Mohib Alvi محب علوی retweeted
میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی دونوں قیادتوں، کو آصف زرداری ،بلاول بھٹو زرداری، میاں نواز شریف اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے یہ جو فیصلہ کیا ہے، تم نے جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ تم نے خیبرپختونخوا کے عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالا ہے۔ جس طرح آپ نے صوبے کو دلدل میں پھنسا دیا ہے، اس سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ جو تم اقدامات کررہے ہوں ، اس کو واپس لو۔ صوبے کے حقوق بحال کرو اور جو ہمارے جائز مطالبات ہیں، ان کو مانیں۔
میں اس موقع پر پھر بھی کہوں گا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ ہم بالکل یکسوئی کے ساتھ اپنی قانونی اور آئینی جنگ لڑیں گے۔ ہم کسی اشتعال میں نہیں آئیں گے۔ ہماری پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی جو فیصلہ کرے گی، ان شاء اللہ، اس کے مطابق ہم اپنا آئندہ لائحہ عمل دینگے۔
Mohib Alvi محب علوی retweeted
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
Mohib Alvi محب علوی retweeted
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
۔۔۔۔۔۔۔
ایران پارلیمنٹ کے اس رکن نے کہا ہے کہ ہمارے پڑوس میں کچھ ملک ایسے ہیں جو ثالثی کے دعویدار ہیں ،جب کہ ہمیں معلوم ہے ان کے لیڈروں کے ٹویئٹ بھی امریکی لکھتے ہیں
———
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا
Mohib Alvi محب علوی retweeted
Which is why 50% of the electricity bill is basically composed of capacity payments. Thanks to the shortsighted power policy.
Mohib Alvi محب علوی retweeted
ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہم تو صرف حکومتیں بناتے، گراتے اور الیکشن چراتے ہیں!
Mohib Alvi محب علوی retweeted
EMERGENCY TWEET!!!!!
DO NOT SCROLL DOWN WITHOUT RETWEETING/DONATING‼️
I'm in serious need for your help, my family is going through its WORST financial crisis, with risk of becoming homeless..we barely even have money for our daily meals.
chuffed.org/project/nermeen
Mohib Alvi محب علوی retweeted
میں 9 نمبر چونگی کے ساتھ ہی ہوں، جب یہاں سے نکلوں گا، میری بیٹی آمنہ ہاشمی میری گاڑی چلائے گی۔ میں کسی اور کو نہیں کہتا۔ مجھے یا اُسے گرفتار کریں، مجھے پروا نہیں۔
میں تو پوری رات مخدوم رشید میں نہیں تھا۔ لیکن ہماری نمبر ون ایجنسی کی عقلِ کُل کو داد دیں۔ ISI نے پورے شہر کو ہراساں کیا ہے۔ میرے اور میرے رشتہ داروں کے گھروں کے دروازے توڑے ہیں۔ چھتوں پر چڑھے ہیں۔ اسی دانش کے ساتھ یہ ملک چلا رہے ہیں!
Mohib Alvi محب علوی retweeted
Latest Tweet from @Kasim_Khan_1999:
“Currently, my Aunties are still abducted. Family and lawyers have received no update on how they are, nor why they are incarcerated. Concerning my father, there is complete silence.
My brother and I have had no contact with him for more than six months. We do not even know the true state of his health.
Meanwhile, thousands of Pakistanis are peacefully taking to the streets to protest against his illegal and politically motivated imprisonment.
However, the people of Pakistan have not given up. No barricade, intimidation or repression can muzzle the people’s demand for justice and their democratic right to be heard.
There can be no lasting peace or stability while their democratic will is suppressed and their chosen leader remains behind bars.”
