معروف صحافی عاصمہ شیرازی پر بے جا تنقید اور افسوسناک ٹرولنگ کرنے والے مخصوص ذہنیت کے حامل آنکھیں کھول کر یہ ٹویٹ پڑھ لیں۔
سمجھ آئ؟
بے وقوفانہ فولورز کے ضمیر فروش رہنما آسان ہدف کو ٹارگٹ بنا کر اپنا کاروبار چلا رہے ہیں اور معصوم دماغ حقیقت سمجھنے سے قاصر، بس اندھی تقلید میں افسوسناک حرکات کرتے چلے جا رہے ہیں۔
ایمان اور ہادی کے خلاف بئیر ئیر ہٹانے کے “جُرم” میں دس دس سال کی سزا قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی بہنوں کی قید اور دوران حراست نورین نیازی کا عارضہ دل بے حد افسوسناک ہے۔ سیاست میں ذاتی عناد شامل نہیں ہونا چاہئیے۔ کل مریم نواز صاحبہ جیل میں تھیں اور آج خان صاحب کی بہنیں۔مانا کہ سیاست بے رحم ہے مگر کچھ خُدا کاخوف ضرور رکھیں ۔
Masood Chaudhary retweeted
Aslamalaikam, friends and Others.
I had taken leave from fb , X and WhatsApp gps for the month of October. Had no intentions to return earlier , but few misleading posts were circulating about stoppage of my pension and other privileges, that need to be clarified. My pension was never stopped . Most of my privileges were restored a long time back .
My efforts to remove misunderstandings between a political party and establishment will continue for the sake of creating a congenial political environment in the Country. Without this rapprochement and reconciliation, we may not be able to move forward.
International and regional environments are offering a great opportunity for possibly an upward leap. Thanks to our successful military diplomacy .
But in my assessment this great moment can only be clenched if we create internal harmony . And that requires political justice, peace , system reset and economic recovery. Good relations with neighbouring countries will also help
Only a properly elected legitimate government (that reflects aspirations of the people) and establishment combined may bring about far reaching and meaningful changes in the Political and Governance System, that no doubt has collapsed.
Any other modality of bringing about profound changes in the Governance Structure will either fail or will be annulled by future Parliament and Judiciary, whenever they establish their feet on ground.
SO WHY NOT GO FOR A PERMANENT BUT LEGITIMATE SOLUTION ? And every one knows what does that entail :
Political Reconciliation
Fair and Free Elections
Maybe a Hybrid System but led by Legitimate Political Set up. Whole of the Nation Approach.
Can we overcome our rigidity and bitterness for the sake of hapless poverty stricken masses , and make this Country great , that it richly deserves ??
I am asking all the entities involved 🌹Stronger your base, more responsibility you must shoulder for making peace.
Regards
Naeem Lodhi
29 Oct 2027
مختلف تقریبات میں سیاستدانوں کا ایک دوسرے کیساتھ ملنا عمومی بات ہے۔
ایک مخصوص سیاسی جماعت سے وابستہ کارکنان کو اگر یہ اچھنبے کی بات لگتی ہے اور انکے نزدیک یہ انکی پارٹی نظریہ کےساتھ غداری ہے تو موئدبانہ درخواست ہے کہ کسی اچھے نفسیاتی معالج سے اپنا علاج کروائیں۔
یقین کیجیے ہر وقت کی بے جا تنقید اور منفیت نہ صرف آپکو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ جہاں کہیں کوئ آپکے فائدہ کے لیے دروازہ کھلا بھی رکھنا چاہتا ہے اسکے لیے بھی آپکا رویہ تقریباً ناقابل برداشت ہو رہا ہے۔ کوئ بھی جدوجہد تنہائ میں کامیاب نہیں ہوتی۔ سخت گیر لایعنی رویہ سیاسی نظریات کا عکاس تو ہو سکتا ہے لیکن کسی بھی ذی شعور و تھوڑی بہت فہم و فراست کے حامل کے لیے قابل قبول نہیں۔
خواتین کی گرفتاری کی مخالفت کرنے والی معروف خاتون صحافی کے بارے جھوٹ پر مبنی پراپگنڈا انتہائ افسوسناک وقابل مزمت ہے
