aaisha javed retweeted
جب رانا ثناء اللہ یہ کہتا ہے کہ عمران خان کی بہنیں اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ افغانستان اور بھارت سے آنے والی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے راستے میں رکاوٹ ہیں، تو مجھے اس شخص کی سیاست سے محض اختلاف نہیں ہوتا، مجھے اس کی سوچ سے شدید نفرت ہوتی ہے
جب عاصمہ شیرازی اس رجیم کے مظالم کا دفاع کرتے ہوئے، ظالموں کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ وہ مقبول بیانیے کی مخالفت کر رہی ہیں، تو مجھے ان کی صحافت یا رائے سے محض اختلاف نہیں ہوتا، مجھے اس منافقت سے گھن آتی ہے
جب فیصل کریم کنڈی، مراد سعید کی بزرگ ماں کو رات کے پچھلے پہر گھر سے نکالنے کا دفاع کرتے ہوۓ سینہ تان کر کہتا ہے کہ ہم پھر ایسا کریں گے، کیونکہ مراد سعید ایک اشتہاری ہے، تو مجھے اس شخص کے سیاسی موقف سے اختلاف نہیں ہوتا، مجھے اس کے رویے میں ظلم، بے حسی اور انسانیت کی تذلیل نظر آتی ہے
میں اس رجیم کے مظالم کو جائز قرار دینے والوں کو محض سیاسی مخالف نہیں سمجھتا میں ظلم کے سہولت کاروں کو، ظالموں کے لیے جواز تراشنے والوں کو اور مظلوموں کی تذلیل پر فخر کرنے والوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں
مجھے تمہاری سیاست سے اختلاف نہیں، تمہاری بے حسی سے نفرت ہے، مجھے تمہارے نظریات سے اختلاف نہیں، تمہارے ظلم کے دفاع سے گھن آتی ہے بے شک میری آواز بہت چھوٹی ہے لیکن میں تمہارے اس کردار کو ہر جگہ، ہر محفل میں، ہر پلیٹ فارم پر بے نقاب کروں گا
aaisha javed retweeted
Replying to @HamidMirPAK
سالک صاحب ، شورش صاحب ، ظفر صاحب نے جو کچھ کیا وہ آجکل شرارتی صاحب ، بلال اے آئی صاحب ، ابوبکر صاحب ، انواع و اقسام کے نامی و بے نامی ، اوورسیز اور انڈر سیز اکاونٹس کررہے ہیں۔ یعنی سچ بولنا اور بغیر کسی لالچ کے سچ بولنا۔ جسے آپ آجکل صحافت سمجھ رہے ہیں اسے سادہ زبان میں ملازمت کہتے ہیں جس میں سچ اپنی تنخواہ ، سیٹھ کی بندشوں اور فوج کی تابعداری تلے دب جاتا ہے۔ جس چیز کو آپ غلطی سے صحافت سمجھ رہے ہیں یہ بنک مینجر ، سیلز مین ، کلرک ، ٹیکنیشن ٹائپ کی کوئی بھی پرائیویٹ جاب ہے۔
سیٹھ کے لیے اپنی بیکری کا مینجر ، اپنے چینل کا اینکر ، اپنے کالج کا پی ٹی ٹیچر ، اپنے اخبار کا نمائندہ اور اپنی بلڈنگ کا چوکیدار ایک جیسی اہمیت کے حامل ہیں کہ سب تنخواہ کے لیے اسکے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔
aaisha javed retweeted
"پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کوئی نئے نہیں ہیں۔ میرے خیال میں، اب ان تعلقات نے ایک ایسی شکل اختیار کر لی ہے جس کے ذریعے ہم امید کرتے ہیں کہ مختلف معاملات پر پاکستان کے فیصلوں پر زیادہ اثر و رسوخ ڈال سکیں گے۔"
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ بیان بھارت میں بیٹھ کر دیا اور اسکے اس بیان کے بعد ثابت ہو گیا کہ قابض مجرم رجیم پاکستان اور پاکستانیو کو امریکہ کے ہاتھوں بیچ چکی ہے۔ پاکستان پر زائننسٹ کا قبضہ ہو چکا ہے۔ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ اب صرف سفارتی تعلقات نہیں بلکہ وہ پاکستان کے ہر ادارے کی پالیسی سازی اور فیصلوں پر بھی اثر رسوخ رکھتا ہے۔ نیٹلی بیکر کی
آنیاں جانیاں دھیان میں رکھیں ۔۔
aaisha javed retweeted
📍Lahore — 1997 🇵🇰
22 years old Jemima Khan speaking to an election rally in a flawless Urdu in just her 2nd year in Pakistan.
