Saba Satti (@UAS609) header
Saba Satti (@UAS609) profile picture

living the dream ❤️🤍 poetry✨️ Nature lover with a camera🏞🏜⛰️📷 Chaser of sunsets and wildflowers🌄🌷 dreamer & introvert😇🙌

Islamabad,Pakistan
Joined March 2021
Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)Photo by Saba Satti (@UAS609)
Saba Satti retweeted
شیکسپیئر کی سٹڈی
2
24
399
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ہارٹ اٹیک نہ ہو فالج نہ ہو ہائی بلڈ پریشر نہ ہو تو اپنے دل و دماغ کو حسد اور انتقامی جذبے سے خالی کر دیں انتقامی جذبہ ہر وقت آپ کے خون میں stress hormones کی مقدار زیادہ رکھتا ہے، جسکی وجہ سے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے، وہ خلیے جو لوتھڑے بناتے ہیں، وہ ایکٹیو ہو جاتے ہیں انتقامی جذبے کو اپنے دل سے نکال دیں، اگر آپ کے دل میں کسی رشتے دار، بہن بھائی کے حوالے سے کوئی بھی انتقامی جذبہ ہے کوئی خاندانی دشمنی ہے تو اسے نکال دیں ہم نے ہسپتالوں میں دیکھا ہے کہ جن افراد نے دل میں دشمنی پال کہ رکھی اس کا انجام اچھا نہیں ہوا وہ ذہنی طور پر جسمانی طور پر معذور ہو گئے اسلیئے اپنے دل کو انتقامی جذبے سے خالی کریں، آپ دیکھیئے گا کہ آپ کا دل کتنے بہترین طریقے سے دھڑکے گا اور آپ صحتمند زندگی گزاریں گے #WorldStrokeDay
3
43
216
6,027
Never skip breakfast. It is a slow killer. And it puts you at high risk of death from a heart disease. People who skip breakfast have a high risk of gaining weight, getting diabetes, high blood pressure, high fat stores, sudden heart attack, stroke and death.
1
6
75
1,924
اسلام آباد میں 2026 کے دوران اغوا ، جنسی زیادتی، ڈاکہ ، گاڑی چوری اور قتل کے واقعات کی تفصیلات اسلام آباد میں 74 قتل کے کیسز رجسٹر ہوئے اسلام آباد میں اغوا کے 491 کیسز رجسٹر ہوئے، جنسی زیادتی کے 177 کیسز رجسٹر ہوئے ڈکیتی کے 723 کیسز ، گاڑی چوری کے 70 کیسز رجسٹر ہوئے،
9
41
5
82
4,600
ستمبر کا بجلی کا بل عوام کو جو موصول ہوا ٹیکسز اور چارجز ملا کر 52. 90 روپے فی یونٹ پڑا ۔ حکمرانوں کے خرچے غریب عوام سےکیسے وصول کئے جا رہے ہیں۔
38
702
4
3,052
74,677
نوشہرہ میں ایک غریب رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کو لاپتہ ہوئے 45 دن گزر گئے، مگر باپ آج بھی اپنی بیٹی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خاندان پولیس سے مدد کا مطالبہ کر رہا ہے اور پولیس کے کردار سے متعلق بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ سوال صرف ایک بچی کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا ہے۔ اگر ایک غریب باپ کی بیٹی 45 دن تک لاپتہ رہے اور اسے انصاف کے لیے بھی دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، تو پھر عام شہری آخر کس کے پاس جائے؟ حکام فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کریں اور بچی کو بحفاظت بازیاب کرائیں ۔۔۔۔۔۔
91
2,438
45
3,332
36,052
Saba Satti retweeted
پاکستان میں اے آئی انقلاب آ چکا ہے بیٹا باپ کو اے آئی سے طریقہ پوچھ کر زہر دے رہا تھا یہ تو بھلا ہو اس باہر کے اے آئی پلیٹ فارم کا جس نے مخبری کر کے بیٹا گرفتار کروا دیا
20
197
2
877
42,288
ھم واٹر بیٹری تیزاب کمپنی والوں کو أگاہ کرتے ھیں کہ وہ سفید پانی واٹر بوتل کی مطابقت رکھنے والی پیکنگ کو ختم کرکے کسی اور رنگ کی بوتل پیکنگ کریں کیونکہ ہر گھر میں سولر بیٹری سسٹم چل رہا ھے بچے یا بڑے انجانے میں اس کو واٹر سمجھ کر استعمال نہ کر لیں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے
16
47
3
154
3,120
Saba Satti retweeted
پٹرول کی روزانہ بڑھتی قیمتوں کے ساتھ اشیائے صرف بھی مہنگی ہو رہی ہیں۔ حکومت کا 2 ہزار روپے کا ریلیف عوام کے ساتھ بھونڈے مذاق سے زیادہ کچھ نہیں؛ عام آدمی اس سے روزانہ صرف تقریباً دو نان ہی خرید سکتا ہے۔ عوام کو خیرات نہیں، مہنگائی میں حقیقی کمی چاہیے!