@grok کے پاس عاصمہ شیرازی کے متعلق ایسے کسی بیان کی تفصیلات موجود نہیں ہیں جیسا شہباز گل فرما رہے ہیں۔
یقین نہ آئے تو پوچھ کر چیک کر لیں۔ 😔🤷🏻♂️
اس پھ کو بتائیں کہ ویڈیوز JUI کی سوشل میڈیا ٹیم نے نکال کر پھیلائ۔ پوری ذمہ داری سے اعلانیہ بتا رہا ہوں اور دیگر تفصیلات سے بھی واقف ہوں۔ ہر معاملہ میں مخصوص نوعیت کی گفتگو انتہائ افسوسناک و قابل مزمت ہے۔
کیا ڈاکٹر صاحب کو مارکیٹنگ کے لیے رکھا ہوا ہے کہ جو زاویہ کسی کے ذہن میں بھی نہ ہو معصوم دماغوں کی توجہ اس جانب مبزول کروانے کا کارہائےنمایاں سرانجام دیں؟
تھانہ سنگجانی ایس ایچ او سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل زیر نظر ویڈیو کے معاملہ میں پیشرفت
آئی جی اسلام آباد محمد سہیل چوہدری نے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کا نوٹس لیا اور ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے ایس ایچ او تھانہ سنگجانی کو معطل کر کے ایس پی صدر زون کاظم نقوی کو معاملے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور میرٹ پر مبنی انکوائری کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کر لی، معاملے کی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی میں ملوث ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان اسلام آباد پولیس
بھاری دفاعی خریداری؛ بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے؟
تحریر و تحقیق: مسعود چوہدری
لنک: dailytulu.com/archives/36716
پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاسی جماعت ہواکرتی تھی
انصاف کی تلاش میں تحریک ہی کہیں گم ہو گئ
8 گھنٹے بند کمرے میں ایک دوسرے سے لڑائ کے بعد جاری ہونے والے اعلامیہ کا یک نکاتی خلاصہ بزبان سینیٹر مشعال یوسفزئ ہے کہ
”28 ویں ترمیم میں حمایت عمران خان کی رہائ کیساتھ مشروط ہے۔“
یاد رہے کہ 28 ویں ترمیم پر یہ پہلا اوفیشل بیان ہے جو بتا رہا ہے کہ ترمیم آ رہی ہےاور اس بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ بند کمرے کی مشاورت کا خلاصہ بھی یہی تھا کہ ترمیم آنے پر ہم نے کہاں کھڑے ہونا ہے۔ تاریخ میں ایک پارٹی آزاد پاکستان پارٹی بھی تھی جو قیامِ پاکستان کے بعد میاں افتخار الدین نے 1949ء میں مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کرکے قائم کی۔ یہ جماعت بائیں بازو کے رجحانات، سماجی اصلاحات اور عوامی حقوق کی حمایت کے حوالے سے پہچانی جاتی تھی۔ اُس دور میں میاں افتخار الدین ایک نمایاں سیاست دان اور معروف صحافی تھے۔ 1957ء میں نیشنل عوامی پارٹی کے قیام کے موقع پر دوسری بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اس میں ضم ہوگئی۔ یوں ایک اہم سیاسی و نظریاتی جماعت اپنے الگ وجود سے محروم ہوگئی۔ بعد میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی عائد کر دی، منچلوں نے نیا راستہ تلاشا اور آج کی عوامی نیشنل پارٹی اسی کی ماڈرن شکل بن کر ابھری۔ آج کا پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی کمیٹی کا اعلامیہ کل مجلس وحدت المسلمین میں ضم ہونے کی تیاری ہے اور یہ مل کر تحریک تحفظ آئین پاکستان یعنی TTAP بن چکی ہے جسکا اپنا کوئ مستقبل نظر نہیں آ رہا۔ یوں پاکستان میں مستقبل کے منظر نامے میں سنجیدہ سیاست ایک مرتبہ پھر روایتی بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے گرد ہی گھومتی دکھائ دیتی ہے۔ چند دن پہلے کورم کی نشاندہی نہ کرکے حکومت کو قانون سازی میں خاموش مدد فراہم کرنے والی تحریک انصاف کی پارلیمانی لیڈرشپ کا آج کا بیانیہ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ اگر کوئ قانون سازی کا راستہ روکے گا تو ہمارا کندھا حاضر خدمت ہے۔ مطالبات تسلیم کریں، سپیس دیں، اور مفادات حاصل کر لیں۔ لیکن اس تمام رسہ کشی کے نتیجے میں جمہور و جمہوریت کا کتنا فائدہ ہے؟ اس سوال کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔
Masood Chaudhary retweeted
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عدالتی نظام پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدلیہ کے فیصلے سازی کے عمل پر سوالات اٹھا دیے !!