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
Mohib Alvi محب علوی retweeted
"ایک شخص اتنا غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے کہ اس نے آئین اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کروا لیا لیکن اسکے باوجود جیل میں بیٹھے شخص سے خوفزدہ ہے، پاکستان میں بالکل آمریت والا ماحول ہے، صرف ایک شخص کی بالادستی قائم کرنے کیلئے آئین تبدیل کیا گیا، تینوں افواج کی طاقت ایک شخص میں مرتکز کر دی گئی تاکہ اسے ہر طرح کی سیکیورٹی ملے، ایسا کسی مہذب دنیا میں نہیں بلکہ صرف بادشاہت، مارشل لا، بنانا ریپبلک یا کسی افریقی ملک میں ہوتا ہو گا، جیل میں کسی بھی قیدی کا ملاقاتوں کا حق برقرار ہے اور پھر ایک ایسا قیدی جو ملک کا ہیرو ہے، وزیراعظم رہا، لوگوں کے دلوں میں سب سے مقبول لیڈر ہے اس کو تو بڑھ کر حقوق ملنے چاہیے تھے"
سینئر صحافی @ssimam01
@DRTPakistan
youtu.be/m_HSC7H8vEM
بھائی کچھ خدا کا خوف کریں، کچھ معدنیات نکل رہی ہیں مگر اس پر بات نہیں ہونی چاہیے۔ اس سے دہشت گردی جڑی ہے۔
خدارا! میرے اس ٹویٹ پر کوئی تبصرے نہیں آنا چاہیے۔
Mohib Alvi محب علوی retweeted
جب عدالتوں سے انصاف اٹھ جائے،
جب جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول لاگو ہو جائے،
جب قانون، پالیسی اور آئین ایک شخص کی باندی بن جائے،
جب موقع پرست سیاستدان کرسی کی حوس میں ہر غلط حکم پر بھی آمین کریں
جب حکمران اپنی عیاشیوں اور آسائشوں پر توجہ دیں اور عوام کے تمام حقوق صلب ہوجائیں تب یہی ہوتا ہے۔
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
Mohib Alvi محب علوی retweeted
یہ فاشسٹ نظام بس اتنا ہی طاقتور ہے کہ ایک معمر ترین سیاسی راہنما جاوید ہاشمی سے خوفزدہ ہے جو ایک ہاتھ کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں
جاوید ہاشمی گرفتاری سے نہیں ڈرتا اس لیے اس کے گھر کا دروازہ باہر سے بند کردیا ہے کیونکہ وہ لانگ مارچ کیلیے نکلنا چاہتے ہیں
یہ فرعونیت ، تکبر، جبر اور ظلم ہی اس وقت قوم کے زوال کی سب سے بڑی وجہ ہے
مجھے یاد ہے، میں چار پانچ سال بعد پاکستان آ رہا تھا۔ دوستوں نے کہا کوئی اور اچھی سی فلائٹ لے لو، مگر میں نے کہا نہیں یار، پی آئی اے پی لینی ہے۔ انہوں نے کہا سستی ہے اس لیے؟ میں نے کہا سستی کی بات نہیں، بات یہ ہے کہ مجھے اپنے ملک کا کھانا، اس کی خوشبو اور وہاں کے لوگ یاد آئے ہیں۔
جو شخص مسافر ہوتا ہے، اسے اپنی مٹی اور اپنا وطن ہمیشہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس نوجوان کو دیکھیں، کئی سال بعد ایئرپورٹ پر اترا اور کس مسکراتے چہرے سے یونیفارم میں ملبوس شخص کو دیکھ رہا ہے۔ لیکن جس فرعونیت اور تکبر سے اس نے اس کے سامان کو لات ماری، اندازہ لگائیں کہ اپنے اس رویے سے وہ لوگوں کے دلوں کو کتنی تکلیف پہنچا رہے ہیں۔
اب لوگوں کے گھر مسمار کرنا اور اٹھانا ہی فتح سمجھ لی گئی ہے۔ تمام صفات قابض گروہ والی ظاہر ہو رہی ہیں۔
فورسز، ایجنسیاں میری بیٹی کے گھر کے باہر موجود ہیں۔ پوری آبادی کو تم نے پریشان کیا ہوا ہے۔ لوگوں کا کیا قصور ہے؟
میرے داماد، بیرسٹر شاہزیب ہاشمی، کو انہوں نے پاکستان ٹاؤن کی مسجد میں جانے اور نماز پڑھنے سے روک دیا ہے۔ جتھوں کی صورت میں آئی ایس آئی اور فورسز موجود ہیں۔ میرے داماد شاہد بہار کے کمرے کے باہر بیٹھے ہیں۔ جو دیواریں، جو گھر یہ گرا کر گئے ہیں، ان کے اوپر یہ دندناتے پھر رہے ہیں، جیسے کوئی بڑی چیز فتح کر لی ہے۔
میرے رشتہ دار مخدوم شاہد ہاشمی جو شہر میں رہتے ہیں ان کو فیض ٹاؤن سے اٹھا لیا ہے۔
دوسروں کو انتشاری کہنا بند کرو، تم خود انتشاری ٹولہ ہو۔
"یہ" جیت نہیں سکتے اور "ہم" ہار نہیں سکتے!
