کچل دیں، یا آپ کی وجہ سے زندگی میں آگے بڑھنے کے خواب سجائے لائبہ درخت سے جھول جائے اور آپ آزادانہ اپنی موج مستی میں گھومتے پھریں، یا آپ سکوٹی پر سوار ایک لڑکی کو راہ چلتے مارنا پیٹنا شروع کر دیں اور پھر اپنی زندگی میں مصروف ہو جائیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہو گا!
اب مریم نواز کی حکومت ہے۔ اب پکڑ ہوگی، ریاست حرکت میں آئے گی، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، احتساب ہوگا اور سزا ملے گی۔ تبھی تو معاشرہ آگے بڑھے گا۔
سلاخوں کے پیچھے کھڑا یہ وہ شخص ہے جس نے راہ چلتے سکوٹی پر سوار ایک نہتی لڑکی پر حملہ کیا۔ اب ہو گا ظالم کا احتساب۔
بات بہت سادہ سی ہے کہ سیاسی عہدیداروں کو پارٹی پالیسی کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔ ان کے ذاتی خیالات اور آرا بھی پارٹی کے مؤقف سے متصادم نہیں ہونے چاہئیں، خصوصاً جب معاملہ ریاستی عملداری سے جڑا ہو۔
سیاسی عہدہ ذاتی رائے کے آزادانہ اظہار کا نہیں، بلکہ پارٹی کے اجتماعی مؤقف اور سیاسی فکر کی نمائندگی کا نام ہے۔ اسی اصول کے تحت انہیں عظمیٰ بخاری پر بھی ایسی تنقید سے گریز کرنا چاہیے جو اپنی ہی جماعت کے سیاسی مؤقف سے متصادم ہو۔
راہ چلتی خواتین کو گھورنے والے، ان پر آوازیں کسنے والے، نازیبا کلمات کہنے والے، دست درازی کرنے والے، ہاتھ اٹھانے والے اور انہیں اپنی ملکیت سمجھ کر ان پر دھونس جمانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے عناصر کا محض زبانی مذمت سے نہیں، بلکہ سخت قانونی کارروائی اور عبرت ناک سزا کے ذریعے احتساب کیا جائے۔ جب تک قانون کی گرفت مؤثر نہیں ہوگی، جب تک مجرموں کو ان کے اعمال کی قیمت نہیں چکانا پڑے گی اور جب تک ریاست کا قانون شکنوں پر حقیقی خوف طاری نہیں ہوگا، تب تک یہ رویے ختم کرنا مشکل رہے گا۔
خواتین کا تحفظ کوئی احسان نہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سڑکیں، بازار اور عوامی مقامات خواتین کے لیے بھی اتنے ہی محفوظ ہونے چاہئیں جتنے مردوں کے لیے۔ معاشرے میں عزت، تحفظ اور آزادی سب کا حق ہے، کسی کی جاگیر نہیں!
کارگل کے محاذ پر وطن کے لیے جان قربان کرنے والے ایک شہید کے بیٹے نعیم اصغر نے خواب تو ڈاکٹر بننے کا دیکھا تھا، مگر اس خواب کو حقیقت کا راستہ دانش اسکول نے دکھایا۔ دانش اسکول سے ایم بی بی ایس تک کا ان کا سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ اگر صلاحیت کو مواقع اور خوابوں کو سہارا مل جائے تو منزل دور نہیں رہتی۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دانش اسکول منصوبہ نعیم اصغر کے لیے محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ ایک خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔
میں گزشتہ 25 سال سے شعبۂ تعلیم و تدریس سے وابستہ ہوں۔ برسوں سے دیکھتا آیا ہوں کہ رات 8 بجے اکیڈمیز کی چھٹی کے وقت شرپسند لڑکوں کے جتھے لڑکیوں کا راستہ روکتے، آوازیں کستے، تعاقب کرتے اور بعض اوقات دست درازی تک سے باز نہیں آتے تھے۔
لیکن پچھلے دو سال سے لڑکوں کے اندر سی سی ڈی نے ایسا خوف ڈالا ہے کہ اب وہ نہ تو راستے میں کھڑے ہوتے ہیں، نہ لڑکیوں پر آوازیں کستے ہیں، نہ ہی ان کا پیچھا کرتے ہیں۔ آج لڑکیاں اکیڈمیوں سے نکل کر اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو جاتی ہیں۔ سڑکوں پر وہ ہجوم نظر نہیں آتا جو کبھی طالبات کے لیے خوف اور پریشانی کا باعث بنتا تھا۔
اس حقیقت کا ہم اعتراف کرتے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام کمزور ہے۔ ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر عدالت میں پیش ہونے تک بااثر آدمی ہمیشہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر اپنی مرضی کا فیصلہ لے لیتا ہے اور غریب کڑھتا رہتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ادارے کی کارروائی سے عام شہری، خصوصاً ہماری بیٹیاں، خود کو پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کر رہے ہیں تو اس بہتری کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ہر اچھے اقدام پر کیچڑ اچھالنا صحافت نہیں، اور ہر بہتری کا اعتراف کرنا کسی کی اندھی حمایت نہیں۔ جہاں پولیس کا خوف جرائم پیشہ عناصر کو روکے، وہاں اس کے مثبت نتائج کو سراہنا چاہیے۔ سیاسی تعصب سے بالاتر ہو کر دیکھیے، کہیں تو معاشرے میں امن، سکون اور تحفظ بڑھ رہا ہے!