15
81
6
316
3,737
پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔حکومت کو شاید اعداد و شمار میں چند روپے کا اضافہ نظر آتا ہے لیکن عوام کو اس کے بعد ہر سفر، ہر چیز اور ہر گھر کا بڑھتا ہوا خرچ نظر آتا ہے۔ تنخواہیں وہیں، آمدن وہی، مگر پٹرول پھر مہنگاآخر عوام کب تک یہ بوجھ اٹھائیں گے ؟؟
27
166
10
519
5,982
Saba Satti retweeted
اگر ’’سمارٹ پٹرولیم لاک ڈاؤن‘‘ کی خبر درست ہے تو حکومت ایک سنہرا موقع پھر ضائع کر رہی ہے۔ بحران کا بوجھ اسکول، یونیورسٹیاں، دفاتر اور کاروبار بند کرکے عوام پر ڈالنے کے بجائے کفایت شعاری وزیراعظم ہاؤس، وزرائے اعلیٰ، کابینہ اور بیوروکریسی سے شروع ہونی چاہیے۔ سرکاری افسران کا مفت پٹرول، غیرضروری گاڑیاں، سرکاری رہائش گاہوں کی مفت بجلی، شاہانہ پروٹوکول اور بے قابو انتظامی اخراجات مستقل طور پر محدود کیے جائیں۔ قوم سے قربانی مانگنے سے پہلے حکمران اشرافیہ اپنی مراعات قربان کرے بچوں کی تعلیم اور لوگوں کا روزگار نہیں۔ بحران میں اصل قیادت دفاتر بند کرنا نہیں، ریاستی عیاشی کے ہر دروازے کو ہمیشہ کے لئیے بند کرنا ہے۔
25
153
9
396
10,841
Saba Satti retweeted
پٹرول روزانہ مہنگا ہو، سمارٹ لاک ڈاؤن لگے یا عوام کو ریلیف کے نام پر چند ہزار روپے کا بینیفٹ ملے۔ مگر فری پٹرول کی سہولت کسی صورت ختم نہیں ہو گی۔ عوام پر ہر بوجھ جائز، اشرافیہ کی ہر سہولت مقدس 🤷‍♂️
42
311
12
870
6,531
پیٹرول کی ناقابلِ برداشت قیمتیں اور اسکا دیگر اخراجات پر اثر انداز ہونا عام عوام کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر رہا ہے ۔ ایسے میں کم از کم ٹرانسپورٹ کا خرچہ کنٹرول کرنے کے لئے کم تنخواہ دار طبقے کو ورک فرام ہوم اور بچوں کےonline سکول کی سہولت دینی چاہئے ۔ پرائیویٹ اور پبلک دونوں سیکٹرز میں ۔
107
269
18
1,055
33,692
Saba Satti retweeted
کل دنیا میں اس لڑکے Jacob Coxon نے زلزلہ برپا کر دیا ہے یہ دنیا کے بڑے AI اداروں سے منسلک رہا AI ریسرچر ہے اس نے استعفی دیا اور بتا دیا کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں دنیا میں تباہی لانے کا سبب بنے جا رہی ہیں اس کا کہنا ہے کہ AI کمپنیاں جو super intelligent ماڈل بنا رہے اور خدشہ ہے جلد AI خودمختار ہو جائیں گے وہ کچھ بھی ہیک کر سکیں گے بائیو ویپن سے ایٹمی ہتھیاروں تک پر کنٹرول کر سکتے اور ایک دہائی سے کم میں انسانیت کو ہم سب کو مار سکتے ہیں آپ دیکھیں دنیا میں کیسے کیسے ہیروز موجود جو ذاتی مفاد چھوڑ کر وسل بلو کرتے ہیں
Former Anthropic employee Jacob Coxon says the AI industry is "gambling with our lives." He tells Anderson what he finds "most scary is if AI is used to make itself more intelligent" and warns these companies are "compelled to race toward building a deadly technology."