aaisha javed retweeted
آج کل ہمارے کچھ سینئر صحافی "آزادی صحافت" پر لیکچر دے رہے ہیں،
یہ وہی لوگ ہیں جو نواز شریف کی تقریر TV پر نشر کرنے پر پابندی لگنے پر فوری طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ بھاگے اور اس پابندی کو چیلنج کر آئے۔
آج عمران خان بےگناہ ہونے کے باوجود سوا تین سال سے ناحق جیل میں قید ہیں لیکن اس لاقانونیت کے خلاف ان کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔
پھر یے روتے ہیں کہ ہمیں "نیوٹرل" صحافی مانا جاۓ اور ہماری منافقت کو "تجزیہ" سمجھ کر تسلیم کیا جاۓ اور داد دی جاۓ۔
aaisha javed retweeted
Suicide. Drug addiction. Alcoholism. Gambling addiction. Gang violence. Look at the countries with the highest rates: Yet #Islam is still portrayed as “the problem”? The facts say something else:
aaisha javed retweeted
⚡️JUST IN: Iran has now Redirected its LPG exports from Pakistan to Afghanistan, where it continues on to China
Iranian Billionaire Babak Zanjani states that his company will no longer sell cheap Liquefied Petroleum Gas to Pakistan, even if the borders were to reopen
He also notes that the price of 12-kg LPG cooking gas cylinder will rise to 10,000 Pakistani rupees ($36)
aaisha javed retweeted
مکہ معاہدے کے خلاف احتجاج ۔🚩🚩
ترکی کے لوگ اپنی فوج کو سعودیہ ،اسرائیل امریکہ کے لیے استعمال کرنے پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ترکی کی عوام چاہتی ہے کہ ہماری فوج امریکہ اسرائیل کی اشارے پر نہ چلے ۔
یہی اگر پاکستان میں ہوتا تو یہاں مولیوں نے غداری کے فتوے لگا دینے تھے
aaisha javed retweeted
نصرت جاوید @javeednusrat کی صحافتی قحبہ گری اور "نفسیاتی دہشت گردی" کا بھیانک چہرہ ہے۔ جو شخص اپنے قلم کو طاقت کے ایوانوں، غاصبوں اور فسطائیت کے قدموں میں بیچ چکا ہو، اس سے حیا، غیرت اور حق گوئی کی توقع رکھنا صحافت کی توہین ہے۔
خود اپنے قلم کی آزادی اغوا کرنے والوں کے حوالے کرچکا ہے ("ادارەی بقا کے لیے مجبور ہوں")، اور اب وہ قاری کو بھی یہی درس دے رہا ہے کہ وہ بھی اپنے قاتلوں اور غاصبوں سے محبت کرنا سیکھ لے۔ یہ کلاسک اسٹاک ہوم سنڈروم (Stockholm Syndrome) کی تشہیر ہے۔
بزدلی اور غلامی کو "دانشمندی" اور "حقیقت پسندانہ رویہ" کا نام دے کر معاشرے کی اخلاقیات کو مسخ کرنا۔
یعنی جس قلم کو حق کی ڈھال بننا تھا، اسے اس نے پیٹ کی آگر اور بوٹ پالشی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ زرد صحافت کا وہ گند ہے جو قوم کو یہ سمجھانے پر تلا ہے کہ جبر کے سامنے سر جھکا دینا ہی "دانشمندی" ہے۔
@javeednusrat کے حالیہ کالم محض سیاسی تجزیے نہیں بلکہ قوم کو بزدلی، غلامی اور مصلحت پسندی کے اندھیروں میں دھکیلنے کی ایک باقاعدہ "نفسیاتی دہشت گردی" (Psychological Terrorism) ہیں۔
یہ زرد صحافی اپنے کالموں میں کبھی 1993ء کا رونا روتا ہے تو کبھی 1999ء کی مثالیں دے کر پاکستانی عوام کو یہ زہر پلانے کی ناپاک کوشش کرتا ہے کہ
"مزاحمت بے سود ہے، غاصبوں کے آگے جھک جاؤ، اور اپنے آئینی و جمہوری حق کو بھول کر 100 دن کی بحالی کی بھیگ مانگ لو!"