ایک طرح سے عدم اعتماد کے مترادف قرار دیا۔۔
مریم نواز نے سنگین جرائم کے دو حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول پمپ پر تشدد کرنے والا ملزم اور سکوٹی سے لڑکی کو گرا کر تشدد کا نشانہ بنانے والا شخص اگلے ہی دن باآسانی ضمانت پر آزاد ہو گئے،
جس سے قانون کی بالادستی اور مجرموں میں خوف کے خاتمے کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ، جو خود بھی ایک خاتون ہیں، سے ملاقات کریں گی اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں تاکہ عدالتوں سے مجرموں کو ایسی سخت سزائیں دی جا سکیں جو آئندہ کے لیے عبرت کا نشان بنیں۔ وزیر اعلیٰ کے اس موقف نے صوبائی حکومت اور عدلیہ کے درمیان عدالتی کارروائیوں اور ملزمان کی فوری ضمانتوں کے حوالے سے ایک نیا تنازع اور بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ حکومت کا ماننا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر جب تک سخت اور دباؤ سے آزاد عدالتی فیصلوں کے ذریعے سخت سزائیں نہیں دی جائیں گی، تب تک صوبے میں امن و امان اور تحفظ کی فضا قائم نہیں ہو سکتی۔۔۔
@AzharSiddique
@masoomamiradv @SalmanKNiazi1 @Faruqniazi @SdqJaan @iAmjadKhann @Riazhaq @Masoodch06 @waqasahmadptii @Bureaucracy3533 @FatimaPTI_IK @touqeersatti65 @surrakimuhammad @zahidarao123 @NaeemPanjuthaa @MaryamNSharif
پاکستان تحریک انصاف پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شیر افضل مروت شریک نہیں
شاید کسی نے بلایا نہیں
پاکستان تحریک انصاف پارلیمانی پارٹی کا 2:30 PM پر شروع ہونے والا گرما گرم اجلاس 9:30 PM پر بھی جاری
7 گھنٹے سے جاری اجلاس سے پہلا مصدقہ نتیجہ موصول
گرما گرمی کے بعد فیصل امین گنڈا پور ناراض ہو کر اجلاس چھوڑ کر روانہ، بیرسٹر گوہر آوازیں دیتے رہ گئے
Masood Chaudhary retweeted
بات کریں گئے فیصل امین سے صحافی کا سوال؟
باقی لوگ آرہے ہیں وہ بات کریں گئے وہ انقلاب لائیں گئے فیصل امین گنڈا پور کا جواب
سینیٹ اجلاس شروع
اسلام آباد۔ایوان بالا(سینیٹ) میں کورم پورانہ ہونےپرکاروائ نہ چل سکی۔
سینیٹرعبدالقادرکی زیرِصدارت سینیٹ کااجلاس شروع ہوا
ایجنڈاآئٹم نمبر1تلاوت ونعت کےبعدسینیٹر شہادت اعوان نے کارروائی شروع ہونےپراظہارِ خیال کرتےہوئےکہا
”ہم شروع توکرلیں،لیکن کیاجواب پریاں دیں گی،کیونکہ باقی اورکوئی توہےنہیں یہاں۔“
اجلاس آدھے گھنٹہ کے لیے موخر ہو گیا۔
27 اکتوبر یوم سیاہ، قومی اسمبلی و سینٹ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں قرارداد متفقہ طور پر منظور
اسلام آباد۔ایوان بالا(سینیٹ) میں کورم پورانہ ہونےپرکاروائ نہ چل سکی۔
سینیٹرعبدالقادرکی زیرِصدارت سینیٹ کااجلاس شروع ہوا
ایجنڈاآئٹم نمبر1تلاوت ونعت کےبعدسینیٹر شہادت اعوان نے کارروائی شروع ہونےپراظہارِ خیال کرتےہوئےکہا
”ہم شروع توکرلیں،لیکن کیاجواب پریاں دیں گی،کیونکہ باقی اورکوئی توہےنہیں یہاں۔“
اجلاس آدھے گھنٹہ کے لیے موخر ہو گیا۔
لاہور ۔ تھانہ چونگ ۔ 14 سالہ م کیساتھ ندیم نامی عادی مجرم نے ریپ کر دیا۔ ندیم پر پہلے ہی 9 ایف آئ آرز درج ہیں۔
حکومت کی نئ آٹو پالیسی سے معاشی استحکام بڑھے گا؟
مسعود چوہدری
لنک: dailytulu.com/archives/36711
