37
1,016
10
2,209
93,404
Saba Satti retweeted
🚨🚨اللہ اس حکومت کو ہمیشہ کے لیے غرقاب کرے فرعونوں نے آج پیٹرول چار روپے اور ڈیزل سات روپے لیٹر کر دیا ہے اب پیٹرول 368 روپے لیٹر اور ڈیزل 392 روپے لیٹر ہے غریب تو پہلے مر چکے اب تو مڈل کلاس ورکنگ کلاس بھی مکمل تباہ ہو چکی ہے اللہ ان ظالموں کو جلد انجام تک پہنچائے آمین
87
460
26
1,422
15,037
انڈونیشیا میں موجود دوست مدد کریں۔۔۔ ایک بہن سمیرا صاحبہ نے رابطہ کرکے بتایا کہ انکا والد پاکستانی اور والدہ انڈونیشیا کی ہے۔ والد ملک مسعود صادق انڈونیشیا میں تھے۔ وہاں انڈونیشین خاتون سے نکاح کیا۔ سمیرا پیدا ہوئی ۔ وہ ایک سال کی تھی والد بیٹی اپنے ساتھ پاکستان لائے۔ سمیرا نے جب ہوش سنبھالا تو ماں کو نہیں پایا۔ اسے بتایا گیا کہ انکے ویزے کا مسئلہ ہوگیا تھا کچھ عرصہ فون پر رابطہ رہا۔ پھر کوڈ چینج ہونے کی وجہ سے رابطہ کٹ گیا۔ والدین کا کا نکاح نامہ موجود ہے ۔ اسمیں والدہ کا نام اور ایڈریس موجود ہے۔ Ulivah D/O Markasim Address: Panceng Gresik Regency, East Java . سمیرا کا کہنا ہے کہ میری عمر ابھی 23 سال ہے۔۔والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ میں اپنی والدہ کے لئے بہت زیادہ سوچتی ہوں۔ وہ کیسی ہوگی؟ کہاں ہوگی؟ میرے لئے کتنا روئی ہوگی۔ دل بہت چاہتا ہے کہ ان کو دیکھ لوں وہ مجھے دیکھے۔ ملاقات کریں۔ ایک بیٹی کو ماں سے ملانے کے لئے آپ تمام قارئین سے اپیل ہے کہ اپنا حصہ ضرور شامل کریں۔۔اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ انڈونیشیا میں موجود پاکستانی کمیونٹی تک یہ پوسٹ پہنچائیں۔ کسی بھی اطلاع کے لئے ہمارے فون نمبر پر وٹس ایپ کریں +923162529829 2 sep 2026 #waliullahmaroof
8
524
1
647
17,221
Saba Satti retweeted
جنکے بچے چھوٹے وہ یہ دیکھ لیں بنٹی ، بسکٹ ، ٹافیاں کسی حال میں بچوں کو نا دیں ان کی فیکٹری کا حال چیک کر لیں بچوں کو زہر کھلا رہے وہ بھی پیسے لے کر مشکل کام ہے ناممکن نہی بچوں کو ہیلدی سنیک جیسے پھل سبزیاں دیں یا پھر گھر پر کچھ بنا دین ۔زندگی کا معاملہ ہے
31
890
12
1,704
47,995
Saba Satti retweeted
راولپنڈی میں بارش رکے ہوئے 10 گھنٹے ہوگئے لیکن راول روڈ ابھی بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے، ٹریفک بڑی طرح متاثر ہے۔
11
58
5
114
3,915
Saba Satti retweeted
چند ماہ پہلے ایک عزیزہ کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی سارا عمل خیر و خوبی مکمل ہوا لیکن اُسکے بعد دو تین مسلسل پیٹ درد محسوس ہونے پر دوبارہ ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے بتایا کہ آپ پریشان نہ ہوں سب کچھ نارمل ہے لیکن شاید آپکو گیس کا مسئلہ ہو رہا ہے جس وجہ سے یہ درد ہے لیکن چونکہ سی سیکشن کے دوران ڈاکٹرز کی لاپرواہی کی خبریں بھی کئی بار سنی جا چکی ہیں لہذا بہتر یہی سمجھا گیا کہ اپنی تسلی کیلیئے کسی دوسری ڈاکٹر کو بھی ایک مرتبہ چیک کروا لیا جائے لہذا گجرات کی ایک مشہور لیڈی ڈاکٹر کے پاس گئے جس نے اُن کا چہرہ دیکھتے ہی بھانپ لیا کہ اُن میں ہیموگلوبن کی اس قدر شدید کمی ہو چکی ہے کہ اب خون کی بوتلیں لگوائے بغیر یہ کمی فوری پوری نہیں ہو سکتی ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ایچ بی سات تک آ چکا ہے لیکن پھر بھی بہتر ہے کہ بلڈ ٹیسٹ کروایا جائے وہ اس بات پر بھی حیران