1993ء اور 1999ء کی مثالیں دے کر عوام کو طعنے دیتا ہے کہ
"سہیل آفریدی کی اسلام آباد آمد کاوشِ کارِ بے سود ثابت ہوگی" تاکہ لوگ اپنے آئینی حق کے لیے نکلنا چھوڑ دیں۔
یہ شخص تجزیہ نگاری کا برقع اوڑھ کر حقیقت میں "سیکھی ہوئی بے بسی" (Learned Helplessness) کی وبا پھیلا رہا ہے
نفسیات میں اسے Learned Helplessness کہتے ہیں، یعنی
قاری کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ "تم چاہ کر بھی کچھ نہیں بدل سکتے، اس لیے مزاحمت چھوڑ دو اور ظلم کو قبول کر لو"۔
تاکہ پاکستان کی غیرت مند عوام اور تحریک انصاف کے کارکنان اپنے رب کی دی ہوئی عزت اور آئینی حق کے لیے کھڑے ہونے کے بجائے غلامی کا طوق گلے میں ڈال لیں۔
ایک طرف عوام کا مینڈیٹ چھینا جا رہا ہے، اور دوسری طرف مصنف اس ظلم کو جمہوریت کی "ارتقائی غلطی" کہہ کر مظلوم کو ہی قصوروار ٹھہراتا ہے۔ یہ کلاسک گیس لائٹنگ ہے جس کا مقصد شکار کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس کی اپنی نااہلی کی وجہ سے اس کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے۔
کے پی اسمبلی کی معطلی پر لکھتا ہے کہ ارکان
"سہیل آفریدی @SohailAfridiISF کے بجائے کسی اور 'ذمہ دار' کو منتخب کرنے پر متفق ہو جائیں..." تاکہ 90 دن بعد اسمبلی بحال ہو سکے، یعنی کھلم کھلا @ImranKhanPTI عمران خان سے غداری اور اسٹیبلشمنٹ کی دلالی کی ترغیب دے رہا ہے!
بار بار یہ فقرہ دہرانا کہ "تمہارے اپنے ساتھی ہی تمہیں بیچنے کی تیاری کر رہے ہیں"، پارٹی کے اندر گہرا عدم اعتماد اور شک پیدا کرتا ہے۔
مقصد صرف صفِ اول اور کارکنوں کے درمیان باہمی اعتماد کو تباہ کرنا تاکہ اندرونی پھوٹ سے تحریک خود بخود دم توڑ جائے۔
@javeednusrat جیسے بے غیرت، کوفی صفت اور مصلحت پسند قلم کار یہ بھول چکے ہیں کہ لا إله إلا الله کا نعرہ لگانے والا سچا مسلمان اور مومن کبھی کسی فرعون، یزید یا وقت کے جابر کے آگے سر نہیں جھکاتا!
قرآن و سنت کا واضح پیغام ہے کہ
ظلم کے سامنے تسلیم ہو جانا اور باطل کو قبول کرنا منافقت کی نشانی ہے، مومن کی صفت نہیں۔
قرآن مجید مومن کو بزدلی، خوف اور جبر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے روکتا اور نڈر ہو کر حق پر ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔
نصرت جیسے زرد صحافیوں کے یہ مضامین اور تحریریں دراصل قوم کو ظالم اور غاصب نظام کی بندگی پر مجبور کرنے کا ایک گہرا ملٹری-میڈیا برین واشنگ ڈرامہ ہیں۔
لیکن جو لوگ لا إله إلا الله پر سچا ایمان رکھتے ہیں، وہ ان سطور کے درمیان چھپی ہوئی غداری، کوفی فکر اور منافقت کو لمحوں میں پہچان لیتے ہیں۔ إله إلا الله پر ایمان رکھنے والا مومن کبھی وقت کے فرعونوں کے آگے سر نہیں جھکاتا!
