Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir) header
Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir) profile picture

Journalist covers:#Politics,#Pak,#JKGB,#Elections for @TOKCityOfLights|ex #D_Islam,@roznamadunya|Member:#KPC,#PFUJ,@ACPKHI,Trainer @CEJatIBA|Views Are Personal

Karachi Press Club (KPC) Pak
Joined July 2010
Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)Photo by Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) (@ajnasir)
الحمدللہ
🎯 #GNMI has just wrapped up an advance level training of the Karachi-based journalists, empowering them with essential skills to combat disinformation! 💪✨ Supported by the @NEDemocracy, our journalists are now equipped to navigate the truth, fact, and veracity in today's media landscape. 🌐📝 #CombatDisinformation #MediaIntegrity #EmpoweringJournalists
5
7
23
20,884
#مولانا_کے_خلاف_حکومتی_انتقام! اسلام آباد کیپیٹل اتھارٹی نے مولانا فضل الرحمن @MoulanaOfficial کے گھر میں نوٹس لگایا ہے، نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گھر کے باہر گارڈ کا کیبن اور جنریٹر روم کیوں بنایا اور گھر کے اندر ایک اضافی کچن کیوں تعمیر کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی @MohsinnaqviC42 ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف @KhawajaMAsif ، طلال چوہدری اور حامی مبینہ اینکروں اور اینکرنیوں، کالے و سفید، لال و پیلے چینلوں نے مولانا فضل الرحمان پر انتہائی سنگین الزامات لگائے اور عمل درآمد کا وقت آیا تو "گارڈ روم، جنریٹر روم اور گھر کے اندر اضافی کچن" کا نوٹس۔ سیاسی انتقام میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے۔ اور اس حد تک جانا واقعی کوئی شرم ہوتی ہے ، کوئی حیا ہوتی ہے۔ ویسے معاملہ یہاں تک پہنچا ہے تو پھر صلح ہی کرنی چاہیے۔ @ziaurrehman76 @juipakofficial
3
3
207
حسد کی بیماری کا علاج، امام غزالی رحمہ اللہ کے مطابق، شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی گفتگو
1
2
136
خان کا #PMLN خاتمےکا منصوبہ اور مولانا کا #PDM! تحریر : #عبدالجبارناصر تبدیلی مہم کا مقصد! پاکستان میں 2010ء سے تبدیلی نامی منصوبے کی تخلیق کا مقصد اس ملک سے دو بڑی جماعتوں،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کا نہ صرف راستہ روکنا، بلکہ مستقل بنیادوں پر سیاست سے بے دخل کرنا تھا، چاہے اس کے لیے کسی حد تک بھی جانا پڑے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نشانہ! پیپلز پارٹی کی حکومت اور صدر آصف علی زرداری کے خلاف 2010ء سے 2013ء تک متعدد حملے ہوئے، جن کو سیاستدانوں نے ناکام بنایا۔ 2013ء سے 2018ء تک وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف معروف دھرنے سمیت متعدد حملے کئے گئے، مگر سیاستدانوں نے ناکام بنا دیا، اور 2017ء میں اب یہ طے کہ دونوں بڑی جماعتوں کو ایک ساتھ نشانہ بنانے کی بجائے پہلے نواز لیگ اور اس کے بعد پیپلز پارٹی کا نمبر لگے گا، اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پیپلز پارٹی تقریباً سندھ تک محدود ہوگئی تھی، جبکہ ن لیگ پنجاب سمیت ملک بھر میں اچھی گرفت رکھتی تھی اور نظامِ حکومت کے حوالے سے نواز شریف کی کارکردگی بھی اچھی تھی۔ ن لیگ اصل ٹارگٹ! عمران خان کو 2018ء میں مسلط کیے جانے کے بعد ترجیح یہی رہی کہ پہلا نمبر نواز شریف، ان کے خاندان اور ن لیگ (#PMLN) کی باقی قیادت کا، اور اس کے بعد آصف علی زرداری، ان کے خاندان اور پیپلز پارٹی(#PPP) کی باقی قیادت کا ہوگا اور پھر دیگر تھے، اس حوالے سے عمران خان کی فہرستیں تیار کرنے والی باتیں اب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ 20 سالہ ناکام منصوبہ! اس منصوبے کے تحت دونوں پارٹیاں مکمل فٹ ہوگئی تھیں اور عمران خان کے دور میں واحد مولانا فضل الرحمان تھے، جنہوں نے عمران خان کو متعدد بار چیلنج کیا، جبکہ عمران خان اور ان کے سرپرستوں کو منصوبے کی تکمیل کا اتنا یقین ہوگیا تھا کہ اگلے 20 سال تک کون صدر، کون وزیراعظم، کون چیف آف آرمی اسٹاف اور کون چیف جسٹس ہوگا، اس کا خاکہ بھی تیار کیا گیا اور اس منصوبے میں موجودہ سول، عدالتی اور فوجی قیادت کا نہ صرف دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا بلکہ میڈیا رپورٹس کے بوقتِ ضرورت ان سب کو انتقام کا نشانہ بنانا بھی منصوبے کا حصہ تھا۔ مولانافضل الرحمان اور PDM! مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (#PDM) بنی اور اسی پلیٹ فارم سے جمہوری انداز کی جدوجہد کا نتیجہ عدم اعتماد اور کامیابی تک پہنچا اور یوں 20 سالہ منصوبہ ابتدائی طور پر ناکام ہوا، جبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو سکون ملا اور قیادت جیلوں سے اقتدار تک پہنچی۔ نئی مہم ! معاملہ یہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد بھی حکومت اور مقتدرہ کو عہدے تک پہنچنے سے روکنے اور ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، لوگوں کے گھر والوں تک کو سوالیہ نشان بنایا گیا، منصوبہ یہی تھا کہ ان سب کو بالخصوص ن لیگ اور مقتدرہ کو نشانِ عبرت بنانا ہے، 9 مئی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ دونوں بڑی جماعتوں کا مولانا کے ساتھ ہاتھ! مولانا فضل الرحمان کے #PDM کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان مسلم لیگ نواز، مقتدرہ اور پیپلز پارٹی کو ملا، ان سیاسی جماعتوں نے مولانا کے ساتھ ہاتھ PDM کے زمانے میں ہی کیا تھا یعنی مولانا فضل الرحمان کے صدرِ پاکستان بننے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر دیں اور پھر عام انتخابات 2024ء کے بارے میں جمعیت علماء اسلام (#JUIP) کا دعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان میں مجموعی طور پر ایک درجن سے زائد قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں چھین کر پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کو دی گئیں اور مزید یہ کہ 2024ء کے انتخابات کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے مولانا سے آنکھیں پھیر لیں۔ پی ڈی ایم کے مستفید لوگ کون؟ مختصر یہی ہے کہ سید محسن نقوی کے نگراں وزیراعلیٰ اور وزیرِ داخلہ سمیت نصف درجن کے قریب عہدوں تک پہنچنے، خواجہ آصف کے نیب سے بچ کر دو بار وزیرِ دفاع بننے یا زرداری کے صدرِ پاکستان، میاں شہباز شریف کے دو بار وزیراعظم، مریم نواز شریف کے وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر لوگوں کے عہدوں تک پہنچنے بلکہ جیل و کورٹ کچہریوں سے نجات کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مولانا فضل الرحمان اور انکے PDM کو ہی بنایا، فوائد دونوں بڑی پارٹیوں اور مقتدرہ نے اٹھائے اور گالی مولانا فضل الرحمان کو پڑی۔ کل اور آج کا اصول! جس اصول اور قواعد و ضوابط کے تحت کل مولانا فضل الرحمان مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے تھے، اسی اصول اور قواعد و ضوابط کے تحت آج تحریک انصاف (#PTI) کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ کچھ شرم وحیا کی ضرورت! اس لیے خواجہ آصف ہو یا محسن نقوی یا مریم نواز یا کوئی اوربس اتنا کہنا ہےکہ احسان فراموشی اچھی بات نہیں، وقت کے بدلنے میں دیر نہیں لگتی ہے، ورنہ کل آپ بھی PTI کی طرح ہاتھ مل رہے یا کھسیانے ہونگے۔ واقعی کچھ شرم اور کچھ حیا کی ضرورت ہے۔ @ziaurrehman76
1
4
211