معید پیرزادہ کا صرف چار گھنٹے پہلے یہ کہنا تھا کہ ریاست اس قاتل کو تمغہ دے کر رہا کرے گی اور اب کہہ رہے ہیں کہ غلط ہوا۔
پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ وہ صحافی بھی ہیں جنہوں نے صحافت چھوڑ کر تحریکِ انصاف کا پارٹی ورکر بننا پسند کیا۔ ان صحافیوں نے ہر وہ نقطہ اٹھایا جس سے پاکستان کی ذلت ہو سکتی تھی۔ ہر وہ بیانیہ، حربہ اور پراپیگنڈا استعمال کیا جس سے پاکستان کی فتوحات کو ناکامیوں میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔
پاک بھارت جنگ کے دوران یہ صحافی بھارت کے بیانیے کو پروموٹ کرنے لگے۔ صدیق جان نے تو یہ تک کہہ ڈالا کہ بھارت کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ پاکستان پر حملہ کر دے، کیونکہ اس مرتبہ پاکستان کی عوام پاک فوج کے ساتھ نہیں کھڑی۔
پھر ان صحافیوں نے بڑے مربوط اور منظم انداز میں ایک اور بڑا گھناؤنا کام کیا۔ مخالفین کے گھروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالا۔ اقرار الحسن کے گھر کی خواتین کے اعضا تک سوشل میڈیا پر ڈسکس کیے، شاہ زیب خانزادہ کی بیوی کی فوٹوشاپ تصاویر لے آئے، شاہد آفریدی کی بیٹیوں کے متعلق نازیبا کلمات کہے، مخالف صحافی خواتین، عاصمہ شیرازی، غریدہ فاروقی اور دیگر کئی خواتین کو گندے القابات سے پکارا۔
ہر روز مریم نواز کی تصویریں فوجی افسروں کے ساتھ جوڑ کر کردار کشی کرتے ہیں ابھی کچھ ہی دن پہلے ایسی ہی ایک تصویر معید پیرزادہ نے شیئر کی تھی, اور کسی صدیق جان یا عمران ریاض خان کو مذمت کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
پھر دنیا کے بڑے بڑے پلیٹ فارمز پر جب پاکستان، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے نام گونجنے لگے اور پاکستان کو اپنی بات کہنے کا موقع ملا، تو ان لوگوں نے اس موقع پر بھی ریاستِ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا جاری رکھا۔
بھارت کے نیوز چینلز پر بیٹھ کر یہ پاکستان کی افواج کو گالیاں دیتے ہیں۔ مسلسل پاکستانی قوم میں مایوسی پھیلاتے ہیں۔ اپنے وی لاگز میں بتاتے ہیں کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہم مکتی باہنی کا کردار ادا کریں گے، بھارتی فوجیوں کو چن چن کر پاک فوج کے افسران اور جوانوں کے گھروں اور ٹھکانوں کا پتا بتائیں گے۔ ایک عمرانی محبت میں گرفتار وی لاگر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر اسرائیلی فوج بھی پاک فوج پر حملہ کرتی ہے تو ہم اسرائیلی فوج کے ساتھ شامل ہوں گے۔
جب اپنے ہی ملک کے خلاف نفرت اس قدر شدید ہو جائے کہ آپ بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے پر چلنا شروع ہو جائیں، تو پھر یہ پاکستان کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔
مشال یوسفزئی تو کیا، تمام محبِ وطن پاکستانی، چاہے وہ سیاست دان ہوں یا عام لوگ، انہیں ایسے صحافیوں کے خلاف ضرور آواز بلند کرنی چاہیے۔ عوام کو ان کے طرزِ عمل اور بیانیے کی حقیقت بتانی چاہیے اور ان کے زہر آلود پراپیگنڈے کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کرنی چاہیے، تاکہ ایک عام پاکستانی کے دل میں پاکستان کی محبت پیدا ہو، نہ کہ بھارت اور اسرائیل کی۔