باطل کے سامنے گھٹنے ٹیکنا اور مصلحت پسندی اپنانا منافقوں کا کام ہے۔
aaisha javed retweeted
برین ڈرین؟ نہیں ہے
یہ برین گین ہے
یہ فکری زوال کی علامت ہے کہ ہمارے خود ساختہ دانشور اور لکھاڑی آج بھی "برین ڈرین" کی بات کرتے ہیں۔ جو بھی پاکستان چھوڑتا ہے، وہ نقصان نہیں، فائدہ ہے، کیونکہ وہ باہر جاتا ہے، سیکھتا ہے، اور
واپس آ کر خدمت کرتا ہے۔
آصف حسن اس کی ایک مثال ہیں۔ ان کی کہانی پڑھیے۔ وہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں تھے جب میں این ای ڈی سے سڑک پار کر کے وہاں جایا کرتا تھا، اور ہم میں سے بہت سوں کی طرح وہ بھی باہر چلے گئے۔ اسے برین ڈرین کہا جاتا ہے۔ مگر دیکھیے انہوں نے باہر کیا حاصل کیا، اور آغا خان یونیورسٹی میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر وطن کو کیا لوٹا رہے ہیں۔
وہ اکیلے نہیں۔ پروفیسر ادیب رضوی نے باہر تربیت پائی اور وطن آ کر ایس آئی یو ٹی بنایا۔ لاہور کا پی کے ایل آئی دیکھیے، گمبٹ دیکھیے، ہمارے امراضِ قلب کے مراکز دیکھیے۔ یہ سب ان ڈاکٹروں نے بنائے جو باہر گئے، تربیت پائی، واپس آئے، اور فضیلت کے ادارے قائم کیے۔ گردے اور جگر کی بیماری کبھی غریب پاکستانی کے لیے موت کا پیغام تھی۔ آج اس کا علاج وطن میں ہوتا ہے۔
یہ برین گین ہے، برین ڈرین نہیں۔
ہر بات کو سیاست مت بنائیے۔ زندگی کی بنیادی باتیں سیکھیے۔ اور جب کسی بات کا علم نہ ہو، تو بہک مت جائیے۔
دھڑکنوں میں ناپی گئی زندگی
تقریباً نصف صدی بعد، میں اسی نوجوان کو 2026 کے پرائیڈ آف برٹن لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازے جاتے دیکھ رہا ہوں
جو انسانیت کی غیر معمولی خدمت کے لیے برطانیہ کے سب سے دل کو چھو لینے والے عوامی اعزازات میں سے ایک ہے۔
اور جب میں آصف کی کامیابیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو ان کی خدمات کی وسعت مجھے حیران کر دیتی ہے۔
چار ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن۔ تقریباً تین ہزار بطور مرکزی سرجن۔ اپنے کیریئر میں لگ بھگ چار سو ہارٹ ٹرانسپلانٹ۔ تین دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ برطانیہ کے سب سے زیادہ بیمار بچوں کے لیے وقف۔
یہ غیر معمولی اعداد ہیں۔ مگر ہر عدد کے پیچھے ایک انسان ہے۔ ایک سہما ہوا بچہ۔ ایک بے قرار ماں۔ آپریشن تھیٹر کے باہر انتظار کرتا ایک باپ۔ ایک خاندان جو ایک اور کل کے لیے دعا کر رہا ہے۔
آصف نے 1979 میں ڈاؤ میڈیکل کالج سے گریجویشن کی۔ پھر وہ برطانیہ گئے، 1984 میں رائل کالج آف سرجنز ایڈنبرا کی فیلوشپ حاصل کی، اور 1994 میں کارڈیوتھوراسک سرجری میں مزید اسپیشلسٹ قابلیت حاصل کی۔
انہوں نے جنرل سرجری، پیدائشی دل کی بیماریوں کی سرجری اور دل و پھیپھڑوں کی پیوندکاری میں تربیت لی، 1991 میں نیوکاسل کے فری مین ہسپتال سے وابستہ ہوئے اور 1995 میں کنسلٹنٹ کارڈیوتھوراسک سرجن بنے۔
اگلی دہائیوں میں وہ بچوں اور پیدائشی دل کے امراض کی سرجری میں ایک نمایاں شخصیت بن گئے۔ آخرکار وہ بچوں کی کارڈیک سرجری کے سربراہ بنے اور ہسپتال کے بچوں کے ٹرانسپلانٹ پروگرام کی قیادت کی۔ ان کی قیادت میں، اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر، نیوکاسل پیچیدہ پیدائشی دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج اور پیوندکاری کے لیے بین الاقوامی سطح پر پہچانا جانے لگا۔
جہاں طب کے جواب ختم ہو چکے تھے