سندھ اور گلگت بلتستان وزرائے اعلیٰ ملاقات! جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ @MuradAliShahPPP سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین آذر ایڈووکیٹ @amjadhussainaza کی ملاقات، اہم امور پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار، معاونِ خصوصی سید قاسم نوید، وزیراعلیٰ کے پرنسیپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد، سیکریٹری صحت طاہر سانگی اور این آئی سی وی ڈی کے پروفیسر ڈاکٹر ایم اسد بلال اعوان کی شرکت وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے امراضِ قلب کے اسپتال کی بہتری کے لیے سندھ حکومت سے تعاون مانگا اور وزیراعلیٰ سندھ کی گلگت بلتستان نے امراضِ قلب کے اسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے این آئی سی وی ڈی کو تعاون کی یقین دھانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گلگت بلتستان حکومت اسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے این آئی سی وی ڈی کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرے، این آئی سی وی ڈی گلگت بلتستان میں امراضِ قلب کے علاج کی سہولیات بہتر بنانے میں معاونت کرے گا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی اور وزیر اعلیٰ سندھ نے کہاکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری @BBhuttoZardari نے گلگت بلتستان میں سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر کی ہدایت کی تھی، سندھ پیپلز ہائوسنگ کی ٹیم نے گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سروے کا کام شروع کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سربراہ ایس پی ایچ خالد شیخ کو گلگت بلتستان میں جنوری یا فروری میں گھروں کی تعمیر کا کام شروع کرنے کی ہدایت ہے۔
171
ہزارہ صوبے کے حق میں بڑا جلسہ! کراچی: وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان کو بااختیار بنانے کے لیے چھوٹے انتظامی صوبے بنانے کی ضرورت ہے، جب ملک بنا اس وقت چار صوبے بنے اب آبادی 25 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ اب بھی چار صوبے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے نئے انتظامی صوبے بنائے جائیں، ہمارا نعرہ صوبہ ہزارہ ہے اور پاکستان ہماری پہچان ہے، صوبہ ہزارہ ہمارا آئینی حق ہے۔ وہ اتوار کو ہزارہ قبائل مشاورتی کونسل اور صوبہ ہزارہ تحریک کے تحت قیوم آباد میں صوبہ ہزارہ جلسہ سے خطاب کرریے تھےجلسے میں 24 قبائل کے نمائندوں سمیت کراچی میں مقیم ہزارہ وال کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جلسے میں ہزارہ وال برادری کے سینیٹر محمد طلحہ محمود، سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی، ایم این اے ڈاکٹر شائستہ جدون، چیئرمین آباد حنیف گوہر سواتی، میئر مانسہرہ شیخ شفیع سمیت دیگر قائدین نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے خطاب میں کہا کہ کراچی کے ہزارہ وال نے ثابت کر دیا کہ صوبہ ہزارہ بن چکا ہے، تین مرتبہ خیبرپختونخوا اسمبلی سے قرارداد پاس ہو چکی، سینٹ میں بل جمع کرایا جا چکا جو اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس ہے، کسی جماعت نے مخالفت نہیں کی، پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم سمیت سب نے حمایت کی۔ 2010 میں نوجوانوں نے شہادتیں دیں، پاکستان میں ہزارہ کی بڑی قربانیاں ہیں، پاکستان نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں ثابت کیا کہ دشمن کا مقابلہ جرات سے کر سکتا ہے، جس میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں دنیا نے پاکستان کو سلام کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پر امن طریقے سے صوبہ ہزارہ کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے کامیاب جلسے نے ثابت کر دیا ہے کہ اب صوبہ ہزارہ بنے گا، ہزارہ وال متحد ہیں، ہم محبت کرنے والی قوم ہیں، ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں۔ کراچی میں ہزارہ وال ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں گے، ہم اپنے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایم این اے ڈاکٹر شائستہ جدون نے کہا کہ کراچی میں عوام کا سمندر دیکھ کر حیران ہوں، یقین ہو گیا کہ صوبہ ہزارہ بننے جا رہا ہے، اسمبلی کے فلور پر ہم خواتین ہزارہ کی عزت بن کر آپ کی آواز بنیں گے۔ چیئرمین آباد حنیف گوہر سواتی نے کہا کہ صوبہ ہزارہ کی بات اچانک نہیں ہوئی، باقی صوبوں کی بات چند دن پہلے محسن نقوی نے اسلام آباد میں کی، بنیاد جب محسن نقوی نے رکھی تو یہاں تمام قائدین کی قرارداد دیکھیں، کے پی میں جمع قرارداد واضح کہتی ہے کہ صوبہ ہونا چاہیے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگ سہولت دینا نہیں چاہتے، اگر بٹگرام کے آدمی کو انصاف مل سکتا ہے تو اسے پشاور جانے کی کیا ضرورت ہے۔ وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ سے درخواست ہے ہزارہ صوبہ جلد بنایا جائے۔ منی پاکستان کراچی میں جتنی بڑی تعداد میں ہزارہ موجود ہیں وہ کہیں اور نہیں، اس وقت پنڈال میں 24 قبائل موجود ہیں، اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کو سائیڈ میں رکھیں، بڑے ہدف کے لیے یکجا ہونا پڑے گا۔ سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا این ایف سی ایوارڈ کے تحت جو فنڈ صوبوں کو دیے جاتے ہیں وہ ڈسٹرکٹ لیول تک نہیں پہنچتے، وہ صرف وزیر اعلیٰ کی خواہش تک پہنچتے ہیں۔ ہزارہ، مالاکنڈ سمیت متعدد علاقوں میں بہت وسائل ہیں، بجلی اپنی ضرورت سے زیادہ پیدا کر سکتے ہیں، یہ علاقے سیاحت اور معدنیات سے مالا مال ہیں، وسائل 79 سال سے دفن ہیں انہیں نکال کر عوام کی خوشحالی کے لیے استعمال کیا جائے، کے پی میں مزید دو صوبے بنیں گے، صوبوں کے قیام سے خوشحالی آئے گی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ شہزاد اعوان نے کہا ہماری پہچان پاکستان ہمارا نعرہ صوبہ ہزارہ، کراچی والوں نے ریفرنڈم کر دیا ہے، ہمارے وسائل کا فیصلہ پشاور سے نہیں ہزارہ وال خود کریں گے۔ نوابزادہ صلاح الدین نے کہا صوبہ ہزارہ اب بننے جا رہا ہے ساتھ ہی اور صوبے بھی بنیں گے، بھارت میں اقلیت مطالبے کا سوچ بھی نہیں سکتی یہاں آزادانہ مطالبہ کر سکتے ہیں، 2025 میں فوج نے بھارت کے دانت کھٹے کیے۔ خان محمد تنولی اور دیگر مقررین نے کہا ہم زبان، قومیت یا رنگ و نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی یونٹ کی بنیاد پر صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
2
4
407
Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) retweeted
Hold fast, all of you, to the cord of Allah, and be not divided. He united your hearts, making you brothers through His blessing.” — Quran 3:103 | @MirwaizKashmir
6
4
1
56
1,336
"میاں عامر محمود" سے "میاں عامر" تک کا سفر! روز نامہ دنیا کی لوح پر آغاز سے 20 اکتوبر 2026ء تک ایڈیٹر انچیف "میاں عامر محمود" شائع ہوتا رہا اور 21 اکتوبر 2026ء سے " محمود" حذف کرکے "میاں عامر" تک محدود کردیا گیا۔ اس تبدیلی کا کیا مقصد اور مصلحت ہوسکتی ہے؟ @TheFarhanAKhan
1
2
5
813
وزیراعلیٰ پنجاب کا سخت ردعمل! گزشتہ روز پنجاب کے پیٹرول پمپ میں پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" میں اردو اور انگریزی زبانوں میں اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
یہ اُن بگڑے ہوئے اور مغرور لوگوں کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو غریبوں کو اپنے سے کمتر انسان سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کر کے بچ نکلیں گے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میں مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہوں، چاہے اُن پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اُسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں، اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اُس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔ میرا عزم واضح ہے: مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کا حق نہیں دیا جا سکتا-
2
173
Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) retweeted
