Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994) profile picture

Mining Engineer

Lahore, Pakistan
Joined May 2019
Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)Photo by Rana Zoraiz Yalmaz (@Zoraiz994)
If there is one shameless nation in the world, it is India. China's troops reportedly advanced 6 or 7 kilometers into Arunachal Pradesh and took up positions there. But their government is so cowardly that it won't even mention China by name, stupid psychopath nation. #India
86
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
O Allah, expose the truth, protect us from deception and backbiting, guide those who speak against us , and grant us patience, dignity, and justice. Ameen
7
12
66
3,121
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
A mosque in North India is bulldozed because they found 'I love Mohammed' posters from the mosque. Countries are busy making schools, universities, hospitals, bridges meanwhile we are busy demolishing mosques.
14
116
4
186
3,468
The Pakistan Army is rapidly modernizing its structure and inducting high-end equipment into its military. Whenever Indians hear about this, they immediately assume it's impossible and claim that Pakistan won't even be able to fire a bullet. 🤣. The mentally unstable people!
209
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
بھارت افغانستان کی مدد کی آڑ میں پاکستان میں عدم استحکام میں ملوث ہے، عاصم افتخار
10
53
362
7,239
Every Muslim should keep this in mind before being influenced by the views, opinions, or propaganda of any individual they admire or consider an ideal.
139
Indians are incorrigible. They are spoilers of peace in the subcontinent.
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan on India-Türkiye relations: If India is going to be resentful about any country having good relations with Pakistan, there are many such countries. We have no problem on a bilateral level with India and we urge India not to read the issue from a different perspective.
1
134
Indians seem to have a peculiar obsession, constantly sniffing around for anything happening in Pakistan. A single piece of news gets spun into a hundred different angles, with narratives built around it and facts often distorted. They have become a burden on the subcontinent.
80
The intellectual decline in India has become so severe that there appears to be no distinction between the thinking of the educated and the uneducated, the young and the old. A general will say the same things that an ordinary (Chapri) YouTuber says.
1
100
Hindus keep taunting Muslims by saying, "You were Hindus a few hundred years ago." If history matters, then go to the very beginning. Prophet Adam (A.S.) was the first human and the first Muslim. Islam did not start later, it began with humanity itself.
3
189
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
نیتن یاہو بچوں کا قاتل ہے
“ہمیں غزہ میں ایک اجتماعی قبر ملی جس میں 300 لاشیں تھیں۔ چھوٹے بچوں کو اُن کے ہاتھ پیچھے باندھ کر قتل کیا گیا تھا۔” فرانسیسی امدادی کارکن
170
3,772
42
8,615
118,304
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا اور پچاس ویں امام، "پرنس شاہ رحیم آغا خان"، اس وقت پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کا استقبال کسی ملک کے صدر یا وزیرِ اعظم کی طرح ریڈ کارپٹ، گارڈ آف آنر اور 21 توپوں کی سلامتی جیسے روایتی شاہی پروٹوکول سے کیا گیا ہے۔ صرف پاکستان میں ہی ایسا نہیں ہوا، دنیا کے اکثر ممالک انہیں "سربراہِ مملکت" (Head of State) کے برابر پروٹوکول اور سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) دیا جاتا ہے۔ یہاں سوال جنم لیتا ہے کہ ایک ایسی شخصیت جس کے پاس کوئی خطہِ زمین ہے نہ کوئی اپنی فوج، وہ عالمی سیاست مین کوئی کردار رکھتی ہے، وہ اس مقام تک کیسے پہنچی؟؟ اس راز کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے بند پَردوں کو ہٹا کر اس داستان کے تانے بانے دیکھنا ہوں گے۔ اسماعیلی، اہل تشیع کی ایک اہم شاخ ہیں۔ آٹھویں صدی عیسوی میں چھٹے امام، حضرت جعفر صادقؑ کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اسماعیل بن جعفر کی پیروی کرنے والے "اسماعیلی" کہلائے۔ تاریخ میں ان کا سب سے سنہری دور "خلافتِ فاطمیہ" تھا، جس نے مصر، شمالی افریقہ اور شام پر صدیوں تک حکومت کی اور قاہرہ کی مشہورِ زمانہ "الجامعۃ الازہر" کی بنیاد انہوں نے ہی رکھی تھی۔ اس حکومت کا خاتمہ صلاح الدین ایوبی ک ہاتھوں ہوا تھا۔ بعد میں یہ ایران منتقل ہو گئے، صفوی دور حکومت میں معتوب رہے، اور صدیوں بعد، انیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان ایران کے شاہی دربار سے وابستہ ہوا۔ 1818ء میں ایران کے "قاجار بادشاہ"، فتح علی شاہ نے اسماعیلیوں کے 46 ویں امام، حسن علی شاہ کو اپنا دماد بنایا اور پہلی بار "آغا خان" کا شاہی لقب دیا۔ لیکن یہ تعلقات جلد ہی ایک بڑے جغرافیائی اور سیاسی تنازع کی نذر ہو گئے۔ ایران کی قاجار حکومت اور آغا خان اول کے درمیان جھگڑے کی اصل بنیاد انکے برطانوی سلطنت (انگریزوں) کے ساتھ بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات بنے۔ یہ وہ دور تھا جب برطانوی سلطنت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو پھیلا رہی تھی اور ایران اس نوآبادیاتی طاقت کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا تھا۔ آغا خان اول کے انگریزوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے قاجار دربار میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے، جس کے نتیجے میں اختلافات اتنے بڑھے کہ مسلح تصادم کی نوبت آ گئی۔ ایران میں اپنے سیاسی حریفوں سے شکست کھانے کے بعد آغا خان اول کو 1840ء کی دہائی میں ایران چھوڑ کر افغانستان اور پھر وہاں سے برطانوی ہندوستان ہجرت کرنی پڑی، یہ وہ دور تھا جب انگریز ہندوستان پر اپنے پاؤں جما رہا تھا اور اسے سندھ اور سرحد (کے پی کے) میں وفاداروں کی ضرورت تھی۔ آغا خان اول نے برطانوی افواج کی فوجی اور سیاسی مدد کی، جس کے بدلے انگریز حکومت نے انہیں نہ صرف پناہ دی بلکہ "ہز ہائینس" (His Highness) کا شاہی خطاب دے کر بمبئی (موجودہ ممبئی) میں مستقل طور پر آباد کر دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں یہ خاندان انگریزوں کی سرپرستی میں برصغیر کے مسلمانوں کا بااثر رہنما بن کر ابھرا۔ سرسید کی تعلیمی مہم میں آغا خان سوئم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور علیگڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے اداروں کے قیام میں کردار ادا کیا۔ آغا خان سوم (سر سلطان محمد شاہ) کو 1906ء میں قائم ہونے والی "آل انڈیا مسلم لیگ" کا پہلا مستقل صدر بنایا گیا۔ شملہ میں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے وائسرائے سے ملاقات کی۔ گول میز کانفرنسوں میں بھی مسلمانوں کی نمائندگی میں پیش پیش رہے۔ چونکہ وہ انگریزوں کے بہت قریبی اور معتمد تھے، اس لیے انہیں عالمی سطح پر برطانوی راج کی سرپرستی حاصل رہی۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد، جب خلافتِ عثمانیہ اور ینگ ترکس کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ تھے، تو انہی آغا خان سوئم نے ینگ ترکس (Young Turks) کے نمائندے اور ترکی کے وزیرِ اعظم عصمت انونو کو خط لکھ کر "خلافت کو برقرار رکھنے" کی اپیل کی۔ "مصطفیٰ کمال" (اتاترک) نے آغا خان کے انگریزوں کے ساتھ گہرے روابط کی بنیاد پر وجہ سے اس خط کو "برطانوی سازش" اور "ترکی اندرونی معاملات" میں مستقل مداخلت کی راہ قرار دیا، اور پھر اسی خط کو بہانہ بنا کر مارچ 1924ء میں خلافت کے خاتمے کا اعلان کر کر دیا۔ موقف اختیار کیا کہ جب تک خلاف کا دارہ قائم رہے گا برطانوی ایجنٹوں کی مداخلت ختم نہیں ہو سکے گی۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں اس خاندان نے اپنی رہائش اور سرمائے کا رخ برصغیر اور برطانیہ سے موڑ کر فرانس کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ برطانیہ کے بجائے فرانس کو اپنا مستقل مسکن بنانے کے پیچھے گہری سٹریٹجک اور ذاتی وجوہات تھیں۔ برطانیہ اس وقت ایک بڑی نوآبادیاتی طاقت تھا اور وہاں رہ کر کام کرنے کا مطلب یہ ہوتا کہ آغا خان خاندان دنیا بھر میں موجود اپنے مریدین (جو مختلف نوآبادیات میں پھیلے ہوئے تھے) کی نظر میں برطانوی پالیسیوں کا رنگ الیکٹڈ نظر آتا۔ فرانس نے انہیں ایک ایسا "غیر جانبدار" اور بین الاقوامی پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ کسی ایک سیاسی بلاک کا حصہ بنے بغیر اپنے عالمی نیٹ ورک کو چلا سکتے تھے۔ مزید برآں، فرانس کا ماحول، وہاں کی اشرافیہ کا طرزِ زندگی اور پیرس کی عالمی سفارتی مرکزیت اس خاندان کے عالمی وژن کے عین مطابق تھی، جس کے لیے یہ خاندان منتقل طور پر فرانس منتقل ہوگیا۔ پیرس کے مضافات "ایگلیمو اسٹیٹ" (Aiglemont estate) میں ان کا مستقل ہیڈکوارٹر اور عالیشان شاہی محل قائم ہوا۔ یہیں سے مغرب اور خاص طور پر فرانس کا وہ دوہرا معیار اور منافقت کھل کر سامنے آتی ہے جو موجودہ عالمی نظام کا خاصہ ہے۔ فرانسیسی حکومت اپنی سخت ترین سیکولر پالیسیوں (Laïcité) کے تحت عام مسلم تارکینِ وطن، پناہ گزینوں اور غریب مسلمانوں کے خلاف انتہائی سخت قوانین نافذ کرتی ہے۔ وہاں حجاب پر پابندی لگائی جاتی ہے، داڑھی یا روایتی مسلم شناخت کو عوامی مقامات پر جرم کی طرح دیکھا جاتا ہے اور مسلم کمیونٹیز کو پسماندہ رکھنے کے لیے ریاستی قوانین کا سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن جب باری کسی کھرب پتی مذہبی پیشوا کی آتی ہے، تو یہی سیکولر قوانین موم کی ناک بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ فرانس جیسے سیکولر ملک میں بیٹھ کر اپنی مذہبی پیشوائی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں چلاتے ہیں، اور اس پر فرانس کے سخت ترین سیکولر قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔مغرب کا یہ دوہرا معیار ثابت کرتا ہے کہ ان کے ہاں قانون، تہذیب اور سیکولرازم کی پابندیاں صرف غریب اور کمزور مسلمانوں کے لیے ہیں، جبکہ ارب پتی اور بااثر شخصیات کے لیے تمام قوانین اور نظریات یکسر بدل دیے جاتے ہیں۔ آغا خان فیملی کا شمار فرانس کے سب سے بڑے ٹیکس دہندگان میں ہوتا ہے، وہ وہاں کے مہنگے ترین ریمپ اور گھوڑوں کی ریس کے فارمز کے مالک ہیں، اور ان کا سرمایہ فرانسیسی معیشت کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ فرانسیسی اعلیٰ اشرافیہ کا ناگزیر حصہ مانے جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں پرنس شاہ رحیم آغا خان "سربراہِ مملکت" کا پروٹوکول ملتا ہے۔ ان کا کھربوں ڈالر پر محیط "آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک" (AKDN) ہے۔ یہ نیٹ ورک دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت اور مائیکرو فنانس کے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کی حکومتوں کے ساتھ باقاعدہ دو طرفہ سفارتی معاہدے کر رکھے ہیں، جس کے تحت انہیں ایک خودمختار ریاست کی طرح حقوق اور سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ دنیا کے سیاسی ایوانوں میں عزت اور پروٹوکول حاصل کرنے کے لیے زمین کی سرحدوں سے زیادہ دولت، اچھے تعلقات اور اسمارٹ ڈپلومیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مغرب اور مشرق کا کوئی فرق نہیں۔
16
97
2
384
58,722
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
زیر نظر کمنٹ میں موجود غلط فہمی،، عمومی طور پر بھارتی میڈیا زیادہ دیکھنے والوں، اور آر ایس ایس سے متعلقہ وٹس ایپ گروپ میں شامل افراد میں اکثر پائی جاتی ہے۔ کیوں کہ بھارت میں مسلمان دشمنی کے جواز میں اس کو بطور دلیل کثرت سے پیش کیا جاتا ہے۔ آئیے اس کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ برصغیر کی پاکستان اور بھارت میں تقسیم محض جغرافیائی سرحدوں کا تعین نہیں تھا، بلکہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی، تیز رفتار اور المناک ہجرت کا وہ باب تھا جس نے کروڑوں نفوس کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ 1947ء کے اس عظیم تبادلہِ آبادی کے دوران تقریباً 12 سے 20 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے، جبری ہجرت کے اس طوفان نے پنجاب اور سندھ کی سماجی و آبادیاتی ہیئت مکمل طور پر تبدیل کر دی تھی۔ خصوصا پنجاب میں جبری ہجرت کا یہ منظرنامہ سب سے زیادہ خونی اور ہولناک ثابت ہوا تھا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق متحدہ پنجاب کی کل آبادی 3.43 کروڑ تھی، جس میں مسلمانوں کا تناسب 53.2 فیصد، ہندو 29.1 فیصد اور سکھ 14.9 فیصد تھے۔ تقسیم کے وقت جب لکیر کھینچی گئی تو مغربی پنجاب سے تقریباً 47 لاکھ ہندو اور سکھوں کو مشرقی پنجاب (بھارت) کی طرف ہجرت کرنا پڑی تھی، جبکہ دوسری جانب مشرقی پنجاب سے 65 لاکھ مسلمانوں اپنی متاعِ حیات چھوڑ کر مغربی پنجاب (پاکستان) کی جانب زبردستی دھکیلا گیا تھا۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا تبادلہ تھا جس میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 12 لاکھ سے زائد لوگ سرحد پار کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اس جبری منتقلی کے نتیجے میں پاکستانی پنجاب میں غیر مسلم آبادی تقریباً ختم ہوگئی، جبکہ بھارتی پنجاب میں مسلمانوں کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی تھی۔ اسی طرح تقسیم سے قبل سندھ کی کل آبادی 45 لاکھ سے زائد تھی جس میں ہندو آبادی کا تناسب 27 فیصد تھا اور وہ زیادہ تر کراچی، حیدرآباد اور سکھر جیسے بڑے شہروں میں آباد تھی۔ تقسیم کے ابتدائی چھ ماہ میں ہی تقریباً 12 لاکھ سندھی ہندو بحری جہازوں اور ٹرینوں کے ذریعے بھارت ہجرت کر گئے، یہ ہجرت زیادہ تر خوف کی بنیاد پر ہوئی تھی، اس میں پنجاب جیسی مار کاٹ نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بدلے موجود بھارت کے یو پی، دہلی، راجستھان اور مہاراشٹر سے تقریباً 14 لاکھ اردو بولنے والے مسلمان ہجرت کر کے سندھ کے شہری مراکز میں آباد ہوئے۔ ان میں کچھ خوف، کچھ مار کاٹ اور کچھ محض نئی اسلامی مملکت کا حصہ بننے کے لیے ہجرت کر کے آئے تھے۔ اس بڑی منتقلی کے بعد سندھ میں ہندوؤں کی شرح محض 9 فیصد تک رہ گئی، جو اب زیادہ تر تھرپارکر جیسے علاقوں تک محدود ہے۔ یہ اعداد و شمار گواہ ہیں کہ 1947ء کے اس تلاطم نے صدیوں سے قائم انسانی بستوں کو ہمیشہ کے لیے ایک نئے سیاسی اور مذہبی ڈھانچے میں ڈھال دیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان میں ظلم کی وجہ سے اقلیتوں کی آبادی کم ہوئی سراسر غلط ہے۔ یہ آبادی کا تبادلہ پاکستان کے موجودہ خطے پر نئی حکومت کے مکمل کنٹرول سے پہلے ہو گیا تھا۔ پاکستان کے اندر آج تک نہ ہی بھارت کی طرح اقلیتوں کے خلاف منظم فسادات ہوئے ہیں۔ نہ ہی اقلیتیوں کے مذہبی معاملات میں حکومت بھارت کی طرح مداخلت کرتی ہے۔ انفرادی واقعات کمزور طبقات کے خلاف ہوتے ہین، اس میں مسلمان اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔
3
11
31
997
The effects of Pakistan's Victory in the May 2025 war are beginning to show. Even RSS-linked voices, who over the past decade acted as if Pakistan was irrelevant and not worth engaging with, are now calling for dialogue and engagement with Pakistan.
1
70
Disgusting Indian Society
بھارت کا یہ مکروہ چہرہ دنیا کو فرض سمجھ کر دکھائیں! ہندوتوا غنڈوں کے ہجوم نے مسلمان نوجوان پر تھوکا ، اُسکے جسم پر گوبر اور سیاہی مل دی، اُس سے تشدد کر کے زبردستی 'جے شری رام' کے نعرے لگوائے اور پھر اُسے پورے شہر میں گھمایا اسکا جرم؟ مسلمان ہونا
61
Rana Zoraiz Yalmaz retweeted
Indian Muslims 💔 This woman says she's been se*ually ass*ulted by Ajmer Police during a raid on her home.
129
1,087
30
2,088
24,391
Hindus say that they never carried out attacks outside their land, whereas India itself was never truly one unified entity. It only became united during Emperor Ashoka’s time around two thousand years ago, and later again during the Mughal era under Aurangzeb.
1
29
Yet they consider themselves very peace-loving. If you study their history, they were extremely brutal. They had enslaved people and divided humans into caste systems. Muslims came and made them recognize humanity and equality.
26
When the U.S.-Iran war began, Indians accused Pakistan of betraying Iran and siding with America. Now, after CBS News reports, now Indians are accusing Pakistan of betraying America and supporting Iran. Indians need psychologists, they have serious mental health issues.
39