ان کے کیریئر کو غیر معمولی بنانے والی چیز صرف آپریشنوں کی تعداد نہیں۔ اصل بات وہ بچے ہیں جن کے لیے روایتی طب کے پاس بظاہر کوئی جواب باقی نہیں رہا تھا۔
آصف اور ان کی ٹیم نے انتہائی پیچیدہ کیس اپنے ہاتھ میں لیے، جن میں وہ بچے بھی شامل تھے جنہیں دوسری جگہوں پر سرجری کے لیے بہت زیادہ خطرناک سمجھا گیا۔
انہوں نے نیوکاسل کے "برج ٹو ٹرانسپلانٹ" پروگرام کی قیادت میں حصہ لیا، جس میں برلن ہارٹ استعمال ہوتا ہے — ایک مشینی پمپ جو شدید بیمار بچے کے خون کی گردش کو اس وقت تک جاری رکھتا ہے جب تک کوئی موزوں عطیہ شدہ دل دستیاب نہ ہو جائے۔
ذرا اس کی اہمیت کا تصور کیجیے۔ ایک بچہ جس کا اپنا دل زندگی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اسے قیمتی وقت مل جاتا ہے۔ عطیہ کیے گئے دل کے آنے کا وقت۔ ایک نئے امکان کا وقت۔
آصف نے "بوٹ لیس کلوژر" نامی ایک تکنیک بھی متعارف کرائی — پیچیدہ ہارٹ ٹرانسپلانٹ کے بعد سینے کی ہڈی بند کرنے کا ایک طریقہ، خاص طور پر جب عطیہ شدہ دل بچے کے سینے کے لحاظ سے بڑا ہو۔
یہ طب اپنی انتہائی مشکل صورت میں ہے: جسم کی ساخت کی گہری سمجھ، سرجری میں جدت، غیر معمولی فیصلہ سازی، اور وہاں آپریشن کرنے کا حوصلہ جہاں غلطی کی گنجائش تکلیف دہ حد تک کم ہو۔ وہ لیورپول کے ایلڈر ہے چلڈرنز ہسپتال میں اعزازی کنسلٹنٹ کارڈیک سرجن رہے اور نیوکاسل یونیورسٹی میں اعزازی تعلیمی عہدے پر فائز رہے۔ وہ آغا خان یونیورسٹی سے کارڈیوتھوراسک سرجری میں وزیٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ رہے ہیں۔
اور ان کی خدمات صرف برطانیہ تک محدود نہیں تھیں۔
iqballatif.substack.com/p/62…
aaisha javed retweeted
🔴 “These are our people. We’re putting our own people in bags—just body parts.”
At least five Palestinians were killed in Israeli attacks across Gaza, including two in an airstrike targeting a vehicle in the Tel al-Hawa neighborhood, southwest of Gaza City, where Drop Site’s Mohamed Ahmed filmed Civil Defense crews recovering the victims' remains.
“Just body parts. That’s all that’s in this bag. These are our people,” Civil Defense worker Hamza Ayoub said, holding a bag containing human remains. “God is sufficient for us, and He is the best disposer of affairs.”
🔸 Elsewhere, a teenage girl was shot in the head and killed by Israeli forces in the Al-Faluja area of northern Gaza. An Israeli drone strike killed one Palestinian in the Nuseirat refugee camp in central Gaza, while another strike in western Khan Younis killed one person.
🔸 At least 13 Palestinians were also wounded in an Israeli drone strike in northern Gaza City, according to the Palestine Red Crescent.
🔸 Since October 11, 2025, the first full day of the so-called ceasefire, Israel has killed at least 1,538 Palestinians in Gaza and wounded 5,498.
🎥 Mohamed Ahmed
aaisha javed retweeted
KP Police has a legacy of unwavering bravery and sacrifice. The people of Khyber Pakhtunkhwa stand behind our brave police officers. This so called war against terrorism must come to an end. Our people deserve peace, not more bloodshed.