Faith Must Reflect in Character, Conduct and Justice: @MirwaizKashmir In Friday address, Mirwaiz stresses moral accountability, respect for people’s rights and responsible use of time Continues MMU’s Coordinated Friday Sermon Series on Imaan (Faith) Srinagar, October 23, 2026: Addressing the Friday congregation, Mirwaiz-e-Kashmir Dr Moulvi Mohammad Umar Farooq today said that faith must not remain confined to religious observances and declarations, but should be reflected in an individual’s character, conduct and dealings with fellow human beings. Continuing his discourse on Imaan (Faith), Mirwaiz reflected on the profound message of Surah Al-Asr, which emphasises the value of time and reminds humanity that true success lies in faith, righteous deeds, upholding truth and patience. Mirwaiz said that while people devote considerable energy to acquiring wealth, position and worldly success, they often neglect the more important question of how their lives are being spent. He observed that the Quranic concept of loss extends far beyond material or financial setbacks. A person may possess wealth, influence and position, yet suffer a far greater loss if honesty, compassion, justice and a sense of accountability are absent from his life. He stressed that honesty in dealings, respect for others’ rights, compassion towards the vulnerable and a commitment to justice are essential expressions of faith. These principles apply equally to those holding power and public office, where authority must be exercised as a trust, with accountability, fairness and respect for people’s dignity and legitimate rights. Expressing concern over growing materialism, the misuse of social media and the pressures confronting younger generations, Mirwaiz cautioned against the waste of precious time, particularly as hours are spent scrolling through social media and engaging in unproductive digital activities, often at the expense of education, family relationships and personal development. He urged parents, teachers and religious institutions to strengthen moral guidance and meaningful engagement with the youth. He said that in a society facing uncertainty and numerous social challenges, religious commitment must translate into personal responsibility, social compassion and a collective concern for justice and human dignity. Mirwaiz urged people to reflect on their conduct and responsibilities, emphasising that the true worth of faith is demonstrated not merely by what one professes, but by how one lives and treats others.
1
5
39
1,204
#میونسپل_کارپوریشن_گلگت! رپورٹ: #عبدالجبارناصر الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے میونسپل کارپوریشن گلگت کی آبادی، وارڈز، علاقے اور دیگر معلومات جاری کردی ہیں۔ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے میونسپل کارپوریشن گلگت کو 11 جنرل ملٹی وارڈز میں تقسیم کرکے ہر وارڈ میں آبادی کے حساب سے جنرل نشستوں کی تقسیم کیا ہے۔ ہر نشست کا اوسط کوٹہ آبادی کے حساب سے 2931 افراد بنتا ہے۔ منسلک چارٹ میں یہ تمام معلومات جمع کی گئی ہیں۔ دریں اثناء چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے 23 اکتوبر 2026ء کو گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں گلگت، اسکردو اور چلاس میونسپل کارپوریشنز کا انتخابی شیڈول جاری کردیا ہے۔ شیڈول کے مطابق 5 دسمبر 2026ء کو پولنگ ہوگی، 24 اکتوبر کو پبلک نوٹس جاری اور 26 سے 29 اکتوبر تک کاغذات نامزدگی جمع ہونگے اور 30 اکتوبر کو امیدواروں کی ابتدائی فہرست جاری، جبکہ 31 اکتوبر سے 2 نومبر تک کاغذات کی جانچ پڑتال ہوگی۔ 3 اور4 اکتوبر کو منظور یا مسترد ہونے والے کاغذات کے خلاف اپیلیں جمع اور 5 سے 10 نومبر تک ان اپیلوں پر فیصلے ہونگے۔ امیدواروں کی نظرثانی فہرست 11 نومبر کو جاری ہوگی، جبکہ کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 12 نومبر اور اسی روز امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہوگی۔ انتخابی نشانات 13 نومبر کو الاٹ اور 5 ستمبر 2026ء کو پولنگ ہوگی۔ #گلگت_بلتستان_بلدیاتی_انتخابات2026ء #GilgitBaltistanLG_Electronics2026 #FirstPhase @GBTourism_ @GBTourism_E @Rohshan_Din @ShabbirMir @CMGBPK @amjadhussainaza