یوتھیو ! میں ہر طرح کے حالات کا موازنہ ان خاموش شاموں سے کرتا ہوں جب زمان پارک کے باہر ایک رجسٹر رکھا ہوتا تھا۔ آنے جانے والوں کا ایک سپاہی اندراج کرتا تھا۔ لوگ پارٹی چھوڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر سب کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ جیسے سانپ اپنے شکار کے گرد خود کو لپیٹ کر کس لے۔ جیسے کوئی کمزور جانور مگرمچھ کے جبڑوں میں پھنس جائے۔
اگر آپ کو پڑھنا آتے ہوں تو یہ لائکس ، شئیرز اور ریچ جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ رحجان بتاتے ہیں۔ سوشل میڈیا یوزرز کا سیمپل سائز ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زیادہ ہے۔ یعنی ممکن ہے ووٹنگ ٹرن آوٹ اکثریتی آبادی کی رائے کا عکاس نہ ہو۔ ممکن ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اکثریتی رائے کی عکاسی نہ کریں ناممکن ہے۔
چند لوگ بچے تھے اور بھی ڈرے ڈرے سہمے سہمے۔ اب ہزاروں لوگ ہیں جو دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر۔ بہت سارے نقصانات اٹھائے ہوئے۔ نفرت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے اور آگ اگلتے ہوئے۔ اگر ہم اس خاموشی سے نکل آئے ہیں تو اب تو ہم طاقتور ہی بہت ہوچکے۔ دشمن کے چہرے پر ناکامیاں ہی بہت ملی جاچکیں ، جگہ جگہ پھنس چکے۔
ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں اور دشمن غلط سمت میں۔ ہماری جو کمزوریاں تھیں وہ ختم ہوتی جارہی ہیں اور دوسری طرف مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ وہ واپس نہیں مڑ رہے اور ہمارے قدم رک نہیں رہے۔ انکے آگے تباہی ہے اور ہمارے آگے کامیابی۔ ڈٹے رہے ، پر امید رہو اور چڑھ کے رہو۔ یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
Mohib Alvi محب علوی retweeted
میری نہ سہیل آفریدی سے کبھی ملاقات ہوئی، نہ کوئی بات چیت، مگر جس دلیری سے وہ اس مارچ کو آگے لے کر چل رہا ہے، یہ واقعی قابلِ دید ہے۔ میرے اسی میدان میں 60، 65 سال گزر گئے ہیں۔ سہیل جس دانشمندی سے آگے بڑھ رہا ہے، اس نے واقعی اسٹیبلشمنٹ کو پریشان کر دیا ہے۔
شاباش سہیل آفریدی!
@SohailAfridiISF
Imran Khan must be proud of his tiger
Mohib Alvi محب علوی retweeted
جتنے شہروں سے لانگ مارچ گزرے ایک آدمی کا کھانا ، دو آدمی کا کھانا ، دس لوگوں کا کھانا جتنی آپ کو توفیق ہو اتنا پکائیں اور ان لوگوں تک کھانا پہنچائیں۔
#سر_بکف_میدان_میں
Mohib Alvi محب علوی retweeted
جب آپ امچیور اور ناسمجھ لوگ سیٹوں پر بٹھاتے ہیں تو یہی رزلٹ نکلتا ہے۔۔محسن نقوی
جی بالکل ملکی لاء اینڈ آرڈر اور کرکٹ دیکھ کر آپ کی بات سچی لگتی ہے۔۔
Mohib Alvi محب علوی retweeted
رجیم چینج کے بعد پی ڈی ایم حکومت کے سامنے افغانستان سے طالبان کو واپس لانے کے منصوبے کو ڈی جی آئی اور آرمی چیف نے رکھا اور انہوں نے بغیر کسے چوں چرا کے لبیک کہا۔ وہی پلان جس پر عمران خان اور ہم نے ابسولوٹلی ناٹ کہا تھا۔ اگلے ہفتے افغانستان ایک وفد بھیجا گیا جس کو عوامی نمائندہ وفد کہا گیا۔ میں نے پریس کانفرنس میں سوال اٹھائے کہ منتخب اراکین میں سے کوئی نہیں گیا کس کو ہمارے فیصلے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے؟