Rest in peace brave
#چوکیدار_راج_نامنظور
aaisha javed retweeted
لمبے لمبے سانس لیں ایک گلاس پانی پئیں اور غیر جانبدار ہونے کی کوشش کریں۔
سہیل آفریدی کیا کرتا؟ لانگ مارچ اٹک تک لے آتا پھر ؟ یہ لانگ مارچ کیسے ڈی چوک ، مریدکے یا راولا کوٹ سے مختلف ثابت ہوتا؟ ساٹھ ہزار اہلکار اسے روکنے کو تیار تھے۔ بیس تیس چالیس لوگ مارے جاتے اور ہوتا پھر بھی یہی سب۔
سات آٹھ دن لانگ مارچ چلتا رہا کیا کسی ایک بھی دن پنجاب میں کراچی میں سندھ میں کوئی ریلی کوئی احتجاج ہوا؟ کیا پنجاب کو بھی سہیل آفریدی نے روک رکھا تھا؟
جب سہیل آفریدی لانگ مارچ کررہا تھا تو تب سب خاموش کیوں تھے؟ اسکی گرفتاری کے بعد یہ سب کیں ہورہا ہے؟ تب جب کہ وہ جواب بھی نہیں دے سکتا۔
پلان اے بی سی ڈی کی ذمہ داری اس شخص کی کیسے ہے جو گرفتار ہوکر معلوم نہیں کن حالات میں ہے۔ جو باہر موجود ہیں سوال ان سے کیوں نہیں ہوتا؟ کیا یہ بھی اغواء کیے جانے کے بعد ایکسپوز کیے جائیں گے؟
کشمیر میں نوے ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ درجنوں لوگ آج بھی جیلوں میں ہیں۔ اس کے باوجود کشمیر آزاد نہیں ہوسکا۔ پاکستان کو ایک لانگ مارچ اٹک سے اسلام آباد پہنچ کر آزاد کروا دیتا؟
اگلی احتجاجی تحریک کی کیا کیا شرائط ہوں گی اور اسے کون کون کیسے کیسے لیڈ کرے گا کہ آپ لوگ اسے شک کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے؟
سہیل آفریدی نے بہت وقت ضائع کیا۔ کسی کی دلائی ہوئی آس پر بیٹھا رہا۔ تحریک انصاف کے اندر لے لوگ اسے حالات بہتر ہونے کی نوید سناتے رہے۔ اسے روکتے رہے۔ درست ہے۔ اڈیالہ نہیں جاتا رہا غلط کرتا رہا۔ درست ہے۔
میری رائے غلط ہوسکتی ہے۔ سہیل آفریدی کل کو غلط سائیڈ پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ میں کل کو کسی غلط سائیڈ پر ہوسکتا ہوں۔ لیکن فوج کی طاقت کو آپ بغیر طاقت دکھائے فوج کے خوف کو خوف دکھائے بغیر آپ سرنگوں نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے عوام کے اندر نفرت بہت ہے۔ فوج نااہل بہت ہے۔ لیکن عوام ابھی تک کسی منظم احتجاجی تحریک کے لیے تیار نہیں۔
حوصلہ بھی رکھیں اور ہاتھ ہولا بھی رکھیں۔ خود کو طویل جدوجہد کے لیے تیار کریں۔ اگر آپ معاشرے میں انفلوئنسر کا درجہ پا گئے ہیں تو اسے تعلیم و تربیت پر نیٹ ورکنگ پر اور آئیڈیاز پر صرف کریں ۔ اپنے دماغ پر اتنا بوجھ نا ڈالیں کہ وہ پچکا ہوا دکھائی دے۔
aaisha javed retweeted
گل صاحب
اس خیالی افسانے کو شئیر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں تو میرا ایک منتقی سوال ہے ! عوام میں کھوئی ہوئی مقبولیت واپس لانے کے لیے وزارت اعلی قربان کر کے خود کو نظر بند کروا دینا کہاں کا عقلی فیصلہ تھا ؟ اور اگر واقعی عہدہ قربان کر کے خود کو قید کروا لینا صرف عوامی مقبولیت کے لیے فائیدے کا سودا ہے تو اس آپشن پر آپ کبھی غور کر کے پاکستان جانے کا رسک لیں گے ؟ چلو فرض کر لیتے ہیں سہیل اسٹیبلشمنٹ سے ملا ہوا تھا تو بدلے میں سہیل کو جرنیلوں نے دیا کیا ؟ آنے والے الیکشن میں مقبول بنا کر جتوانے کا وعدہ ؟ وہ الیکشن جو تاحیات کی وفات کے بعد ہوں گے ؟ رہی بات افسران کو بلا کر یا اُن پر کیس وغیرہ کیوں نہیں کیے تو گل صاحب جب خان پر گولیاں چلی تھیں تو عمران خان کا وزیر اعلی تھا پرویز الہی اور خان صاحب ایک افسر پر FIR تک نہیں کروا سکے تھے ، تو سہیل کیسے اُن افسران کو اسمبلی بلاتا ؟ بلال سے گلہ نہیں وہ محبت عمران میں شاید اوورتھنک کر رہا ہے اور اپنے زہن میں پیدا ہونے والے سوالوں کے جواب خود بنا لیتا ہے بجائے تحقیق اور رابطے کے ، لیکن آپ تو ساری کہانی بھی جانتے ہیں اور حقایق سے واقف بھی ہیں پھر آپ کیوں ہمیں یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سہیل آفریدی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملا ہوا تھا ، سہیل عہدہ بچا لیتا تو شاید میں آپکے سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے کی کوشش کرتا ، لیکن اپنا سب کچھ گنوا کر طاقت وروں کے قبضے میں قید ایک شخص کا ساتھ دینے کے بجائے اُسے مشکوک بنانے کی حرکت کو انتہائی احسان فراموشی اور چھوٹا عمل سمجھتے ہوئے اس تمام سازشی تھیوری کو میں مسترد کرتا ہوں !
aaisha javed retweeted
مجھے یاد ہے کہ جب بھارت میں حجاب پر پابندی کا معاملہ سامنے آیا تھا تو ہمارا مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا انسانیت، اخلاقیات اور بنیادی انسانی حقوق پر ہمیں بھاشن دے رہا تھا۔ لیکن آج چونکہ معاملہ ایک مسلم برادر ملک اور دوست ملک آذربائیجان کا ہے، اس لیے ہمارے صحافیوں، مین اسٹریم میڈیا اور ہماری پالیسی میں ایک الگ ہی منافقت واضح نظر آتی ہے۔
حجاب پہننے پر پابندی لگا کر آپ بچوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں اور معصوم بچوں کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم کر رہے ہیں۔ لیکن مجال ہے کہ اس معاملے پر کسی کو انسانی حقوق یاد آ جائیں یا حجاب کی اس توہین کے خلاف کوئی آواز بلند کرے۔
آخر ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں اپنی پسند کے مطابق لباس پہننے اور تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ میں ان بچوں کے ساتھ کھڑا ہوں اور آپ سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ کم از کم ان معصوم بچوں کے حق میں آواز اٹھائیں۔
یہ ظلم ہے، یہ زیادتی ہے۔ ظالم چاہے دوست ہو یا دشمن، اگر وہ ظلم کرتا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ انسانی حقوق کا کوئی مذہب، سرحد یا سیاسی مفاد نہیں ہوتا۔ اصول ایک ہی ہونا چاہیے: ظلم جہاں بھی ہو، اس کے خلاف بولیں۔
aaisha javed retweeted
عوام کی منتخب حکومت ختم کرکے دہشتگردی ختم نہیں ہوگی اس کو بڑھاوا ملے گا۔۔گورنر ایڈوائزری کونسل بارسوخ اشرافیہ کے رشتہ داروں کا کلب ہے،موجودہ رجیم کے سرپرستوں کو سمجھنا چاہئے کہ عمران خان کی مزاحمت اور مقبولیت کو جبر سے ختم نہیں کیا جاسکتا، ملک بچانے کا واحد راستہ اڈیالہ کے قیدی سے مذاکرات اور ڈائیلاگ ہے،جتنی دیر ہوگی اتنا ہی پاکستان کا نقصان ہوگا۔۔


