1
155
قانون کا نہیں، مرنے کا خوف! از: #عبدالجبارناصر سیالکوٹ میں ایک لڑکی پر دن دیہاڑے چھیڑ چھاڑ کا شرمناک واقعہ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔ لڑکی کو اسکوٹی پر اکیلی دیکھ کر موٹر سائیکل سواروں نے راستہ روکا اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی۔ اس سنگین حرکت کی اگلی صبح ایک اور ویڈیو دونوں لڑکوں اور لڑکی کی سامنے آئی جس میں لڑکی کا کہنا ہے کہ نوجوان اس کا منگیتر تھا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کا منگیتر ہے تو وہ آپ کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا منگیتر ہونا سرراہ چھیڑ چھاڑ کا لائسنس دیتا ہے؟ کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں خواتین محفوظ نہیں ہیں؟ کیا قانون کی حکمرانی صرف کاغذی ہے؟ کیا مرنے کا خوف' قانون کے خوف سے زیادہ طاقتور ہے؟ بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ شریعت، اخلاق، معاشرے اور قانون کا کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ "مرنے کے خوف" نے نئی ویڈیو جاری کرنے پر مجبور کردیا۔
🤖 Made with AI
1
149
گلگت بلتستان بلدیاتی انتخابات شیڈول جاری! چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے گلگت بلتستان میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں گلگت، اسکردو اور چلاس میونسپل کارپوریشنز کا انتخابی شیڈول جاری کردیا ہے۔ شیڈول کے مطابق 5 دسمبر 2026ء کو پولنگ ہوگی، 24 اکتوبر کو پبلک نوٹس جاری اور 26 سے 29 اکتوبر تک کاغذات نامزدگی جمع اور 13 نومبر 2026ء کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہوگی۔ #گلگت_بلتستان_بلدیاتی_انتخابات2026ء #GilgitBaltistanLG_Electronics2026 #FirstPhase @GBTourism_ @GBTourism_E @majidsnizami @ShabbirMir @Rohshan_Din @CMGBPK @amjadhussainaza
3
5
364
Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) retweeted
صِرَاطِي مُسْتَقِيم || کلامِ حضرت شیخ نورالدین نورانیؒ || میرواعظِ کشمیر
3
29
924
Abdul Jabbar Nasir (عبدالجبارناصر) retweeted
گلگت بلتستان کے دریاؤں سے سونا کیسے نکالا جاتا ہے؟ ملاحظہ کیجیے یہ ویڈیو! اللہ تعالیٰ نے گلگت بلتستان کو صرف قدرتی حسن، لذیذ پھلوں، خوبصورت موسموں اور دلکش وادیوں سے ہی نہیں نوازا، بلکہ اس خطے کی زمین اور دریاؤں میں سونے سمیت قیمتی معدنیات کے امکانات بھی موجود ہیں۔ افسوس کہ ہمارے بہت سے پڑھے لکھے نوجوان روزگار کے لیے سرکاری ملازمتوں کے انتظار میں رہتے ہیں، حالانکہ معدنیات کے شعبے میں بھی روزگار، کاروبار اور معاشی ترقی کے بے شمار مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کے نوجوان جدید سائنسی طریقوں، تربیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق معدنیات کے شعبے میں کام کریں، اور حکومت اس شعبے کی ترقی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور سہولیات فراہم کرے، تو مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان بھی معدنی وسائل کی بہتر تلاش، شفاف انتظام اور ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے قومی معیشت کے لیے آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کر سکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو مقامی عوام کی خوشحالی، نوجوانوں کے روزگار اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
3
17
1
86
4,872
بڑا دعویٰ