ہوئیں کہ اتنی کمی کے باوجود خود چل کے کیسے کلینک تک آئیں لہذا نرس کو کہا کہ بچی سے خود چلنا تو ممکن نہیں ہو گا اسے بڑی احتیاط اور آرام سے بیڈ پر لٹاؤ اور بلڈ سیمپل لو لیکن اُن لوگوں نے بڑی سہولت سے بیڈ تک جانے سے انکار کرتے ہوئے خود لیبارٹری میں جا کر ٹیسٹ کروانے کو ترجیح دی اور اُن کے ہاسپٹل میں ہی موجود لیبارٹری سے بلڈ ٹیسٹ کروا کے رپورٹ لی تو واقعی ڈاکٹر صاحبہ کا تجربہ سو فیصد نکلا کہ ہیموگلوبن کی مقدار تو واقعی صرف سات رہ گئی تھی پھر پریشانی تو ہوئی لیکن اسکے باوجود وہ ایڈمٹ ہونے کے بجائے وہاں سے نکلے اور اُسی ڈاکٹر کے پاس جا کر رپورٹ دکھائی جہاں بچے کی ولادت ہوئی تھی وہ ڈاکٹر پہلے حیران ہوئی لیکن پھر خیال کیا کہ شاید یہی سچ ہو لیکن ظاہر ہے کہ اُن کے دل کو اطمینان نہ ہوا لہذا ایک دو اور جگہوں سے بلڈ ٹیسٹ کروایا جہاں ہیموگلوبن تقریباً بارہ تک شو ہو رہا تھا جو ظاہر ہے کہ بالکل نارمل ہے اب آپ اُس ذہنی تکلیف کا اندازہ کیجئے جہاں ایک ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق فوری طور پر خون کی بوتلیں لگوائی جائیں اور دوسری کے مطابق سب پرفیکٹ ہے ایسے میں ایک انسان جسے بیماری میں خدا کے بعد ڈاکٹر ہی سے امید ہوتی ہے کہ وہاں جانے سے کچھ بہتری ہو سکے گی وہ کرے تو کیا کرے؟ جائے تو کہاں جائے ؟ اور بھروسہ کرے تو کس پر ؟ خیر ، پھر ہوا یوں کہ دوسری لیب انچارج کے پاس اُسی ڈاکٹر کی رپورٹ لے کر گئے کہ اس رپورٹ میں اور آپکی رپورٹ میں اس قدر فرق کیوں ہے ؟ اور ان میں سے کس کو درست سمجھا جائے “ سر ، ہم اپنی رپورٹ کی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں اور آپ کے کہنے پر میں ایک مرتبہ پھر چیک کروا لیتا ہوں” وہاں موجود ذمہ دار نے کہا لیکن دوسری مرتبہ بھی وہی کہ ایچ بی بارہ تک ہی تھا لہذا اُسکے بعد رُخ اُن ڈاکٹر صاحبہ کی لیبارٹری کی طرف کیا گیا جنکے مطابق ایچ بی صرف سات رہ چکا تھا اور دوسری رپورٹس دکھا کر پوچھا گیا کہ ان میں فرق کی کیا وجہ ہے جس پر یہ افسوسناک انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر صاحبہ کی مشینیں خراب ہیں اور اُنہوں نے کہہ رکھا ہے کہ مریضوں کا ایچ بی صرف سات سے آٹھ یا زیادہ سے زیادہ نو تک ہی لکھا جائے یعنی اُنکی رپورٹ تسلیم کر کے اُسی وقت خون لگوا لیا جاتا ، ہاسپٹل کے چارجز اُنکی جیب میں جاتے اور مریض کا کیا ہے بیمار ہو گا تو جائے گا کہاں آخر کو پھر وہیں آئے گا اور یہ کسی نئے طریقے سے اُسے لوٹنے کا بندوبست کئے بیٹھی ہوں گی جی ہاں ، یہ ہیں ہمارے وہ کچھ ڈاکٹرز ، جو باقی تمام نیک دل ڈاکٹرز کا بھی امیج خراب بلکہ برباد کر رہے ہیں اور جو بچپن میں اپنی کاپیوں پر ضرور لکھتے ہوں گے “ میں بڑی ہو کر ڈاکٹر بنوں گی / گا ، اور انسانیت کی خدمت کروں گی / گا “ پوسٹ لکھنے کا مقصد گجرات بلکہ ملک بھر کے رہائشی افراد کو آگاہی دینا تھا کہ کسی بھی اسپتال میں ڈاکٹر کے کہنے پر انکی لیب سے جب بھی کوئی رپورٹ کروائیں اور خدانخواستہ کوئی پریشانی کی بات ظاہر ہو تو کراس چیک کیلیئے کسی دوسری جگہ سے بھی ضرور کنفرم کر لیں کیونکہ آج کے دور میں فرض اور انسانیت ، پیسے کے سامنے ہار چکے ہیں ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ! منقول انتخاب #آفاق_سومرو
16
107
1
289
28,497
Saba Satti retweeted
I need this bedside robot.
25
180
18
858
133,231