جولائی ۲۰۲۲ کے آخری دن افغانستان سے طالبان کی پہلے تشکیل ہوئی۔اگست کے پہلے ہفتے میں جب سوات اور دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تو ہم نے مجبوراً عوامی طاقت سے ان کو واپس دھکیلا۔ پہلے آئ ایس آئی اور فوج نے دھمکیاں دیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ، پھر جب عوامی طاقت کے سامنے بے بس ہوئے تو مجھے الیونتھ کور،آئی ایس پی آر اور آیی ایس آیی سے فون کروایا کہ ”دیکھیں مراد صاحب وعدے کے مطابق آپ کا سوات کلییر ہوگیا ہے آپ نے باقیوں کو ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا”۔ٹھیکا تو ہم نے لے رکھا تھا، کہا جب تک یہ واپس نہیں جائیں گے مظاہرے جاری رہیں گے۔ اور ۱۶ اگست ۲۰۲۲ کو آخری بندہ بھی سرحد پار چلا گیا۔ آئ ایس پی آر نے اس کا کریڈٹ لیا۔ پریس ریلیز جاری کی۔
اس کے بعد تو امن ہونا چاہئے تھا ناں؟
سرحد پر باڑ لگی ہوئی تھی، سیکورٹی یقینی بنانی چاہئے تھی ناں؟
لیکن ستمبر ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پھر سے ان کو لانے کا انتظام کیا گیا۔ اس دفعہ دونوں جانب سے کالز موصول ہوئیں کہ سٹے آوٹ اف اٹ۔ ہم کیسے رُک سکتے تھے؟ ہماری تو زندگیوں کا سوال تھا۔ عوام کو موبلائز کیا پھر بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ پنڈی میں مظاہرہ کیا اور اگلے دن پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ فوج کی گاڑیاں آئیں، پولیس کو ہٹایا اور ان کو واپس افغانستان کی سرحد پر چھوڑ آئے۔ مجھے وارن کیا کہ یو ہیو کراسڈ دی لائن۔۔ کون سی لائن؟ امن قائم کرنا بھی فوج کی ریڈ لائن ہوگئی؟
پھر فیصلہ ہوا کہ مالاکنڈ والے تو آنے نہیں دے رہے لہذا جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے۔ یہ اطلاع ملتے ہی میں نے اسلام آباد میریٹ میں دہشت گردی کی واپسی اور نئی لہر کے عنوان سے میڈیا، تجزیہ نگاروں، سفارت کاروں، سابق پولیس افسران اور سیکورٹی ایکسپرٹس کے لیے سیمینار رکھا کہ پالیسی بدلیں ورنہ پھر جنازے اٹھیں گے۔ جنوبی اضلاع سے تحریک اٹھانے کا اعلان بھی کیا۔ پھر یوں ہوا کہ بغاوت، غداری، دہشت گردی کے مقدموں کے بعد سر کی قیمت بھی لگا دی اور یہ سب نو مئی سے پہلے ہوا۔ پھر اپنے مضموم مقاصد کی تکمیل کے لیے نو مئی کا سہارا لیا گیا۔
اب بجائے اس کے کہ اپنی غلط پالیسی پر معافی مانگ کر پختونخواہ اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں، علماء، طلباء، وکلاء، سول سوسائٹی، میڈیا ودیگر کے جرگے میں بنی پالیسی اپنا کر دنوں میں امن حاصل کیا جائے اپنی اسی ڈالری جنگ کا ایندھن اپنے جوانوں اور شہریوں کو بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان کی رہائی کے لیے شروع ہونے والا مارچ اب صرف عمران خان کی رہائی تک محدود نہیں رہا۔ واضح ہوا کہ جو میڈ اپ دہشت گردی لائی گئی اب ایک مرتبہ پھر آپ کو اس کا ایندھن بنانے کے لیے عمران خان کی حکومت صوبے میں ختم کرکے وہی کھیل شروع کرنا ہے۔
پورے پختونخواہ کو پیغام دو اگر بے گھری سے بچنا ہے۔ آئی ڈی پی کیمپس کی زندگی نہیں چاہئے، مارٹر گولوں، لڑاکا طیاروں اور توپ کی گولیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہتے۔ اپنے ہی گھر میں گلے میں شناختی پٹے ڈال کر چیک پوسٹوں پر ذلیل ہونے کے بعد، ان گھس بیٹھیوں کے اس سوال کا سامنا نہیں چاہتے کہ ”تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں کو جارہے ہو؟“ تو پوچھو کہ تم ہو کون ہمارے فیصلے کرنے والے؟ للکارو کہ ہم اپنے گھروں سے بے گھر نہیں ہوں گے۔ نکلو۔ کہ یہ لڑائ آج سے پہلے بھی صرف عمران خان کی نہیں تھی۔ اور آج تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ داؤ پر لگی یہ زندگیاں تمہاری ہیں۔ جیل میں بیٹھا عمران خان، تمہارے ووٹوں سے بنی اس کی یہ حکومت تو محض ان خون آشام درندوں کے مقابلے میں تمہاری آخری ڈھال ہیں۔