مراد سعید کے حوالے سے قوم کو جلد خوشخبری ملے گی۔ مراد سعید تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرو اور مزید مفرور نہ بنو ۔ جو لوگ تم کو ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور مسلح لڑائی کا مشورہ دے رہے ہیں وہ تمہارے اور تمہاری پارٹی کے دشمن ہیں ۔
1
174
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان پارٹی قیادت سے مخاطب #AliMuhammadKhan @Ali_MuhammadPTI
2
154
#دنیا_کے_کس_ملک_میں_کتنے_پاکستانی_قیدی؟ رپورٹ: #عبدالجبارناصر قومی اسمبلی کے اجلاس میں 19 اکتوبر 2026ء کو سینیٹر طاہرہ اورنگزیب کے سوال کے جواب میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار @MIshaqDar50 نے بتایاکہ دنیا کے 68 مما لک میں نومبر 2025ء تک کے دستیاب ڈیٹا کے مطابق 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں۔ سعودی عرب میں قید 10ہزار 745 میں سے 5970 سزایافتہ اور 4775 قیدیوں کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ @GBTourism_E @GBTourism_ @majidsnizami @AzazSyed @bilalgilani @xadeejourno @CMShehbaz @murtazasolangi
3
5
496
سوالیہ نشان رویہ! ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کو سربراہ محسن رضائی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں، جن کو امریکہ نے پاکستان کے احتجاج اور ضمانت پر نشانہ نہیں بنایا۔ اس میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بنیادی کردار تھا، مگر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے ملاقات کے موقع پر رضائی کا یہ رویہ سوالیہ نشان ہے۔ بظاہر ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ کی پاکستان غصے کا اظہار ہے۔ یہ رویہ دونوں ممالک کے لیے کافی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔ اس وقت ایرانی رہنما کا رویہ عالمی سطح پر میڈیا میں زیر بحث ہے۔
2
5
10
1,325
#مشاجرات_و_فضائل_صحابہ_کرام! اہلسنت و جماعت کا مشترکہ و متفقہ موقف وہدایت نامہ اہلبیت و صحابہ کرام میں ایسا تقابل و تفاضل جس سے کسی بھی طبقے کی بے احترامی کا پہلو کسی بھی طرح کا نکلتا ہو گمراہی ہے۔ سیاسی و روحانی حوالے سے ترتیب خلافت ہی تربیت فضیلت ہے۔ مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر عوام میں بحث و مباحثہ جائز نہیں ہے، جو بھی اس موقف اور ہدایت سے ہٹ کر رائے قائم کرے وہ اہلسنت سے خارج اور گمراہ ہے، علماء کا مشترکہ موقف
1
193
نواز شریف کی بیٹی کا ٹویٹ! دعویٰ ہےکہ منسلک تصویر سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف @NawazSharifMNS کی بیٹی اسماء نواز شریف @ASNsharif کا ہے، اس ٹوئٹ میں خاتون #PMLN کے کارکنوں کو تلقین کر رہی ہیں کہ جمعیت علماء اسلام پاکستان @juipakofficial کے سربراہ مولانا فضل الرحمان @MoulanaOfficial کی کردار کشی نہ کریں کیونکہ ماضی کے مشکل حالات میں مولانا فضل الرحمان نے میاں محمد نواز شریف، مریم نواز شریف @MaryamNSharif اور ن لیگ @pmln_org کا ساتھ اور پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے۔ بظاہر یہ اکائونٹ اصلی ہے کیونکہ ٹوئٹر پر یہ اکائونٹ اکتوبر 2020ء سے متحدہ عرب امارات سے 51 ہزار سے زائد فالوورز کے ساتھ متحرک ہے اور اب تک بڑی تعداد میں ٹوئٹ ہوئے ہیں جو #PMLN اور اسکی قیادت کے حق اور سابق وزیراعظم عمران خان @ImranKhanPTI اور انکی پارٹی #PTI کے خلاف ہیں۔ خاتون نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے جو لکھا ہے اس کے معترف ن لیگ کے تقریباً تمام رہنما اور کارکن ہیں، تاہم اب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور کچھ وفاقی وزراء کا لب و لہجہ تبدیل ہے۔
بات حق اور سچ کی ہونی چاہیے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے مشکل ترین وقت میں میاں نواز شریف صاحب، مریم نواز صاحبہ اور مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا تھا۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا کارکنوں کو مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
1
1
305