اگر ہمارے معاشرے میں تبدیلی آنی ہے تو اس کا آغاز کلاس روم، سکول، مکتب اور ایک استاد سے ہوگا۔
آپ کلاس رومز کو تبدیل کر دیں، عام آدمی کے بچوں کو بہترین اساتذہ میسر کر دیں، تو میں سمجھوں گا کہ تبدیلی کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے۔
میرے نزدیک اس حقیقت کا بہترین ادراک مسلم لیگ (ن) کو ہے، جس نے دانش اسکولز، اسکولز آف ایمننس، ایجوکیٹرز کی بھرتیوں، اسکلز ڈیولپمنٹ، جدید کورسز کے آغاز اور اساتذہ کی مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے تربیت جیسے اقدامات کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے۔
مجھے یقین ہے کہ جب ہم تعلیم کے ذریعے نئی نسل کی سوچ، شعور اور صلاحیتوں کو نکھاریں گے تو معاشرے کے ٹھہرے ہوئے پانی میں بھی حرکت پیدا ہوگی، جمود ٹوٹے گا اور ترقی کی ایک نئی، خوش گوار لہر جنم لے گی۔
کیونکہ قوموں کی تقدیر ڈی چوک کے نعروں سے نہیں، کلاس رومز میں دی جانے والی تعلیم و تربیت سے بدلتی ہے۔
مشال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ صدیق جان کو تحریکِ انصاف کا بیانیہ بنانے کے لیے پیسے دیے جاتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ صدیق جان ہی نہیں، ان پندرہ بیس دیگر صحافیوں کے نام بھی لیے جانے چاہئیں جو صحافت کے نام پر پاکستان تحریکِ انصاف کے پارٹی ورکرز کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
I became anti-PTI when it hired the US lobbying firms with the sole aim of undermining the state of Pakistan.
When it embraced US lawmakers and cheered as they attacked Pakistan.
When its YouTuber Adil Raja raised Pakistan Murdabad slogan, and the party’s vast digital army remained silent in complicity
When its YouTubers appeared on Indian television to degrade Pakistan, earning applause from Indians and the PTI ideologues as well.
When on the 9th of May, its workers attacked state institutions, gleefully setting them ablaze in the name of revolution.
When its supporters began celebrating the Pakistan’s defeats and mourning its victories.
Lies, deception, hate, and poison. Every narrative spun and every play enacted over the last four years has served only one objective: to degrade, defame, and humiliate Pakistan.
I’ve been anti PTI since 1997 as he spread hate against Benazir Bhutto and celebrated her dismissal by Farooq Laghari. He displayed his anti democratic politics from the very beginning, hated him further when he supported referendum and favoured General Musharraf & when in 2006 he rejected women protection bill because how could he not. Aur uss ke baad to everyday was a reason to not like him ever!
کچھ دن پہلے جب پنجاب کے میڈیکل کالجز میں افغانستان سے آئے ہوئے طلبہ کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تو ان کے کلاس فیلوز، پنجابی طلبہ، سڑکوں پر پلے کارڈز اٹھائے اپنے افغانی دوستوں کے حق میں احتجاج کرتے نظر آئے۔
پنجاب کی سرزمین پر ہر قومیت اور ہر نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ آ کر آباد ہوتے ہیں۔ لاہور کی کئی مارکیٹوں میں پختون کاروباری حضرات کا غلبہ ہے۔ لاہور میں گلبرگ کے قریب اوریگا مارکیٹ پختون بھائیوں سے بھری ہوئی ہے۔ لاہور کی ایک بستی کا نام روزی خان ہے، جسے آج سے تقریباً چالیس سال پہلے افغانستان سے آئے ہوئے ایک پٹھان نے آباد کیا تھا۔ آج بھی وہاں پختونوں کی اکثریت ہے، جو پنجابیوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔
پنجاب کی ہر گلی، ہر کوچے اور ہر نکڑ پر کوئٹہ کیفے نظر آتا ہے۔ آج تک پنجاب کی کسی بستی میں پختونوں اور پنجابیوں کے درمیان نسلی عصبیت کی بنیاد پر کوئی لڑائی سامنے نہیں آئی۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ خیبر پختونخوا میں بعض پختونوں کے دلوں میں پنجابیوں کے لیے نفرت کیوں رہی ہے۔ وہ ہمیشہ پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف عصبیت کا نعرہ بلند کرتے رہے اور اسی نعرے پر سیاست کرتے رہے۔
پھر مجھے 1946ء کے برصغیر کے وہ انتخابات بھی یاد آتے ہیں، جب ایک پختون رہنما نے قائداعظم کی مخالفت میں نہرو کو قبائلی علاقوں میں لے جا کر تقاریر کروائیں اور پختون عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ برصغیر کی اصل سیاسی قیادت گاندھی اور نہرو ہیں۔ پھر جب پاکستان کے قیام کا مرحلہ آیا تو پاکستان کے حق میں ہونے والے ریفرنڈم کا بھی بائیکاٹ کیا گیا۔
شاید بعض لوگوں کے DNA میں آج بھی 80 سال پُرانی پنجاب اور پاکستان مخالف سوچ موجود ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ نفرت اور عصبیت کی اس بیماری سے نجات پائیں اور پنجاب میں آباد اپنے پختون بھائیوں کی طرح پنجابیوں کے ساتھ محبت، رواداری اور بھائی چارے کے ساتھ رہنا سیکھیں۔
نو مئی سے پہلے پی ٹی آئی کے کارکنان کو بتا دیا گیا تھا کہ اگر ایسی صورتِ حال پیدا ہو تو کیا کرنا ہے۔ حملوں کے بعد جب فسادی گرفتار ہوئے تو پی ٹی آئی نے انہیں own کرنے سے انکار کر دیا۔ کہا گیا کہ یہ تو ایجنسیوں کے لوگ تھے۔
وہ لوگ آج تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور ان کے والدین پی ٹی آئی کو کوستے ہیں۔ ان غریب کے بچوں کو حق کو باطل کی جنگ، حقیقی آزادی، انقلاب جیسے نعروں کا خواب دے کر ہاتھوں میں پٹرول بم اور ہتھیار دے کر آزادی کے لئے بھیج دیا، لیکن جب پکڑے گئے تو کہا یہ تو ایجنسیوں کے لوگ ہیں، یہ تو ہمارے لوگ ہی نہیں۔۔۔
ہاشِر خان اور جنید رزاق کا بیٹا بھی جیل میں ہے۔ میں نے ان دو ناموں کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ شاید آپ ان سے واقف نہ ہوں۔ گزشتہ کئی برسوں سے نو مئی کے مقدمات میں ایسے ہزاروں کارکنان گرفتار ہیں، جنہوں نے انقلاب کی امید میں ریاستی اداروں پر دھاوا بولا، مگر جب گرفتاریوں کا وقت آیا تو پی ٹی آئی نے انہیں اپنا کارکن ماننے سے انکار کر دیا۔
بالکل اسی طرح خیبر پختونخوا میں بھی جو کوئی انتشار پھیلائے گا، وہ گرفتار ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہاں بھی پی ٹی آئی ان لوگوں کو بھی own کرنے سے انکار کر دے گی، غریب کا بچہ جیل میں سڑتا رہے گا اور کسی صاحبِ اقتدار یا وزیر کا بچہ پُرتعیش کمروں میں آرام کر رہا ہو گا۔۔
لہٰذا جو لوگ اب بھی پی ٹی آئی کی ایما پر ریاستی اداروں پر حملے کرنے کا سوچ رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے، اپنے بچوں اور اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں ضرور سوچیں۔ کیونکہ اگر وہ گرفتار ہوگئے تو پی ٹی آئی انہیں بھی ایجنسیوں کا آدمی قرار دے کر ان سے لاتعلقی اختیار کر لے گی، جبکہ وہ خود جیل میں سڑتے رہیں گے۔












